چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے، اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے، کیونکہ آئین کی پاسداری ہی معاشرے میں استحکام کی ضمانت ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے نئے عدالتی سال کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت اپنے قیام کے بعد مختصر عرصے میں کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنا چکی ہے اور آئینی معاملات پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقدمات کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ، چیف جسٹس کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب
’آئین میں اختیارات اور ان کی حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے، اس لیے تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ادا کرنی چاہییں۔‘
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے اور بلاامتیاز آئینی انصاف ہماری بنیادی ترجیح رہنی چاہیے۔
آئین انصاف کی فراہمی کے نظام میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ محض افراد کے درمیان تنازعات سے متعلق نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے، آئینی اختیارات کی تقسیم، بنیادی حقوق کے تحفظ اور آئینی نظام کے تسلسل سے جڑے سوالات سے بھی تعلق رکھتا ہے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین… pic.twitter.com/fq0VNqoww8
— WE News (@WENewsPk) September 15, 2026
انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت اپنی تفویض کردہ آئینی ذمہ داریاں پختہ عزم کے ساتھ نبھاتی رہے گی اور نظام انصاف پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ادارہ جاتی استعداد اور شفافیت میں اضافہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ : فیڈرل لینڈ کمیشن کا 1996 کا حکم اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
انہوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت کے لیے تقرر شفاف انداز میں کیا جاتا ہے جبکہ عدلیہ کی آزادی کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بیرونی دوروں اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے عدالتی شعبے میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر وفود کے وفاقی آئینی عدالت کے دورے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

’بار اور بینچ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ نظام انصاف کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔‘
اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے بہترین ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی
’وفاقی آئینی عدالت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے، تاہم عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنجیدگی، توازن اور آئینی بصیرت کے ساتھ انجام دی ہیں۔‘
مسعود چشتی نے کہا کہ امید ہے وفاقی آئینی عدالت مستقبل میں پاکستان کے آئینی و قانونی نظام کے لیے رہنما اصول کا درجہ حاصل کرے گی، آئینی عدالت کا سفر آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی سمت میں آگے بڑھتا رہنا چاہیے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت سائلین کو جلد ویڈیو لنک کی سہولت بھی فراہم کرے تاکہ عدالت تک رسائی مزید آسان اور مؤثر بنائی جا سکے۔














