لاہور میں پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پولیس وین میں بیٹھنے کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی۔
سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کال سے پہلے سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے گرفتاری کا تاثر پیدا کیا گیا؟
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی پولیس کی موجودگی میں خود ایک پولیس وین میں بیٹھتے ہیں، جبکہ پولیس اہلکار انہیں وین سے باہر آنے کا کہتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ہیں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جو خود پولیس وین میں بیٹھ کر مظلومیت کا سین بنا رہے ہیں۔سیاست کم ڈرامہ زیادہ اور پھر کہتے ہیں عوام کیوں ہنستے ہیں۔ 🤣
TIK TOKER CM KP
👇👇 pic.twitter.com/oR4M5wXTcZ— Waqar Satti 🎖️🇵🇰 (@waqarsatti) September 14, 2026
تاہم سہیل آفریدی وین سے باہر نہیں آتے اور کچھ دیر بعد پولیس وین آگے بڑھتی ہے، جس کے بعد وہ خود ہی باہر نکل آتے ہیں۔
واقعے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے اسے گرفتاری یا پولیس کارروائی کے طور پر پیش کیے جانے کے دعوے سامنے آئے، تاہم ویڈیو کے مناظر نے اس دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے سہیل آفریدی کو گرفتار کرنا تھا تو اہلکار انہیں وین سے باہر آنے کے لیے کیوں کہتے رہے؟
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ پولیس وین سے باہر آنے کے بعد سہیل آفریدی لاہور کے لکشمی چوک پہنچے اور سڑک کنارے بیٹھ کر احتجاج کیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود رہے جبکہ میڈیا اور شہری بھی موقع پر جمع ہوگئے۔
پی ٹی آئی کی لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ ایسے وقت میں جاری ہے جب پارٹی نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سہیل آفریدی کے واقعے کو بعض حلقے لانگ مارچ سے پہلے سیاسی ماحول بنانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے خود پولیس وین میں بیٹھنے اور پھر پولیس کے کہنے کے باوجود فوری طور پر باہر نہ آنے سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ واقعہ باقاعدہ گرفتاری کے بجائے گرفتاری کا ماحول بنانے کی کوشش تھا۔
کوشش تھا۔














