بھارت میں پاکستان کے حوالے سے جاسوسی کے خدشات کا سلسلہ جاری ہے اور اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بھارتی پولیس نے ایک 24 سالہ ٹرک ڈرائیور کو مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو حساس معلومات اور فوجی تنصیبات کی ویڈیوز فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت امان کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ اس نے فوجی تنصیبات کی مبینہ نگرانی کی اور حساس معلومات، تصاویر اور ویڈیوز پاکستان میں موجود افراد تک پہنچانے کی کوشش کی۔
بھارتی پولیس کے مطابق امان مبینہ طور پر ایک آن لائن ’ہنی ٹریپ‘ کا شکار ہوا، جس کے بعد وہ پاکستان میں موجود افراد کے ساتھ رابطے میں آیا اور حساس معلومات و فوٹیج فراہم کرنے لگا۔
پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسے مبینہ طور پر پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی جانب سے جاسوسی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ہدایات دی جاتی تھیں۔
بھارتی پولیس کی جانب سے گرفتار شخص پر لگائے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، بلکہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بغیر ثبوت پاکستان پر الزامات عائد کردیے گئے۔
مئی 2025 میں بھارت کو عبرتناک شکست کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، جبکہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد جب بھارت نے پاکستان پر اس کا الزام عائد کیا تو پاکستان نے دنیا سے کہاکہ اس الزام کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں ہم ہر طرح سے تعاون کے لیے تیار ہیں، لیکن بھارت اس پر آمادہ نہ ہوا اور حملہ کردیا، جس کے جارحانہ جواب کے بعد آج تک شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔














