اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ایک نومولود بچی کے 22 روز بعد انتقال کی خبر سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا پر گردش کرتی رہی، تاہم اس بچی کے والد جہانزیب اختر نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی الحمدللہ زندہ ہے اور گھر میں ان کے پاس موجود ہے۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جہانزیب اختر نے کہاکہ جس بچی کے انتقال کی خبر چلائی جا رہی ہے، اس خبر کے ساتھ ان کی بیٹی کی تصویر استعمال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی دوسری بچی کا انتقال ہوا ہے تو اس کی تصویر استعمال کی جائے، ان کی بیٹی کی تصویر لگا کر یہ نہ بتایا جائے کہ 22 دن بعد ان کی بچی انتقال کر گئی ہے۔
جہانزیب اختر کے مطابق انہوں نے پہلے بھی نیوز اداروں سے درخواست کی تھی کہ ان کی بچی کی تصویر استعمال نہ کی جائے ۔
یاد رہے کہ پمز سانحہ میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچی کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کو پیدائش کے وقت معمولی انفیکشن تھا، جس کے باعث اسے پولی کلینک لے جایا گیا، جہاں وہ 2 دن زیرِ علاج رہی اور اس کے بعد اس کی حالت بہتر ہوگئی۔ والد کے مطابق بچی اس وقت ان کے گھر میں موجود ہے اور خیریت سے ہے۔
آتشزدگی کے وقت کیا ہوا؟
جہانزیب اختر نے بتایا کہ جس روز پمز میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، وہ گھر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 15 منٹ پر ان کی اہلیہ کی کال آئی اور بتایا گیا کہ بچی کو ابھی پمز لے کر آئے ہیں اور فی الحال کوئی زیادہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ اطمینان سے آئیں۔
والد کے مطابق تقریباً 15 منٹ بعد، ساڑھے 6 بجے کے قریب انہیں دوبارہ اطلاع ملی کہ اندر آگ لگ گئی ہے اور ان کی سالی نے بچی کو باہر نکال لیا ہے، جبکہ اندر موجود دیگر بچوں کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ شدید طور پر پھیل چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر تقریباً 10 سے 12 منٹ میں اسپتال پہنچ گئے۔ ان کے مطابق اس وقت اندر دھواں بہت زیادہ تھا اور گارڈز سمیت لوگ باہر کھڑے تھے جبکہ اندر جانا مشکل تھا۔
جہانزیب اختر کے مطابق انہوں نے دو تین دیگر افراد کے ساتھ اندر جانے کی کوشش کی، جبکہ گارڈز باری باری اندر گئے، شیشے توڑے اور دھویں کے درمیان سے باہر نکلے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی بچی اس وقت تک ان کی سالی باہر نکال چکی تھی، تاہم دیگر بچوں کو بچانے کی کوشش کی گئی لیکن شدید آگ اور دھویں کے باعث اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا۔
’ریسکیو ٹیم تقریباً 7 بجے پہنچی‘
جہانزیب اختر کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیم اور دیگر متعلقہ لوگ تقریباً سات بجے کے قریب پہنچے، جب تک آگ کافی پھیل چکی تھی اور اندر موجود چیزیں جل چکی تھیں۔
ان کے مطابق بعد میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے آگ بجھانے کا عمل شروع کیا اور اندر سے پانچ بچوں کی لاشیں ملیں۔
’میری سالی نے بچی کو باہر نکالا‘
بچی کو نرسری سے باہر نکالنے کے حوالے سے جہانزیب اختر نے اپنی سالی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ تقریباً 6 بجے بچی کو نرسری میں چھوڑ کر آئی تھیں۔
ان کے مطابق وہاں موجود عملے نے کہا تھا کہ بچی کو دو فیڈز کرائی جائیں گی اور اس کے بعد اسے داخل کیا جائے گا، کیونکہ اسے معمولی انفیکشن تھا۔
والد کے مطابق ان کی سالی نرسری کے سامنے موجود وارڈ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اسی دوران انہوں نے ایک نرس اور آیا کو بار بار اندر باہر جاتے دیکھا۔ پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ کسی مرد کو بلائیں۔
ان کے مطابق جب ایک شخص کو بلایا گیا تو بتایا گیا کہ نرسری میں آگ لگ گئی ہے۔ ان کی سالی اندر گئیں تو آگ پھیل چکی تھی، تاہم انہوں نے بچی کو اٹھایا اور باہر لے آئیں۔ ان کے مطابق ایک ڈاکٹر بھی اس دوران باہر نکلا۔
رضیہ نورین کے حوالے سے والد کا مؤقف
اس سوال پر کہ نرس رضیہ نورین کی جانب سے بچی کو ریسکیو کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے، جہانزیب اختر نے اس کی تردید کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ رضیہ نورین نے ان کی بچی کو ریسکیو نہیں کیا بلکہ وہ اپنا بیگ اٹھا کر باہر بھاگ رہی تھیں۔
والد نے کہاکہ اگر کسی دوسری بچی کو ریسکیو کیا گیا ہے تو اسے سامنے لایا جائے، کیونکہ ان کی بیٹی کو ان کی سالی نے باہر نکالا تھا۔
انہوں نے رضیہ نورین کو ایوارڈ دیے جانے کے حوالے سے بھی اعتراض کیا اور کہاکہ وہ کسی کو ایوارڈ دینے کے خلاف نہیں، تاہم ان کی بیٹی کی تصویر اس معاملے میں استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔
’میری بیٹی کی تصویر استعمال کی گئی تو ایف آئی آر کراؤں گا‘
جہانزیب اختر نے کہا کہ اگر آئندہ کسی نیوز ادارے یا کسی اور شخص نے ان کی بیٹی کی تصویر ایسی خبر کے ساتھ استعمال کی جس میں اس کے انتقال کا دعویٰ کیا جائے تو وہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے اور معاملہ اوپر تک لے کر جائیں گے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مطالبہ کیا کہ جو خبر درست ہے اسے درست اور جو غلط ہے اسے غلط قرار دیا جائے، جھوٹ کو سچ نہ بنایا جائے۔
پمز میں حفاظتی انتظامات پر سوالات
پمز اسپتال میں انتظامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جہانزیب اختر نے کہا کہ فائر ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر موجود عملہ اور مناسب انتظامات ہونے چاہییں تاکہ بچوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا جا سکے۔
جہانزیب اختر نے یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق آتشزدگی کے واقعے سے چند روز بعد پمز میں ایک بچے کو چوری کرنے کی کوشش کے معاملے میں تین خواتین پکڑی گئی ہیں۔
انہوں نے پمز کو اسلام آباد کا اہم اور بڑا سرکاری اسپتال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئے روز اس نوعیت کی خبریں سامنے آنے کے باعث لوگوں میں سرکاری اسپتال جانے کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتال عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں اور اگر علاج اچھا بھی ہو تو ایسے واقعات کی خبریں لوگوں کو وہاں جانے سے روک سکتی ہیں۔
والد کی میڈیا سے اپیل
جہانزیب اختر نے ایک بار پھر میڈیا سے اپیل کی کہ ان کی بیٹی کی تصویر ایسی کسی خبر میں استعمال نہ کی جائے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ بچی انتقال کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی دوسری بچی کے انتقال یا ریسکیو کیے جانے کی خبر ہے تو اسی بچی کی تصویر استعمال کی جائے اور ان کی بیٹی کے حوالے سے غلط خبر نہ چلائی جائے۔













