ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسمارٹ چشموں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم عوامی مقامات پر ان کے ذریعے خفیہ ویڈیو اور تصاویر بنانے کے خدشات نے پرائیویسی اور ہراسانی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسمارٹ چشموں کے ذریعے صارفین ہاتھ استعمال کیے بغیر فون کالز، موسیقی اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے رابطے کے علاوہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے اسمارٹ چشمے: اب تک کیا معلومات سامنے آئی ہیں؟
مارکیٹ میں میٹا اور رے بین کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ چشمے نمایاں ہیں، جن کے 70 لاکھ سے زائد جوڑے فروخت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 800 پب چلانے والے ادارے ویترسپونز نے اپنے مقامات کے اندر ان چشموں کے ذریعے فلم بندی پر پابندی عائد کردی ہے۔
🤯 Invasive
Meta remotely bricked the cameras on thousands of glasses after people drilled out or covered the recording light.
If you paid someone to turn them into hidden cameras, you were never “capturing memories.”
You were being a creep. Good. pic.twitter.com/1DZdJEUPoA
— Gina Beana Fofina (@Ginasassyass) September 7, 2026
ادارے کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خفیہ نگرانی ممکن ہے، جو عام فہم اصولوں کے خلاف ہے۔
شمالی آئرلینڈ میں کامک کون کے منتظمین نے بھی خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات کے باعث ان چشموں پر پابندی عائد کی ہے۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے مطابق عام کیمرے یا موبائل فون سے ریکارڈنگ کے دوران متاثرہ شخص کو عموماً اندازہ ہوجاتا ہے، لیکن اے آئی کیمرہ سے لیس چشموں کے ذریعے کسی کو علم ہوئے بغیر ریکارڈنگ ممکن ہے۔
اپ اسکرٹنگ، ہراسانی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
🇳🇴 Norway is considering a ban on so-called Meta “pervert glasses” with built-in cameras that can record people without them knowing.The govt is concerned about privacy risks
“We must prevent this equipment from being used to monitor other people in public places.”
🤖 @techdaily pic.twitter.com/e6IRyM7Icr— Anders🦁🥋⚽🎮🏞️🌵🏜️🏕️ (@Andersj822010) September 6, 2026
دوسری جانب مواد تخلیق کرنے والے افراد اس ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
بیلفاسٹ کے 31 سالہ پرائس ویلی اپنے اسمارٹ چشموں سے سڑکوں پر لوگوں سے دوستانہ گفتگو کی ویڈیوز بناتے ہیں، جن میں سے ایک ویڈیو کو ٹک ٹاک پر 6 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ چشمے بصارت سے محروم افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کے تیز رفتار پھیلاؤ کے ساتھ پرائیویسی، رضامندی اور قانونی تحفظ کے واضح ضوابط کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔














