نیپال میں خطرناک جنگلی ہاتھی ‘دھوربے’ نے ایک ہی خاندان کے مزید 2 افراد کو ہلاک کردیا، جس کے بعد اس ہاتھی کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مادی کے رہائشی شانچارا بوٹے نے 2012 میں اسی ہاتھی کے حملے میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ واقعے کے بعد انہوں نے اس ہاتھی سے بچنے کے لیے اپنا گھر بھی تبدیل کرلیا اور تقریباً 30 کلومیٹر دور جگت پور منتقل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کروڑ پتی شکاری افریقہ میں ہاتھیوں کے حملے میں ہلاک
تاہم قسمت نے ایک بار پھر انہیں اسی سانحے کا سامنا کرا دیا۔ گزشتہ ماہ 28 جون کو دھوربے ہاتھی نے ان کے نئے گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا 4 سالہ پوتا بھرت اور 25 سالہ بہو اشیکا ہلاک ہوگئے۔

دھوربے ہاتھی نیپال میں اپنے جارحانہ رویے کے باعث بدنام ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس نے اب تک 25 افراد کو ہلاک کیا ہے اور اسے 2 مرتبہ گولی بھی ماری جاچکی ہے، تاہم وہ دونوں حملوں میں بچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہاتھیوں سے بچنے کے لیے دریا میں کودنے والا شخص مگرمچھ کا نوالہ بن گیا
حکام نے ایک موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ گولی لگنے کے زخموں کے باعث ہاتھی مرچکا ہے، لیکن بعد میں اس کے دوبارہ نظر آنے سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔
شانچارا بوٹے کے خاندان کے چار افراد اب تک اسی ہاتھی کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھوربے کی وجہ سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور جنگلی حیات کے ماہرین اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔














