جامعہ کراچی کے شعبہ کلیہ معارفِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی اور ان پر تشدد کے مقدمے میں نامزد ملزم کونین شاہ کے درمیان صلح ہوگئی ہے۔
ذاتی ملاقات اور معافی کی درخواست
ملزم کونین شاہ (جو مقدمے میں ضمانت پر ہے) نے پروفیسر عارف خان ساقی کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے بالمشافہ ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملزم نے اپنے رویے اور واقعے پر پروفیسر عارف سے باقاعدہ معافی مانگی۔
پروفیسر عارف ساقی کے مطابق، معافی کی اس پیشرفت سے قبل ملزم کے والد بھی متعدد بار ان کے گھر آئے تھے اور صلح و صفائی کی درخواست کی تھی۔
گاڑی کے نقصان کا ازالہ
حادثے کے دوران پروفیسر عارف کے بھانجے کی جس گاڑی کو نقصان پہنچا تھا، ملزم کی جانب سے اس گاڑی کی مرمت اور مالی نقصان کا پورا ازالہ کر دیا گیا ہے۔
نقصان کے ازالے اور ملزم کی جانب سے ندامت و معافی کے بعد پروفیسر عارف خان ساقی نے انہیں معاف کر دیا اور معاملے کے خوش اسلوبی سے حل ہونے کی تصدیق کی۔
صلح کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت میں وکیل صفائی نے بتایا کہ ملزم کونین شاہ کی درخواست ضمانت میں پروفیسر عارف ساقی کی جانب سے این او سی جمع کرا دیا گیا ہے، چالان کے مرحلے پر مرکزی کیس میں بھی صلح نامہ جمع کرایا جائےگا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ صفورہ چورنگی کے قریب پیش آیا تھا جہاں گاڑیوں کے تصادم اور تلخ کلامی کے بعد پروفیسر عارف اور ان کے بھانجے کو بدسلوکی و تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر تھانہ سچّل میں مقدمہ درج ہوا تھا۔














