وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ زیادتی کا شکار خاتون صائمہ شہزادی کی درخواست خارج کر دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، جس دوران عدالت نے مقدمے کے حقائق اور واقعات کے تسلسل پر متعدد سوالات اٹھائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے 17 جون 2025 کو صائمہ شہزادی کے ساتھ زیادتی کی، جس کے بعد 26 جون کو دونوں کی شادی ہوگئی۔ وکیل کے مطابق ملزم نے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے خاتون سے شادی کی، تاہم بعد ازاں 6 اگست 2025 کو اسے طلاق دے دی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں امریکی خاتون سیاح کے ساتھ جنسی زیادتی اور غیرقانونی قید میں رکھنے کا لرزہ خیر واقعہ، 2ملزمان گرفتار
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تو پھر اسی شخص سے شادی کیوں کی گئی۔ جسٹس روزی خان نے بھی کیس کے حقائق پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شادی، پھر طلاق اور یہ تمام واقعات بہت کم عرصے میں پیش آئے، جو غیر معمولی معلوم ہوتے ہیں۔
جسٹس روزی خان نے مزید ریمارکس دیے کہ ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں، جبکہ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر شادی ہو گئی تھی تو بعد میں طلاق کیسے ہوئی اور اس تمام معاملے کی نوعیت کیا تھی۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے صائمہ شہزادی کی درخواست خارج کر دی۔ تاہم عدالت کی جانب سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔














