برطانوی فن ٹیک کمپنی ریوولٹ نے تصدیق کی ہے کہ ایک جائز حکومتی ادارے کے ای میل ڈومین سے بھیجی گئی جعلی درخواستوں کے ذریعے صارفین کی حساس معلومات ایک غیرمجاز فریق تک پہنچ گئی ہیں۔
کمپنی کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ریوولٹ نے واقعے کا پتا چلتے ہی متعلقہ ای میل ایڈریس کو فوری طور پر بلاک کردیا، جبکہ متعلقہ سرکاری ادارے، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ڈیٹا پروٹیکشن حکام اور مالیاتی ریگولیٹرز کو بھی واقعے سے آگاہ کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے اہم ہوائی اڈے بڑے سائبر حملے کی زد میں: لاکھوں مسافروں کا ڈیٹا ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا
ترجمان کے مطابق ڈیٹا لیک کے باوجود ریوولٹ کے نظام اور صارفین کے فنڈز متاثر نہیں ہوئے، تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ اس واقعے سے کتنے صارفین متاثر ہوئے ہیں۔
BREAKING: Revolut handed over passports and Bitcoin records after a fake government request
Revolut has confirmed that customer files left the company after staff treated a fraudulent request for information as genuine. The message did not come from just a lookalike email… pic.twitter.com/a1tlyXXZoN
— Max Karpis (@maxkarpis) September 12, 2026
ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق غیرمجاز فریق تک پہنچنے والی معلومات میں صارفین کی تاریخ پیدائش، ڈاک کا پتہ، ای میل ایڈریس اور فون نمبرز شامل ہیں، جبکہ بعض صارفین کی شناختی دستاویزات، جن میں پاسپورٹس اور ڈرائیونگ لائسنس کی نقول بھی شامل ہیں، بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ریوولٹ یورپ کی کامیاب ترین فن ٹیک کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور روایتی بینکوں کے برعکس اس کی کوئی فزیکل بینک برانچ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کے 5 لاکھ افراد کا طبی ڈیٹا لیک، چینی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش
کمپنی مستقبل میں ممکنہ طور پر اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کی تیاری بھی کر رہی ہے اور رپورٹس کے مطابق اس کا ہدف 200 ارب ڈالر تک کی ویلیوایشن حاصل کرنا ہے۔
ڈیٹا سیکیورٹی کے اس واقعے کے سامنے آنے سے ایسے مالیاتی پلیٹ فارمز کو درپیش سائبر سیکیورٹی اور حساس صارفین کی معلومات کے تحفظ کے مسائل ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔














