بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں دریائے تیستا کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے والے نومولود ہاتھی کو مقامی ماہی گیروں اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا، جس کے بعد اسے اس کی ماں سے بھی ملا دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 3 سے 4 روزہ ہاتھی کا بچہ جلپائی گوڑی ضلع کے گجول ڈوبا کے قریب ہاتھیوں کے ایک جھنڈ کے ساتھ دریائے تیستا عبور کر رہا تھا کہ تیز دھارے کے باعث اپنی ماں اور جھنڈ سے الگ ہوگیا اور تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر تک بہتا چلا گیا۔
پانی میں ننھا ہاتھی ڈوبنے سے بچنے کے لیے اپنی سونڈ اوپر کیے جدوجہد کر رہا تھا کہ 5 مقامی ماہی گیروں کی نظر اس پر پڑی۔ انہوں نے فوراً کشتی اس کے قریب پہنچائی اور 3 ماہی گیر پانی میں اتر کر اسے کشتی میں لے آئے۔ ماہی گیر تیز بہاؤ کے خلاف کشتی کو کنارے کی طرف لے گئے اور ہاتھی کے بچے کو بحفاظت جنگلاتی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔
NEWBORN ELEPHANT swept nearly 4km downriver — fishermen race into the current
The four-day-old calf was pulled into a tiny boat and REUNITED WITH ITS MOTHER pic.twitter.com/zLtMu4l5B8
— RT (@RT_com) September 22, 2026
بچے کو فوری طبی امداد کے لیے جنگلاتی محکمے کے مرکز لے جایا گیا۔ اس کے بعد بائیکنٹھ پور فاریسٹ ڈویژن کے اہلکاروں نے مقامی افراد اور ماہی گیروں کی مدد سے اس کی ماں اور جھنڈ کی تلاش شروع کردی۔
تقریباً 2 گھنٹے کی کوششوں کے بعد ہاتھی کے بچے کو اس مقام کے قریب پہنچایا گیا جہاں جھنڈ کی موجودگی کا اندازہ تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس کی ماں وہاں پہنچ گئی اور بچے کو اپنے ساتھ لے لیا۔ بعد ازاں اسے دودھ پلاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی، جسے بھارتی انتظامیہ سے وابستہ آئی اے ایس افسر سپریا ساہو نے شیئر کیا۔ انہوں نے مقامی ماہی گیروں کی ہمت، فوری فیصلہ سازی اور بائیکنٹھ پور فاریسٹ ڈویژن کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ہاتھی کے بچے کو اس کی بے چین ماں سے دوبارہ ملا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پرانی دشمی یا اتفاق : ہاتھی نے ایک ہی خاندان کا چوتھا فرد بھی تلاش کرکے ہلاک کردیا
جنگلاتی حکام کے مطابق جنگلی ہاتھی کے بچے کو طویل عرصے تک انسانوں کے درمیان رکھنے کے بجائے جلد از جلد اس کے جھنڈ اور ماں تک پہنچانا اہم ہوتا ہے، اسی لیے ابتدائی طبی امداد کے بعد اصل توجہ دوبارہ ملاپ پر مرکوز رکھی گئی۔









