تحریک انصاف: تیری کون سی کل سیدھی؟

ہفتہ 26 ستمبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قافلہ انقلاب کا لانگ مارچ تو رستے ہی میں خطا ہو گیا ۔ جنہوں نے سومنات فتح کرنے آنا تھا، وہ کل بیٹھے آپس میں الجھتے رہے کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کون کرے۔

خبر ہے کہ خجالت اور شرمندگی اتنی زیادہ تھی کہ ابتدائی مرحلے میں بانکے وزیر اعلیٰ سے یہ بوجھ اٹھایا نہ گیا ۔ محمود اچکزئی صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ اعلان کر دیں۔ اچکزئی صاحب چادر جھاڑ کر ایک طرف ہو گئے کہ لانگ مارچ کا اعلان مجھ سے پوچھ کر کیا تھا کہ اب اسے مؤخر کرنے کا اعلان مجھ سے کروانا چاتے ہو۔

روایت ہے کہ فاتحین سومنات نے اپنے ٹرک پر لکھوا رکھا تھا: ’آزادی یا شہادت‘۔ اب واپسی کا سفر ہے، اگر وہ چاہیں تو ٹرک پر لکھوا لیں: ’رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے‘۔

کبھی کبھی تو حیرت ہوتی ہے یہ تحریک انصاف اپنی اصل میں ہے کیا؟َ یہ کوئی سیاسی جماعت ہے، کوئی ناتراشیدہ کلٹ ہے۔ غلطی ہائے مضامین کا کوئی ناقابل اشاعت مجموعہ ہے، ملا نصیر الدین کا متروک مجموعہ لطائف ہے، صحراؤں کی روٹھی کوئی حیرت ہے، کیا ہے؟ اچھی بھلی سیاسی جماعت تھی، حماقتوں اور اشتعال کی نذر ہوگئی۔ وہی بات کہ: خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔

تحریک انصاف میں اگر سبھی دشنام بر لب، کھلنڈرے اور بانکے نہیں، کوئی صاحب فہم بھی ہے تو اسےسوچنا چاہیے کہ اس ساری اچھل کود سے پارٹی کو کیا ملا؟ کہاں یہ طنطنہ کہ کوئی ہمارے خان کو گرفتار کر کے تو دکھائے، کہاں یہ رجز کہ ہم اپنے خان کو نکال کر لے جائیں گے، اور کہاں اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ہمارے خان کو شفا اسپتال تو لے جاؤ۔ اگر ہیجان، فتنہ گری اور انتشار کی بجائے سیاسی بصیرت سے کام لیا جاتا تو کیا اس سے بہتر راستے موجود نہ تھے؟

اس سے بہتر نہ ہوتا کہ معاملات ناتراشیدہ طفلان خود سر کو سونپنے کے بجائے سنجیدہ اہل سیاست کے سپرد کیے جاتے اور وہ کوئی راستہ نکال لیتے۔ یہاں عجیب ادھم مچا ہوا تھا، کسی کو خبر ہی نہ تھی کہ فیصلہ ساز کون ہے؟ ایک کہتا ہے کہ احتجاج کے فیصلے کا اختیار کپتان نے محمود اچکزئی کو دیا ہے۔ احتجاج کا اعلان مگر سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ اچکزئی صاحب شکوہ کناں تھے کہ یہ فیصلہ ہم سے پوچھے بغیر کر لیا گیا۔ جنید اکبر کہتے ہیں ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے۔ بیرسٹر گوہر فرما رہے تھے ہم اسلام آباد کو سومنات بنانے والی بات نہیں کرتے۔ کیا ایک سیاسی جماعت ایسے ہوتی ہے؟ یہاں معقولیت منہ چھپائے پھر رہی تھی، سنجیدہ سیاسی رہنما پچھلی صفوں میں دھکیل دیے گئے، شہزادہ گشتاسپ خان جیسے آدمی کی خبر ہی کوئی نہیں، علی محمد خان کو اسٹیج پر بے توقیر کیا جاتا ہے۔ ہر آدمی ایک نئی حماقت اور تازہ اشتعال کے ذریعے سوشل میڈیا پر ٹارزن بننے کے چکروں میں تھا۔ انجام یہی ہونا تھا۔

تحریک انصاف نے جمہوری آزادیوں سے لے کر حقوق انسانی سمیت ہر شے ویپنائز کر دی۔ یہ کسی سے بات کرنے کے روادار نہ تھے۔ ہر دوسرا آدمی ان کے نزدیک چور اچکا تھا۔ انہوں نے ہر ایک کی تذلیل کی، انہوں نے گالم گلوچ کو انسٹیٹیوشنلائز کیا۔ یہ دوسروں کو جس بات پر مطعون کرتے ہیں، خود وہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی لانگ مارچ ملتوی کر دے تو اسے یہ دشنام دیتے ہیں لیکن خود اپنا لانگ مارچ سڑک کنارے خطا کروا بیٹھیں تو اسے یہ بصیرت قرار دیتے ہیں۔

یہ کسی اصول کے قائل نہیں تھے ، ان کا کلٹ دیوتا ان کا معیار حق ہے۔ یہ دھونس اور طاقت سے ہر شے کو روند ڈالنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سمجھا تھا یہ احتجاج سے اس ملک کو بند کر دیں گے اور حکومت ان کے قدموں میں آ گرے گی۔ کوئی غیر ملکی مہمان آنے لگے تو احتجاج، آرمی چیف کا تقرر ہونے لگے تو احتجاج، آئے روز شہر بند، آئے روز لانگ مارچ ۔ انہوں نے پورے ملک کو کلٹ کے پاپولزم سے یرغمال بنانا چاہا اور اب سڑک کنارے انقلاب خطا کروا کے بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کیا کریں۔ وہی بات کہ: مجھے تو اورکوئی کام بھی نہیں آتا۔

پنجاب سمیت باقی کسی صوبے سے تو پہلے ہی کوئی قافلہ انقلاب نہیں آتا تھا، اس دفعہ کے پی سے بھی نہیں آیا۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ اب کی بار کے پی کے سرکاری وسائل دستیاب نہیں تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فتنہ گری کو روک دیا تھا۔ چنانچہ جب اپنی طاقت اور اپنے بل بوتے پر نکلنا پڑا تو کے پی کا قافلہ انقلاب بھی رستے میں ہی لاپتا ہو گیا۔

عدم اعتماد کوئی ایسا سانحہ نہ تھا کہ تحریک انصاف اسے قومی غیرت کا عنوان بنا کر آزادی یا شہادت تک جا پہنچتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ بغل میں جو بیساکھی لے کر یہ اقتدار تک پہنچی تھی وہ واپس لے لی گئی۔ تو بیساکھی چھن جانے کا صدمہ غیرت اور حمیت کا مقدمہ کیسے بن سکتا ہے؟

احتجاجی اور انتشاری سیاست کا یہ نکتہ عروج تھا، جو پٹ گیا۔ جنون ، وحشت اور دشنام کا سفر تمام ہو چکا۔ سیاست کی گنجائش شاید اب بھی موجود رہے لیکن یہ پیغام اب بہت واضح ہے کہ کوئی کلٹ اس معاشرے کو یرغمال بنانا چاہے تو اس کی گنجائش اب ختم ہو چکی ہے۔

ریاست کا کوئی داماد نہیں ہوتا۔ سماج میں کوئی پاٹے خان نہیں ہوتا۔ ایسا تو بالکل بھی نہیں ہوتا کہ ایک کلٹ دیوتا معیار حق بن جائے اور باقی سب چور اچکے اور بدمعاش قرار پائیں ۔ سیاست میں دوسروں کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کسی میں یہ ظرف ہے تو سیاست کے راستے اس کے لیے کھلے ہیں لیکن کوئی یہ چاہتا ہے کہ سماج اس کے کلٹ کے قدموں میں گر جائے تو یہ نہیں ہو سکتا۔

پہلے لوگ اونٹ سے پوچھتے تھے اب تحریک انصاف سے پوچھتے ہیں کہ تیری کون سی کل سیدھی؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp