سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے

پیر 21 ستمبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تاریخ میں کچھ نام صرف نام نہیں رہتے، استعارے بن جاتے ہیں۔ کچھ شہر محض شہر نہیں رہتے، علامت بن جاتے ہیں۔ اور کچھ واقعات صدیوں کا سفر طے کرکے ہماری زبان و بیان میں ایسے داخل ہوتے ہیں کہ ایک لفظ اپنے اندر پورا عہد سمیٹ لیتا ہے۔

سومنات بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔

مگر جب اکیسویں صدی کے پاکستان میں ایک سیاسی رہنما یہ اعلان کرے کہ ’ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے‘ تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ یہ جملہ کیوں کہا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سومنات تھا کیا؟ محمود غزنوی کون تھا؟ اس حملے کا تاریخی سیاق کیا تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک وفاقی دارالحکومت کو سومنات سے تشبیہ دینے کا مطلب ہماری سیاسی زبان میں کہاں تک جاتا ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تاریخ جب سیاست کے جلسے میں نعرہ بن جائے تو کبھی کبھی اپنے اصل معنی کھو دیتی ہے۔

سومنات بھارتی گجرات کے ساحل پر واقع ایک قدیم مذہبی مقام ہے، جسے ہندو روایت میں بھگوان شیو کے بارہ مقدس جیوترلنگوں (Jyotirlinga) میں پہلا مقدس مقام شمار کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ ایک اہم زیارتی مرکز رہا ہے۔ موجودہ سومنات مندر بھی دراصل ایک طویل تاریخی سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ اس مقام پر مختلف ادوار میں تعمیر، انہدام اور تعمیرِ نو کا سلسلہ چلتا رہا۔ موجودہ مندر کی تعمیرِ نو آزادیِ ہند کے بعد ہوئی اور 11 مئی 1951 کو اس کی باقاعدہ تقدیس کی گئی۔

لیکن سومنات کا سب سے مشہور تاریخی باب 11ویں صدی میں کھلتا ہے۔ سن 26-1025 میں سلطان محمود غزنوی نے سندھ اور راجستھان کے صحرائی راستے عبور کرتے ہوئے گجرات کا رخ کیا اور سومنات پہنچا۔ وہاں شدید مزاحمت کے بعد مندر پر قبضہ کیا اور اسے لوٹا گیا۔ تاریخی ماخذ بتاتے ہیں کہ اس مہم سے بے پناہ مالِ غنیمت حاصل ہوا اور اس کامیابی نے محمود کی شہرت کو اس زمانے کی اسلامی دنیا میں مزید بڑھایا۔

یہاں تاریخ کا ایک اہم پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ محمود غزنوی کو صدیوں تک مذہبی فاتح اور ’بت شکن‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن جدید تاریخی تحقیق اس تصویر کو زیادہ پیچیدہ قرار دیتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق ہندوستان میں اس کی مہمات کے بنیادی محرکات میں دولت، غلام اور مالِ غنیمت کا حصول نمایاں تھا۔ مذہبی جوش و خروش اس کی سیاسی تشہیر کا حصہ ضرور بنا، مگر ان حملوں کو صرف مذہبی تبدیلی کی مہم سمجھنا بھی درست نہیں۔

محمود غزنوی نے برصغیر پر متعدد فوجی مہمات کیں، جن کی تعداد عموماً 17 بیان کی جاتی ہے، مگر سومنات اس کی ان مہمات میں صرف ایک بار نشانہ بنا۔ سومنات کی تاریخ میں مذہب بھی ہے، سیاست بھی، جنگ بھی، دولت بھی اور اقتدار کی منطق بھی۔ پھر ’سومنات‘ اتنا بڑا استعارہ کیسے بن گیا؟ اس کی وجہ صرف محمود غزنوی کا حملہ نہیں۔ سومنات کی اصل تاریخی طاقت اس کے بعد کے سفر میں چھپی ہے۔

مندر تباہ ہوا، مگر قصہ ختم نہیں ہوا۔ مختلف ادوار میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ صدیوں کے نشیب و فراز کے بعد آزادیِ ہند کے زمانے میں اس کی تعمیرِ نو ہوئی اور 1951 میں نیا مندر باقاعدہ کھول دیا گیا۔ یوں سومنات ہندوستانی اجتماعی حافظے میں صرف ایک شکست کی علامت نہیں رہا بلکہ تعمیرِ نو اور تاریخی تسلسل کی علامت بھی بن گیا۔

اسی لیے سومنات کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’محمود غزنوی نے سومنات پر حملہ کیا تھا‘۔ اصل کہانی یہ ہے کہ ایک حملہ تاریخ کا آخری باب ثابت نہیں ہوا۔ یہی سومنات کا سب سے بڑا سبق ہے۔

 اب آئیے اسلام آباد کی طرف۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں کارکنوں کے متعدد راستوں سے اسلام آباد پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بار صورتحال مختلف ہوگی اور انہوں نے دارالحکومت کو ’سومنات‘ بنانے کی بات کی۔

اس بیان کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد نہ سومنات ہے اور نہ کوئی شخص محمود غزنوی۔ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اور وفاق کی علامت ہے۔

یہاں اختلافِ سیاست اپنی جگہ، مگر الفاظ کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔

اسلام آباد کوئی قلعہ، مندر یا کسی قدیم سلطنت کا دارالحکومت نہیں جس پر کوئی بیرونی لشکر حملہ آور ہو رہا ہو۔ یہ پاکستان کا وفاقی دارالحکومت ہے۔ یہاں پارلیمنٹ ہے، سپریم کورٹ ہے، سفارتخانے ہیں، سرکاری ادارے ہیں، جامعات ہیں، اسپتال ہیں، کاروباری مراکز ہیں اور لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی ہے۔

اس لیے اسلام آباد کو کسی تاریخی ’فتح‘ یا ’مہم جوئی‘ کے استعارے میں تبدیل کرنا محض سیاسی جوش کا اظہار نہیں رہتا۔ یہ احتجاج اور تصادم کے درمیان موجود باریک لکیر کو بھی دھندلا سکتا ہے۔

جمہوریت میں احتجاج کا حق سیاسی زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ حکومت سے اختلاف، مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنا، جلسہ کرنا، ریلی نکالنا اور اپنی آواز بلند کرنا ۔ ۔ ۔  یہ سب سیاسی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ قانون اور دوسروں کے حقوق پامال نہ ہوں۔

لیکن احتجاج کی زبان اگر ’حملے‘، ’فتح‘، ’لاشیں‘ اور ’تصادم‘ کی زبان بن جائے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ کیونکہ الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ ارادوں کا تاثر دیتے ہیں، ماحول بناتے ہیں اور کبھی کبھی ہجوم کے قدموں کی سمت بھی متعین کر دیتے ہیں۔

ایک کارکن ’احتجاج‘ کا لفظ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں سیاسی سرگرمی آتی ہے۔ وہی کارکن ’حملہ‘ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں مقابلہ آتا ہے۔ ’فتح‘ اسے حریف کی شکست کا تصور دیتی ہے اور ’لاشیں اٹھانے‘ کی بات اسے تصادم کے امکان سے دوچار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت کے الفاظ عام آدمی کے الفاظ سے زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔

اگر سومنات کو مثال بنانا ہی ہے تو پھر تاریخ کو پورا پڑھنا ہوگا۔ محمود غزنوی آیا، حملہ کیا، لوٹا اور واپس چلا گیا۔ لیکن سومنات کی کہانی وہیں ختم نہیں ہوئی۔ صدیاں گزرتی رہیں۔ اقتدار بدلتے رہے۔ حملہ آور آتے رہے۔ مندر دوبارہ بنتا رہا۔ اور بالآخر وہی سومنات آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

اس معنی میں سومنات صرف حملہ آور کی کہانی نہیں، وہ وقت کے مقابل کھڑے رہنے والی ایک علامت کی کہانی بھی ہے۔ ہندوستانی سرکاری ذرائع بھی 2026 میں سومنات کے ایک ہزار سالہ تاریخی سفر کو تباہی کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو اور تسلسل کی داستان کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

لہٰذا اگر کوئی آج اسلام آباد کو سومنات بنانے کی بات کرتا ہے تو تاریخ کا سب سے دلچسپ سوال شاید یہ ہے کہ وہ سومنات کا کون سا پہلو اپنے ساتھ لانا چاہتا ہے؟ حملہ؟، تباہی؟، مالِ غنیمت؟، یا پھر وہی سومنات جو ہر انہدام کے بعد دوبارہ تعمیر ہوتا رہا؟

محمود غزنوی تاریخ کا ایک پیچیدہ کردار ہے۔ وہ ایک طاقتور سلطان تھا، کامیاب فوجی مہمات کا قائد تھا، وسیع سلطنت کا حکمران تھا، اور اس نے ہندوستان میں متعدد فوجی مہمات کیں۔ اس کی سومنات مہم نے اسے اس دور کے مسلم سیاسی و مذہبی حلقوں میں غیر معمولی شہرت دی۔ لیکن تاریخی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ غزنوی ریاست کی مسلسل جنگی مہمات کے پیچھے مالی ضروریات اور جنگی غنیمت کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔

یعنی سلطان محمود کو صرف ایک مذہبی فاتح یا صرف ایک لٹیرا قرار دے دینا بھی تاریخ کی پیچیدگی کو کم کر دیتا ہے۔ تاریخ کے کردار اپنے زمانے، اپنے مفادات اور اپنے سیاسی نظام کے اندر سمجھے جاتے ہیں۔ اور یہی اصول آج کے سیاسی کرداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ آج کا پاکستان 11ویں صدی کا ہندوستان نہیں۔ آج کا اسلام آباد سومنات نہیں۔ اور آج کا کوئی سیاسی رہنما محمود غزنوی نہیں۔

یہ 2026 کا پاکستان ہے۔ ایک آئینی ریاست، ایک وفاق، ایک پارلیمانی نظام اور ایک ایسا معاشرہ جس میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ریاستی ادارے اور شہری زندگی کسی سیاسی لشکر کا مالِ غنیمت نہیں ہو سکتے۔

سیاست میں سخت الفاظ نئے نہیں۔ مخالفین کو للکارنا بھی نیا نہیں۔ لیکن جب سیاسی مقابلے کے لیے صدیوں پرانے جنگی استعارے استعمال ہونے لگیں تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی سیاست کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ کیونکہ دارالحکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنا اور دارالحکومت کو فتح کرنے کی زبان استعمال کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پرامن احتجاج کے حق اور شہریوں کے تحفظ دونوں کو قانون کے مطابق دیکھے۔ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ اپنے احتجاج کو پرامن سیاسی عمل کے دائرے میں رکھے اور ایسے الفاظ سے گریز کرے جو سیاسی کامیابی کو تصادم کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نعروں سے زیادہ نیت، دعوؤں سے زیادہ عمل اور جذبات سے زیادہ آئین کو دیکھیں۔ سومنات کی ہزار سالہ کہانی میں حیران کن بات یہ نہیں کہ اسے کتنی بار نقصان پہنچا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ ہر بار دوبارہ کھڑا ہوا۔ محمود غزنوی تاریخ میں ہے تو سومنات بھی تاریخ میں رہ گیا۔

اس لیے اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی یا تشبیہ دراصل تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ تاریخ کو نعرہ بنانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ شہر جلانے سے تاریخ نہیں بنتی۔ تاریخ اس وقت بنتی ہے، جب اختلافات کے باوجود ایک ایسا راستہ نکالا جائے جس میں شہر بھی بچیں، انسان بھی بچیں، ادارے بھی بچیں اور اختلاف کا حق بھی زندہ رہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ، ریجنل 4 وزارتی اجلاس میں اتفاق

پی ٹی آئی کا ریاست مخالف بیانیہ: اسلام آباد کو سومنات بنانے کے بعد گیس و بجلی بندش کی دھمکی

ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کی خوبصورتی اور صحت سے متعلق سوچ بدل گئی

اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز، انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس اضافہ

گھر کے اندر قتل میں گواہ کہاں سے آتے ہیں، سپریم کورٹ کا استفسار

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

اسلام آباد پر چڑھائی کا کلچر ختم ہونا چاہیے