پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کیوں ’موخر‘ کرنا پڑا؟

اتوار 27 ستمبر 2026
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشہور جرمن فلسفی جارج ولیم فریڈرک ہیگل کی کہی بات بہت مشہور محاورہ بن چکی ہے کہ تاریخ کا سبق یہ ہے، تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ پاکستان کے تناظر میں اب اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے کہ پی ٹی آئی کا سبق یہ ہے، پی ٹی آئی کبھی کوئی سبق نہیں سیکھتی۔ اس کے لوگ ایک بلنڈر کرتے ہیں، شرمندہ نہیں ہوتے اور پھر ایک نئے بلنڈر کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔

جب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے شرماتے ہوئے اسلام آباد موخر کرنے کا اعلان کیا، تب سے پی ٹی آئی کارکنان سخت مشکل میں گرفتار ہیں۔ وہ گزشتہ کئی روز سے دعویٰ کر رہے تھے کہ ستائیس ستمبر کو کچھ ایسا ہونے والا ہے، جو اس سے پہلے نہیں ہوسکا۔ موجودہ حکومت کی چھٹی یا کم از کم عمران خان کی رہائی۔

دراصل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اگست کے پہلے ہفتے کی ’تاریخی‘ تقریر اس قدر زوردار تھی کہ پی ٹی آئی کارکنان کو یقین کرنا پڑا کہ آفریدیوں کا یہ لڑکا ضرور کچھ نہ کچھ کرکے رہے گا۔ لیکن اب جب سہیل آفریدی نے لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کیا تو صحافیوں نے انھیں گھیر لیا۔ پوچھا کہ اب ستائیس ستمبر کی تاریخ کا کیا بنے گا؟ موصوف کہنے لگے کہ انھوں نے ستائیس ستمبر کی تاریخ نہیں دی تھی۔ اس کے بعد  سوشل میڈیا پر اُس تاریخی تقریر کا  ویڈیو کلپ ہر کوئی شیئر کرنے لگا جس میں واضح طور پر سہیل آفریدی ستائیس ستمبر کی تاریخ کا اعلان کر رہے تھے۔

اب بے چارے پی ٹی آئی کارکنان اپنی قیادت کے بلنڈرز کا عین اسی طرح دفاع کرنے پر مجبور ہیں، جس طرح کراچی کے ایک ’قائد تحریک‘ کی عجیب و غریب باتوں کا دفاع ان کے کارکنان کیا کرتے تھے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پانچ اگست کو کس کے کہنے پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، اس کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا البتہ انھوں نے پونے دو ماہ بعد جس طرح  یوٹرن لیا، اور جس طرح لانگ مارچ موخر کرنے کے عنوان سے لانگ مارچ کا منصوبہ ختم کیا، یہ ایک دلچسپ کہانی بن چکی ہے۔ اس کہانی میں ایک سے بڑھ کر ایک خبر موجود ہے۔

چند روز پہلے جب پی ٹی آئی کی قیادت نے پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس میں جب یہ حساب کتاب کیا کہ خیبر پختونخوا سے کتنے لوگ لانگ مارچ میں شریک ہوسکیں گے تو اعدادوشمار بہت مایوس کن تھے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خیال تھا کہ اگر تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے طے شدہ اہداف کے مطابق بندے نکال لیں تو ایک بڑا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ کر اپنے اہداف حاصل کرسکتا ہے۔

یہ اہداف بھی بہت دلچسپ ہیں۔ کوئی وقت تھا جب پی ٹی آئی کا ہدف عمران خان کی بطور وزیراعظم بحالی تھی۔ جب وہ گرفتار ہوئے تو ہدف عمران خان کی رہائی بن گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو بڑی امیدیں وابستہ کی گئی کہ اب عمران خان کی رہائی چند دنوں کی بات ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی لفٹ نہ کرائی تو ہدف عمران خان تک رسائی بن گیا۔ آج کل ہدف عمران خان کی دوائی ہے۔ خیر! یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ آئیے! پھر اس سوال کا جواب جانتے ہیں کہ لانگ مارچ کیوں موخر کرنا پڑا؟

پشاور میں موجود ہمارے دوست اور انتہائی باخبر صحافی سراج الدین بتاتے ہیں، جب علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ تھے، انھیں کچھ ایسے حلقوں کی حمایت حاصل تھی جن کی حمایت تاحال سہیل آفریدی کو حاصل نہیں ہے۔ ویسے بھی علی امین پیسے والے تھے۔ لانگ مارچ کا اعلان ہوتا تھا، اس کی خوب تیاری کرتے تھے۔ ارکان اسمبلی کو پیسہ دیتے تھے تاکہ وہ بندوں کو گھروں سے نکالیں، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کریں لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔

