خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری منصوبے میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب تحقیقات تیز

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے شہروں کی بہتری کے تقریباً 97 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبے میں مبینہ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں، جس کا دائرہ اب ٹھیکیدار اداروں تک پہنچ گیا ہے۔ نیب نے 3 ٹھیکیدار اداروں کے نمائندوں کو 22 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔

نیب کی تحقیقات میں منصوبے سے متعلق بینک کھاتوں، ادائیگیوں اور دیگر مالی ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ منصوبے میں مالی معاملات، خریداری کے طریقہ کار اور ٹھیکوں کے اجرا سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات زیرِ تحقیق ہیں۔

سامنے آنے والی معلومات میں منصوبے سے متعلق 32 ارب روپے تک کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ مختلف ٹھیکوں اور ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔

تحقیقات میں بعض ٹھیکیدار اداروں کو قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی ادائیگی، غیر معمولی پیشگی رقوم اور خریداری کے طریقہ کار میں خلاف ورزیوں کے الزامات شامل ہیں۔

بعض منصوبوں میں زمینی پیش رفت محدود ہونے کے باوجود بھاری رقوم جاری کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث ادائیگیوں کی منظوری اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

تعمیراتی کام کی حقیقی پیشرفت اور ٹھیکیداروں کو جاری رقوم میں ممکنہ فرق کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ ادائیگیوں کی تصدیق کرنے والے متعلقہ حکام اور مشاورتی اداروں کا کردار بھی جانچ کے دائرے میں شامل ہے۔

پشاور، ایبٹ آباد، مینگورہ اور کوہاٹ سے متعلق 6 منصوبوں کے مشترکہ ٹھیکوں کی مالیت تقریباً 14 ارب 64 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، جن کی مالی اور عملی پیش رفت کی جانچ جاری ہے۔

نیب نے 2025 میں معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس دوران ٹھیکیداروں کی اہلیت، بولیوں، حسابات اور متعلقہ انتظامی ریکارڈ کی چھان بین کی گئی۔

تحقیقات کے دوران منصوبہ ڈائریکٹروں، خریداری سے متعلق کمیٹیوں، مشاورتی اداروں اور دیگر متعلقہ اہلکاروں سے بھی معلومات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔

نیب کی تحقیقات اب کاغذی ریکارڈ سے آگے بڑھ کر بینک کھاتوں، ادائیگیوں اور ٹھیکیدار اداروں کے نمائندوں کی گواہی تک پہنچ گئی ہیں۔

منصوبے کے مالی معاملات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ماہرین پر مشتمل ٹیم کی جانب سے موقع پر تعمیراتی کام اور حقیقی پیش رفت کی تصدیق بھی متوقع ہے۔

تقریباً 97 ارب روپے کے منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے صوبائی حکومت کے نگرانی، خریداری اور ادائیگیوں کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

اربوں روپے کے شہری منصوبے میں اگر زمینی پیش رفت اور مالی ادائیگیوں میں نمایاں فرق ثابت ہوا تو منصوبہ بندی، نگرانی اور مالی منظوری کے پورے نظام کی جوابدہی ناگزیر ہوگی۔

منصوبے کا بنیادی مقصد پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان اور مینگورہ میں شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری تھا، تاہم تحقیقات کا مرکز اب مالی نظم و ضبط اور ٹھیکوں کے طریقہ کار پر ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشیائی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری بینک اور صوبائی حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کے معیار پر بھی اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔

عوامی مفاد کے بڑے منصوبے میں اربوں روپے کی ادائیگیوں، ٹھیکوں کے اجرا اور تعمیراتی پیش رفت کے درمیان مطابقت کی مکمل جانچ ضروری ہے، جبکہ تحقیقات کے آئندہ مراحل میں مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp