ٹیکس چوری، گوشواروں میں غلط معلومات پکڑنے کے لیے ایف بی آر کا ’اے آئی‘ پر مبنی جدید سسٹم تیار

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوری کی روک تھام اور انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط معلومات کا سراغ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت ’اے آئی‘ کے استعمال کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو سامنے آنے والے اس اہم حکومتی فیصلے کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے محصولات کے نظام کو شفاف بنانا اور ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا قلع قمع کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایک کروڑ روپے سے زائد کے لین دین پر ایف بی آر نے نیا ضابطہ نافذ کردیا

ایف بی آر کے ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نئے اور جدید ترین ’اے آئی‘ بیسڈ آٹومیٹڈ آڈٹ سسٹم کی مدد سے ان ٹیکس دہندگان کی فوری اور درست نشاندہی کی جائے گی جو اپنے گوشواروں میں جھوٹی یا نامکمل معلومات فراہم کرتے ہیں۔

غلط بیانی پر سخت قانونی کارروائی

ترجمان کے مطابق جو بھی شہری یا ادارہ اپنے گوشواروں میں غلط تفصیلات جمع کراتے ہوئے پایا گیا، اس کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ٹیکس اتھارٹی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشواروں میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی پر متعلقہ قوانین کے تحت سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ایف بی آر نے تمام ٹیکس دہندگان کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مالیاتی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ انتہائی احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھیں۔

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گوشواروں میں فراہم کردہ تمام معلومات سو فیصد درست اور مناسب دستاویزی ثبوتوں پر مبنی ہوں۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ سے متعلق وضاحت کردی

اس اہم اور جدید اقدام کے پس منظر میں معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی وہ حکومتی کوششیں شامل ہیں جن کا مقصد روایتی خامیوں پر قابو پانا ہے۔

یاد رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی حتمی تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیفالٹرز کو نئے خودکار نظام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp