فیفا آسیان کپ کے لیے پاکستان کے 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے، ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو ویزا تاخیر کے باعث اسلام آباد کے تربیتی کیمپ میں شریک نہ ہوسکے اور براہ راست انڈونیشیا میں قومی ٹیم کو جوائن کریں گے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے مطابق اسکواڈ میں پاکستان سے سفر کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ بیرون ملک مقیم قومی ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا انڈر 15 ورلڈ کپ : پاکستان 3 دن میں 5 میچز کھیلے گا
میڈیا رپورٹس کے مطابق نولبرٹو سولانو نے غلط کیٹیگری کے تحت درخواست دینے کے باعث بروقت پاکستانی ویزا حاصل نہیں کیا۔ غلطی کی نشاندہی کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن نے دوبارہ درخواست دی تاہم ویزا عمل میں تاخیر ہوئی۔
ہیڈ کوچ کی عدم موجودگی میں اسسٹنٹ کوچز ٹائٹس برامبل اور ولید جاوید نے پاکستان کے تربیتی کیمپ کی نگرانی کی۔
نولبرٹو سولانو ٹورنامنٹ سے قبل براہ راست انڈونیشیا پہنچ کر قومی ٹیم کو جوائن کریں گے۔ فیفا آسیان کپ 25 ستمبر سے 5 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
پاکستانی اسکواڈ کی قیادت کپتان عبداللہ اقبال کریں گے جبکہ تجربہ کار فارورڈ کلیم اللہ کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
پاکستان انڈر 17 ٹیم کے کپتان عبدالصمد کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے مڈفیلڈر نے حال ہی میں آذربائیجان کے چیمپیئن کلب قرہ باغ ایف کے کے ساتھ 2 سال کا معاہدہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فٹبال کے لیے نئی تاریخ، قومی ٹیم کو پہلے فیفا آسیان کپ کا بلاوا
عبدالصمد نے اپریل میں قازقستان میں ہونے والے یوئیفا انڈر 16 ڈویلپمنٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے ٹیم کی قیادت کی اور میزبان کے خلاف پاکستان کے یوئیفا ڈیبیو میچ میں ہیڈر کے ذریعے گول کیا تھا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے اسلام آباد کے جناح اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا دورہ کیا، کھلاڑیوں سے ملاقات کی، تیاریوں پر بات چیت کی اور ٹیم کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے جاری ویڈیو میں سید محسن گیلانی نے کہا کہ پاکستان کو ایسی ٹیموں کے خلاف کھیلنا ہے جو عالمی درجہ بندی میں اس سے کہیں اوپر ہیں اور یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان اسپورٹس بورڈ کی سہولیات استعمال کی گئیں لیکن اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آئی تھیں، تاہم صورت حال سے آگاہ ہونے کے بعد فوری طور پر سہولیات تبدیل کردی گئیں اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
سید محسن گیلانی نے کہا کہ انہیں کوچز اور کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد ہے اور پاکستان دنیا کو یہ دکھانے کے لیے تیار ہے کہ وہ بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیوکاسل یونائیٹڈ کے سابق اسٹار ’نولبرٹو سولانو‘ پاکستان فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر
پاکستان کو فیفا آسیان کپ کی ڈویژن ون میں گروپ بی میں تھائی لینڈ، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
قومی ٹیم اپنی مہم کا آغاز 26 ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف میچ سے کرے گی، جس کے بعد 29 ستمبر کو فلپائن کے خلاف میدان میں اترے گی، جبکہ گروپ مرحلے کا آخری میچ 2 اکتوبر کو ویتنام کے خلاف کھیلے گی۔
پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں چین کی دستبرداری کے بعد شامل کیا گیا۔ چین نے 2027 ایشین کپ اور 2030 ورلڈ کپ کے کوالیفائرز کی تیاریوں پر توجہ دینے کے لیے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کی تھی۔
پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں مالدیپ میں ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ جیت کر 74 سال بعد کوئی ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
پاکستان اسکواڈ
پاکستان کے 23 رکنی اسکواڈ میں یوسف بٹ، حسن علی، ثاقب حنیف، عبداللہ شاہ، عبد الرحمن، علی خان، علی آغا، حیان خٹک، علی وزیر، عالمگیر غازی، علی رضا، عبدالصمد ارشد، کلیم اللہ، شائیک دوست، عبداللہ اقبال، عیسیٰ سلیمان، محب اللہ، مامون خان، محمد فضل، حارث زیب، عمر نواز، عبدالصمد اور علی خان شامل ہیں۔














