ایف آئی اے نے صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ کے 2 ہزار 828 کارٹن غائب ہونے اور قومی خزانے کو تقریباً 25 کروڑ روپے کے نقصان کے معاملے پر ایف بی آر کے 5 افسران اور نجی کمپنی کے متعدد عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمہ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد صفیر احمد کی مدعیت میں درج کیا۔
ایف آئی آر میں ایف بی آر کے 5 اہلکاروں اور نجی کمپنی کے 3 مالکان کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر سے تمباکو شعبے کے 1120 ارب روپے کے ٹیکس ڈیٹا کی تفصیلات طلب
نامزد ایف بی آر اہلکاروں میں انسپکٹر کامران، انسپکٹر نوید، ایک ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ اور نائب قاصد شامل ہیں، جبکہ نجی کمپنی کے 2 ڈائریکٹرز اور ایک مینیجر کو بھی ملزمان میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
2 ہزار 828 کارٹن کیسے غائب ہوئے؟
ایف آئی آر کے مطابق فروری 2024 میں صوابی سے 1 ہزار 262 کارٹن سگریٹ ضبط کیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں ایف بی آر کے مردان میں واقع گودام میں منتقل کردیا گیا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ بعد میں ایف بی آر کے انسپکٹرز کامران اور نوید نے مردان سے 1 ہزار 202 کارٹن صوابی منتقل کیے۔ تاہم ٹرک جب صوابی کے گودام پہنچے تو ان میں سے 908 کارٹن غائب پائے گئے۔
ایف آئی اے نے ایف بی آر کے گوداموں سے 25 کروڑ مالیت کے سگریٹ غائب ہونے کا مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ سگریٹ کے 2,828 کارٹن صوابی کے گودام سے غائب تھے۔نامزد افراد میں ایف بی آر کے کمران، نوید، افتاب حسین، قاضی امجد، سجاد علی جبکہ پیراماؤنٹ کے ساقب علی خان، فدا اور اویس قریشی شامل ہیں۔… pic.twitter.com/02X3cllbCT
— Azaz Syed (@AzazSyed) September 22, 2026
ایف آئی آر کے مطابق تقریباً 3 ماہ بعد حکام نے دعویٰ کیا کہ 907 کارٹن برآمد کرلیے گئے ہیں، تاہم ایک سال بعد گودام کے معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر 2 ہزار 828 کارٹن موجود نہیں تھے، جن میں پہلے برآمد کیے جانے والے 907 کارٹن بھی شامل تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق ایف بی آر کے انسپکٹرز اور دیگر عملہ مبینہ طور پر سگریٹ کی چوری میں براہ راست ملوث تھا اور نجی کمپنی کے عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت سے قومی خزانے کو تقریباً 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
ایف آئی آر میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ گوداموں میں جان بوجھ کر لاگ بکس برقرار نہیں رکھے گئے جبکہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے تھے۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی تحقیقات
اس سے قبل رواں سال اپریل میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا تھا، جس میں صوابی اور مردان کے ایف بی آر گوداموں سے 2 ہزار 828 کارٹن سگریٹ غائب ہونے کے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اجلاس میں ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ غائب ہونے والے کارٹنوں میں سے 1 ہزار 262 کارٹن کِسان ٹوبیکو برانڈ کے تھے، جو پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی کی ملکیت تھے، جبکہ باقی کارٹنوں کی ملکیت کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

ذیلی کمیٹی نے لاہور میں تعیناتی کے دوران ممبر (ٹوبیکو) کے خلاف ہونے والی سابقہ تحقیقات کا بھی حوالہ دیا اور ایف آئی اے پر زور دیا تھا کہ تحقیقات میں ایف بی آر کے تمام متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو شامل کیا جائے۔
کمیٹی نے متعلقہ افسران کے اثاثوں کی بھی چھان بین کرنے کی سفارش کی تھی۔