سہیل آفریدی کے پلّے کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے وہ ارکان اسمبلی سے کہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے لیے بندے بھی نکالیں، ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی اپنی جیب سے کریں، ان کا خرچ بھی برداشت کریں۔ صرف یہی نہیں، ہر رکن اسمبلی قیادت کو بھی پچیس سے پینتالیس لاکھ روپے دے تاکہ وہ لانگ مارچ کا انتظام کرسکے۔ ’سومنات مندر‘ والے جنید اکبر نے ارکان اسمبلی کو سمجھایا کہ لانگ مارچ میں 30 سے 40 ہزار لوگ بھی شریک ہوں تو ایک دن کا  خرچ پینتالیس کروڑ روپے بنتا ہے۔

یہ سن کر متعدد ارکان اسمبلی نے صاف اور سیدھا انکار کردیا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے وہ بندے نہیں نکال سکتے۔

اب آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں بے چارے سہیل آفریدی کیا کریں؟  جس بندے کے پاس دھیلا نہ ہو، وہ میلہ، میلہ کیسے کرسکتا ہے۔ پھر انھیں پینتیس سے چالیس مخالف ارکان اسمبلی کا سامنا بھی ہے۔ ان میں علی امین گنڈاپور کے حامی بھی شامل ہیں جنھوں نے تاحال سہیل آفریدی کو بطور وزیراعلیٰ تسلیم نہیں کیا اور وہ لوگ بھی جنھیں علی امین نے وزیر، مشیر بنایا نہ ہی سہیل آفریدی نے۔

ان حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے لانگ مارچ موخر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ کس منہ سے یہ اعلان کرے۔ سہیل آفریدی سے کہا گیا کہ وہ اعلان کریں، اس پر وہ کسمسائے، پھر بیرسٹر گوہر سے کہا گیا، وہ شرمائے۔ پھر فیصلہ ہوا کہ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے استدعا کی جائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر جھجکتے، شرماتے بلوچستان کے اس پشتون لیڈر سے ملے اور گزارش کی کہ وہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کردیں۔ وہ ہنس دیے۔

اور پھر جناب اچکزئی نے صاف انکار کردیا کہ ان کی مشاورت سے لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ جس نے ستائیس ستمبر کی تاریخ دی تھی، وہی اب لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کرے۔ ساتھ ہی اس جہاں دیدہ سیاست دان نے بیرسٹر گوہر کو مشورہ دیا کہ اب لانگ مارچ موخر نہ کیا جائے۔ لیکن تحریک انصاف نے اپنے سیاسی اتحاد کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی بات نہ مانی۔

جب اس صورت حال کی خبر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہوئی تو انھوں نے ایک فلگ شگاف قہقہہ بلند کیا۔ اور کہا کہ پی ٹی آئی قیادت لانگ مارچ سے بھاگ رہی ہے۔ انھوں نے ایک اور دعویٰ بھی کیا کہ ان کے لوگ لانگ مارچ میں شریک ہونے سے بچنا چاہتے ہیں اور اس خاطر گرفتاری دے رہے ہیں۔ یہ ہے ساری کہانی۔

اگرچہ اب سہیل آفریدی نے چار اکتوبر کی تاریخ مشتہر کردی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کئی ہفتے پہلے کہا تھا کہ یہ ستائیس ستمبر کو لانگ مارچ نہیں کرسکیں گے، بلکہ اس کے بعد بھی نہیں کرسکیں گے۔ شیر افضل کی پہلی پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔ دوسری کا چار اکتوبر کو پتہ چل جائے گا۔

ممکن ہے کہ چار اکتوبر کے قریب پہنچ کر پی ٹی آئی رہنما حکومت کے ساتھ مذاکرات کی یکطرفہ  نوید سنادیں۔ تحریک انصاف کی قیادت مذاکرات کے لیے حکومت کی طرف بہت بے چینی سے دیکھ رہی ہے۔ یادش بخیر کوئی وقت تھا، پی ٹی آئی شہباز شریف حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کرتی تھی کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گے، شہباز شریف کی کیا حیثیت ہے!

اب اسی شہباز شریف حکومت کی آمادگی کا انتظار کیے بغیر پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کا اعلان بھی کردیا ہے۔ اور اصرار کر رہی ہے کہ مذاکرات کل کے بجائے آج ہی کرلیں۔ تحریک انصاف نے حکومت کو وہ بندہ بھی بتا دیا جن کو تحریک انصاف کے پاس بھیجنا چاہیے: حضرت مولانا فضل الرحمان۔

جگ ہنسائی اسی کو کہتے ہیں جس کا اہتمام تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کر رہی ہے۔ آپ بھی شرمسار ہو، کارکنوں کو بھی بھی شرمسار کر۔

مشہور جرمن فلسفی جارج ولیم فریڈرک ہیگل نے اپنی کتاب ’لیکچرز آن دی فلاسفی آف ہسٹری‘ میں کہا تھا:

’تاریخ اور تجربہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ لوگوں اور حکومتوں نے تاریخ سے کبھی کچھ نہیں سیکھا اور نہ ہی کبھی ان اصولوں پر عمل کیا جو اس سے اخذ کیے جا سکتے تھے۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp