امریکی ملاح میٹ ردرفورڈ آرکٹک سمندر کا مکمل چکر اکیلے کشتی کے ذریعے لگانے کے منفرد مشن پر روانہ ہیں، جس کے لیے اسے تقریباً 10 ہزار بحری میل کا سفر طے کرنا ہوگا۔
45 سالہ امریکی ملاح کا یہ سفر 25 جون کو گرین لینڈ کے مغربی ساحل سے شروع ہوا۔ ان کا منصوبہ شمالی بحر اوقیانوس سے گزرتے ہوئے روس کے آرکٹک ساحل کے ساتھ سفر کرنے اور بالآخر کینیڈا کے نارتھ ویسٹ پاسج سے گزر کر اپنا سفر مکمل کرنے کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپولو 11: انسان کا چاند پر جانے کا پہلا اور آخری مشن
میٹ ردرفورڈ کے مطابق اکیلے سفر کے دوران سونا بھی خطرناک ہے، کیونکہ برف سے ٹکرانے کی صورت میں ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں مناسب نیند لینا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے سفر ایسے سمندری علاقوں میں داخل ہوگا جہاں برف زیادہ گھنی ہے اور موسمی حالات خراب ہوں گے، خطرات میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق اس وقت آرکٹک میں 24 گھنٹے دن کی روشنی ہے، تاہم جلد ہی اندھیرا چھا جائے گا اور اس دوران برف کو دیکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
برف سے بچنے کے لیے جدید آلات
میٹ ردرفورڈ کی 42 فٹ کشتی ’کیمیرا‘ میں برف سے بچنے کے لیے ریڈار، تھرمل دوربین اور لائف رافٹ سمیت مختلف سہولیات موجود ہیں۔
ریڈار بڑے برفانی ٹکڑوں کی نشاندہی کرسکتا ہے جبکہ تھرمل دوربین نسبتاً چھوٹے برفانی ٹکڑوں سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔

تاہم اس سفر میں وقت بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر مہم زیادہ طویل ہوگئی اور موسم گرما ختم ہونے کے بعد خزاں کا آغاز ہوگیا تو سمندر میں موجود برف ان کی کشتی کو گھیر سکتی ہے، جس سے پوری مہم خطرے میں پڑجائے گی۔
10 ہزار بحری میل کا سفر
میٹ ردرفورڈ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ سفر مہم جوئی سے محبت کے ساتھ ساتھ ان کی موسمیاتی تحقیق کی غیر منافع بخش تنظیم ’اوشن ریسرچ پروجیکٹ‘ کے لیے فنڈز جمع کرنے کی کوشش بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ عام طور پر ایک تحقیقی جہاز کے ذریعے گرین لینڈ میں گلیشیئرز کا مطالعہ کرتے ہیں، تاہم اس سال فنڈز کی کمی کے باعث انہوں نے یہ ’ضمنی سفر‘ شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ساحل کے قریب سنگاپور جانے والا مال بردار جہاز ڈوب گیا
آرکٹک میں سمندری برف میں کمی نے بھی اس مہم کو کسی حد تک ممکن بنایا ہے۔ تاہم ردرفورڈ کا کہنا ہے کہ برف میں کمی ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوئی اور انہیں آگے سفر کے دوران انتہائی گھنی برف کا سامنا ہوسکتا ہے، جو ان کی پوری مہم کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
ان کے مطابق الاسکا کے اوپر موجود گھنی برف اور مشرقی سائبیریا کے قریب برفانی حصے خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں۔
روسی حدود میں نئی مشکلات
میٹ ردرفورڈ ناروے اور سویڈن کے قریب سے گزرنے کے بعد روسی حکومت کے زیر انتظام سمندری حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔
روسی ساحل کے ساتھ واقع ’ناردرن سی روٹ‘ میں داخل ہونے کیلئے انہیں روسی حکومت سے خصوصی اجازت لینا پڑی۔ یہ سمندری راستہ روس کے شمالی ساحل کے ساتھ بحیرہ بیرنٹس کو بحرالکاہل سے ملاتا ہے۔

ردرفورڈ کے مطابق اس راستے میں داخل ہونے کے بعد انہیں روزانہ ماسکو کو اپنی موجودگی سے آگاہ کرنا ہوگا، جبکہ ساحل کے قریب پہنچنے کی صورت میں روسی سیکیورٹی سروس ایف ایس بی کو بھی اپنی پوزیشن بتانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان ہدایات پر وقت کی پابندی کے ساتھ عمل کریں گے کیونکہ وہ کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتے۔
رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ
ردرفورڈ کو خدشہ ہے کہ روسی سمندری حدود کے ایک حصے میں ان کا اسٹارلنک رابطہ بھی کام کرنا بند کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں تک ان کی زیادہ تر مواصلاتی سہولیات متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا، تاہم اگر سفر کا اختتام پہلے سے معلوم ہو تو اسے مہم جوئی نہیں کہا جاسکتا۔
فی الحال موسم کی پیش گوئی ان کے حق میں ہے اور سفر کے دوران انہیں نسبتاً بہتر موسمی حالات کی توقع ہے، جس سے انہیں آئندہ چند دن آرام سے سفر جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔













