اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت پہلے ہی مختلف سماجی اور ثقافتی خدشات سے گھری ہوئی ہے لیکن اب ایک نئی ٹیکنالوجی نے پرائیویسی اور عزت نفس کے حوالے سے ایک اور اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ چشمے نابینا افراد کی زندگیاں بدل رہے ہیں لیکن شرپسند عناصر یہ سہولت چھیننے کے درپے

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق میٹا کے نئے اسمارٹ چشمے بظاہر عام رے بین چشموں جیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان میں کیمرا، مائیکروفون، اسپیکر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون شامل ہے۔ یہ چشمے پہننے والا شخص اپنے اردگرد موجود مناظر کو ریکارڈ کرسکتا ہے، نجی گفتگو محفوظ کرسکتا ہے اور ایک بٹن دبانے سے ویڈیو براہِ راست نشر بھی کرسکتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اسمارٹ فون کے برعکس ان چشموں سے کسی دوسرے شخص کے لیے یہ اندازہ لگانا کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے کہ اسے ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

’پرورٹ گلاسز‘ کیوں کہا جارہا ہے؟

دنیا کے بعض حصوں میں میٹا کے اسمارٹ چشموں کو ’پرورٹ گلاسز‘ یعنی ’بدکرداروں کے چشمے‘ جیسے نام سے بھی پکارا جانے لگا ہے۔ اس نام کی وجہ چشموں کا ممکنہ غلط استعمال ہے۔

اسمارٹ فون سے کسی کی ویڈیو بناتے ہوئے عموماً فون اٹھانا، کیمرے کا رخ کرنا اور ریکارڈنگ شروع کرنا واضح ہوتا ہے لیکن اسمارٹ چشموں میں کیمرا آنکھوں کی سطح پر موجود ہوتا ہے جبکہ پہننے والا بظاہر صرف چشمہ پہنے ہوئے نظر آتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان چشموں سے بنائی جانے والی ہر ویڈیو بدنیتی پر مبنی ہوتی ہے۔ کوئی شخص اپنی سالگرہ، بچوں کی کھیل کود، دوست کے ردِعمل یا چھٹیوں کے مناظر ریکارڈ کرنے کے لیے بھی انہیں استعمال کرسکتا ہے۔

لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پس منظر میں موجود کسی شخص کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کیمرا اس کی طرف ہے۔

چشمے میں ریکارڈنگ لائٹ تو ہے مگر کیا یہ کافی ہے؟

میٹا نے چشموں میں ایک چھوٹی سی روشنی رکھی ہے جو کیمرا استعمال ہونے پر روشن ہوجاتی ہے۔

تاہم جس شخص کو اس روشنی کے مقصد کا علم ہی نہ ہو اس کے لیے عام چشمے کے کنارے پر موجود ایک چھوٹی ایل ای ڈی اس بات کی واضح علامت نہیں کہ اسے ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

اسمارٹ فون کے برعکس یہاں کوئی ایسا واضح اشارہ بھی نہیں ہوتا، جیسے کسی شخص کا فون اٹھا کر آپ کی طرف کرنا، جس سے اندازہ ہوسکے کہ کیمرے کا رخ آپ کی جانب ہے۔

مزید پڑھیے: آسٹریلیا کا اسمارٹ چشموں پر تشویش کا اظہار، نئے رازداری قوانین بنانے پر زور

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر ایسے طریقے بھی موجود ہیں جن کے ذریعے ریکارڈنگ کی اس روشنی کو ڈھانپنے یا غیر فعال کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں، جس سے خفیہ ریکارڈنگ کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں میٹا نے چشمے لانچ نہیں کیے پھر بھی دستیاب ہیں

میٹا نے ابھی تک یہ اسمارٹ چشمے پاکستان میں باضابطہ طور پر لانچ نہیں کیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی صارفین ان تک رسائی نہیں رکھتے۔

پاکستان میں آن لائن فروخت کرنے والی ویب سائٹس پر یہ چشمے پہلے ہی دستیاب نظر آتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر ان کی قیمت ایک لاکھ 26 ہزار 899 روپے جبکہ دوسری پر ایک لاکھ 21 ہزار 999 روپے درج کی گئی ہے۔

یوں باضابطہ لانچ، ضابطہ کار یا کسی واضح عوامی بحث کے بغیر ایک جدید ریکارڈنگ ٹیکنالوجی پاکستانی صارفین تک پہنچ رہی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی ایک ایسے معاشرے میں آنے کے بعد کیا صورت اختیار کرے گی جو پہلے ہی غیر رضامندانہ تصاویر اور ویڈیوز، بلیک میلنگ اور سائبر ہراسانی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

خواتین کے لیے خطرہ صرف پرائیویسی تک محدود نہیں

پرائیویسی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ چشمے عوامی اور نجی زندگی کے درمیان موجود حد کو مزید دھندلا سکتے ہیں۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے بھی کم عمر افراد کی خفیہ ریکارڈنگ کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے ایسے آن لائن رجحان کی جانب توجہ دلائی ہے جس میں بعض مرد خواتین کے ساتھ ہونے والی گفتگو یا ملاقاتوں کو ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرکے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟

یہ ٹیکنالوجی ایسے رویوں کو جنم نہیں دیتی، لیکن خفیہ طور پر ریکارڈنگ کرنا ضرور آسان بنا سکتی ہے۔

پاکستان جیسے معاشرے میں اس کے نتائج محض پرائیویسی کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہ سکتے۔

کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کو اس کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے، اسے بلیک میل کیا جاسکتا ہے، ہراساں کیا جاسکتا ہے، سماجی طور پر تنہا کیا جاسکتا ہے اور انتہائی سنگین حالات میں اس کے نتیجے میں تشدد کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس شخص نے ریکارڈنگ کی اسے معلوم ہوتا ہے کہ کیمرا کب چل رہا ہے لیکن جس شخص کو ریکارڈ کیا جارہا ہے ممکن ہے اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کیمرا موجود ہے۔

ماضی میں تصاویر اور ویڈیوز کے خطرناک نتائج

پاکستان میں کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کو عزت اور کردار کے سوال سے جوڑنے کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

سنہ2011  میں کوہستان کے ایک مبینہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے معاملے میں 5 خواتین کے بارے میں رپورٹس سامنے آئیں کہ شادی کی ایک تقریب میں گانے اور تالیاں بجانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں مرد رشتہ داروں نے قتل کردیا تھا۔ سنہ 2019 میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ دستیاب شواہد ان خواتین کے قتل کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

سنہ2020  میں شمالی وزیرستان میں ایک مرد کے ساتھ 2 لڑکیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 2 کم عمر لڑکیوں کے قتل کا واقعہ رپورٹ ہوا۔

اسی طرح سنہ 2023 میں ایک لڑکی کو قتل کردیا گیا جبکہ دوسری کو پولیس نے بچا لیا جب ایک جرگے کی جانب سے گاؤں کے 2 لڑکوں کے ساتھ ویڈیو میں نظر آنے پر ان کے قتل کا حکم دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے

یہ واقعات اس بات کی سنگینی واضح کرتے ہیں کہ ایسے معاشرے میں جہاں کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کو اس کے کردار اور ’عزت‘ سے جوڑ دیا جائے، خفیہ کیمروں تک آسان رسائی کس قدر خطرناک ہوسکتی ہے۔

خفیہ ویڈیو اور بلیک میلنگ کا ایک معروف مقدمہ

پاکستان میں سائبر بلیک میلنگ اور غیر رضامندانہ ویڈیوز کے مسئلے کی ایک نمایاں مثال اسلام آباد کا عثمان مرزا کیس بھی ہے۔

اس مقدمے میں ایک نوجوان جوڑے کو ایک گیسٹ ہاؤس میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے، ان کی ویڈیو بنانے اور بعد میں اس ویڈیو کو بلیک میلنگ اور تذلیل کے لیے استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرے میں کسی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد بدنامی اور شرمندگی کا بوجھ مرد اور عورت پر ہمیشہ یکساں نہیں ڈالا جاتا۔

اکثر خاتون کے کردار، شہرت اور عزت کو زیادہ سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے پہلے کہ یہ پوچھا جائے کہ اس کی ویڈیو کس نے بنائی، کیوں بنائی اور اسے کس طرح استعمال کیا گیا۔

اسی لیے خفیہ ریکارڈنگ کو آسان بنانے والی ٹیکنالوجی پاکستانی خواتین کے لیے نسبتاً زیادہ سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

روزمرہ کا ایک معمولی لمحہ بھی ریکارڈ ہوسکتا ہے

ذرا تصور کریں کہ ایک خاتون شادی کی تقریب میں رقص کررہی ہوں، چند خواتین کسی ریستوران میں بیٹھی گفتگو کررہی ہوں، کوئی خاتون سڑک پر اپنا دوپٹہ درست کررہی ہوں یا کسی خاتون کی کسی مرد سے بات چیت ہورہی ہو۔ اگر اسے خفیہ طور پر ریکارڈ کرلیا جائے اور بعد میں ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر استعمال کیا جائے تو ایک معمولی لمحہ کسی خاتون کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

فون سے ریکارڈنگ کے لیے عموماً کیمرا ہاتھ میں اٹھانا پڑتا ہے لیکن اسمارٹ چشمے پہننے والا شخص صرف سامنے دیکھتا ہوا نظر آسکتا ہے جبکہ کیمرا مسلسل اس کی نظر کے رخ پر موجود ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایپل کے اسمارٹ چشمے: اب تک کیا معلومات سامنے آئی ہیں؟

خطرہ یہ نہیں کہ ہر ویڈیو کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ جس شخص کی ویڈیو بنائی گئی ہے اسے شاید اس وقت تک اس کے وجود کا علم ہی نہ ہو جب تک کوئی دوسرا شخص فیصلہ نہ کرلے کہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

لاکھوں خواتین سائبر جرائم کا سامنا کرچکی ہیں

گزشتہ 5 برس کے دوران پاکستان میں تقریباً 18 لاکھ خواتین سائبر جرائم جن میں ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے جرائم شامل ہیں کا شکار ہوئی ہیں جبکہ تقریباً 225 ملزمان کو سزا مل سکی ہے۔ مجرموں کو سزا ملنے کی شرح تقریباً 3.5 فیصد ہے۔

اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ صورتحال صرف متاثرہ خواتین کو انصاف سے محروم نہیں کرتی بلکہ ایسے مجرموں کے لیے بھی ایک خطرناک ماحول پیدا کرتی ہے جہاں انہیں قانون کی گرفت میں آنے کا خوف کم محسوس ہوسکتا ہے۔

اگر چشمے سے ریکارڈنگ ہوئی تو ذمہ دار کون ہوگا؟

اسمارٹ چشموں کا معاملہ ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتا ہے اور وہ ہے قانونی ذمہ داری اور دائرہ اختیار۔ اگر پاکستان میں کسی خاتون کو ایسے چشمے سے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جاتا ہے جو کسی آن لائن فروخت کنندہ سے خریدا گیا ہو تو شکایت کے بعد ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

کیا ذمہ دار چشمہ پہننے والا شخص ہوگا، کیا آن لائن فروخت کنندہ جواب دہ ہوگا، میٹا سے سوال کیا جائے گا یا پھر اس پلیٹ فارم کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا جہاں ویڈیو اپ لوڈ کی گئی؟

یہ بھی سوال ہے کہ اگر ٹیکنالوجی امریکا میں تیار ہوئی اور چشمہ کسی دوسرے ذریعے سے پاکستان پہنچا اور ویڈیو پاکستان میں بنا کر کسی عالمی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کردی گئی تو قانونی کارروائی کا دائرہ کہاں تک جائے گا؟

ٹیکنالوجی آگئی، کیا قانون بھی تیار ہے؟

پاکستان شاید میٹا کے اسمارٹ چشمے درآمد کررہا ہے لیکن ان کے ساتھ آنے والا قانونی اور حفاظتی نظام لازماً درآمد نہیں ہوا۔

ملک میں پہلے سے موجود موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والی بلیک میلنگ، نجی تصاویر کے غیر رضامندانہ پھیلاؤ اور سائبر ہراسانی جیسے مسائل سے نمٹنا ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ایسے میں ایک ایسی ٹیکنالوجی جو کسی شخص کو تقریباً غیر محسوس انداز میں ویڈیو بنانے کے قابل بناتی ہے نئے سوالات پیدا کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں بھی میٹا کو اپنے اسمارٹ چشموں سے متعلق پرائیویسی کے معاملات پر قانونی جانچ پڑتال کا سامنا رہا ہے جہاں رضامندی، صارفین کے ڈیٹا کے استعمال اور کمپنی کی ذمہ داری جیسے معاملات زیر بحث آئے ہیں۔

اگر کسی خاتون کی خفیہ ویڈیو بنائی گئی تو وہ کہاں جائیں گی؟

یہ سوال شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔

اگر پاکستان میں کسی خاتون کو میٹا کے اسمارٹ چشمے سے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا گیا تو وہ کس قانون کے تحت تحفظ حاصل کرے گی، کس کے خلاف مقدمہ کرے گی، ویڈیو ہٹانے کی ذمہ داری کس پر ہوگی، اگر ویڈیو وائرل ہوگئی تو اسے ہٹانے میں کتنا وقت لگے گا اور اگر اس ویڈیو کے نتیجے میں کسی خاتون کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ گیا تو اسے کون واپس لائے گا؟

ٹیکنالوجی کے ماہرین اور قانون سازوں کے لیے یہ سوالات اس وقت زیادہ اہم ہوجاتے ہیں جب ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے آلات عام صارفین کی پہنچ میں آتے جارہے ہیں۔

کیونکہ کسی ویڈیو کو حذف کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شہرت، سماجی تعلقات یا ذہنی اذیت کو ہمیشہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیے: میٹا کے اے آئی چشموں پر خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات، پرائیویسی کا بحران؟

جب تک ان سوالات کے واضح جوابات سامنے نہیں آتے، پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض ایک نئے جدید چشمے کی آمد نہیں بلکہ ایک ایسے خطرے کی آمد بھی ہے جس کے قانونی، سماجی اور انسانی اثرات پر ابھی سنجیدگی سے غور ہونا باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، حکومت نے یکم ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق 13 عام غلط فہمیاں، حقیقت کیا ہے؟

پشاور پولیس انٹرپول کے ذریعے بحرین سے واپس لائے گئے ملزم کی حفاظت نہ کرسکی، پشاور پہنچتے ہی حملے میں ہلاک، ممتازے کون تھا؟

وزیرِاعظم شہباز شریف کی ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

محبوبہ کو بھیجا گیا پرانا میسج والدہ کو مل گیا: گوگل نجی گفتگو نئے پیغامات کے ساتھ بھیجنے لگا، صارفین شرمندہ

ویڈیو

آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پمز آتشزدگی: 1122 پر کال موصول ہوتے ہی ریسکیو فائر بریگیڈ کی گاڑی 6 منٹ میں اسپتال کیسے پہنچی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!

قبض، گٹر اور انقلاب