وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ ہی یہ شخص محمود غزنوی ہے، اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، قلعۂ اسلام اور وفاق کی علامت ہے۔ مخالفین کی زبان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے پاکستانی ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
ایکس پر اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان نے انہیں کیا سبق سکھایا ہے، کیا ان کا دل خیبر پختونخوا میں روزانہ بہنے والے خون پر نہیں دکھتا؟ کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو یہ خیبر پختونخوا پولیس اور بہادر جوانوں کی شہادتیں روکنے کے بجائے مزید انتشار اور نفرت پھیلا رہے ہیں؟
نہ اسلام آباد سومنات ھے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی ھے۔ اسلام آبادپاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور وفاق کی علامت ھے۔ انکی زبان بتا رہی کہ یہ کتنے پاکستانی ھیں ۔ اور یہ اقتدار کے حصول کے لئے کس حد جا سکتے ھیں۔ اور عمران خان نے انکو کیا سبق پڑھایا ھے۔ روز پختونخواہ میں جو خون بہہ رہا ھے… pic.twitter.com/Rnv7Lco17c
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 20, 2026
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے جس حملے کی بات کی جا رہی ہے، کیا وہ طالبان کا حملہ ہے؟ کیا پاکستان میں مقیم افغان اس لشکر کا حصہ ہوں گے؟ وفاق پوری طاقت کے ساتھ اس کا دفاع کرے گا۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہاکہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے عمران نیازی اور ان کے پیروکار کس حد تک جا سکتے ہیں، ہم نے 9 مئی کو دیکھا، 26 نومبر کو بھی دیکھا اور اب یہ شخص اپنے عزائم ظاہر کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام ان کی اصل حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کل بھی امن، ترقی اور پاکستان کے دشمن تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ لاکھوں اختلافات اپنی جگہ، لیکن کوئی پاکستانی ایسی زبان استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ پاکستان مخالف زبان ہے۔ کیا اب بھی کسی کے ذہن میں کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے؟
واضح رہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے، جس پر ان پر تنقید کی جارہی ہے۔














