جدید معاشرے کا نفسیاتی المیہ، پڑوس میں لاش پڑی رہتی ہے اور خبر تک نہیں ہوتی، وجوہات کیا ہیں؟

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روشنیوں کے شہر کراچی کی فضاؤں میں ان دنوں ایک عجیب سی خاموشی اور بے حسی محسوس کی جا رہی ہے۔ جو شہر کبھی اپنی مہمان نوازی، کشادہ دلی اور پڑوسیوں سے گرم جوش تعلقات کے لیے مشہور تھا، آج اسی شہر میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا رجحان سامنے آ رہا ہے جو معاشرتی بے حسی کی بڑھتی ہوئی تصویر پیش کرتا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران یکے بعد دیگرے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں لوگ اپنے گھروں میں تنہائی کی حالت میں موت کے منہ میں چلے گئے اور پڑوسیوں یا دیگر افراد کو اس وقت خبر ہوئی جب لاشیں گلنے سڑنے لگیں اور تعفن کی بدبو عمارتوں میں پھیل گئی۔

چاہے وہ ماڈل حمیرا کا واقعہ ہو، سینیئر اداکارہ عائشہ خان کی خاموش موت یا حال ہی میں ایک ہی گھر سے ملنے والی پانچ لاشیں، یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انسان اپنے اردگرد موجود لوگوں سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔

اس سلگتے ہوئے موضوع اور معاشرتی رویوں پر گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ نفسیات اور اقرا یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم غازی نے اس المیے کے نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔

پرائیویسی کا مغالطہ اور بائی اسٹینڈر ایفیکٹ

ڈاکٹر مریم کے مطابق ماضی میں لوگ ایک دوسرے سے جڑے رہتے تھے اور اپنے آس پاس کے افراد کی خبر گیری کرتے تھے، تاہم آج پرائیویسی کے تصور نے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ان کے بقول، محلے اب بلند و بالا عمارتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، جہاں لوگ اپنی اپنی حدود تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

نفسیات میں اس رویے کو بائی اسٹینڈر ایفیکٹ کہا جاتا ہے، جس میں لوگ یہ سوچ کر خاموش رہتے ہیں کہ ہمیں کیا، کوئی اور دیکھ لے گا۔ بعض افراد یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر ہم جا کر خیریت دریافت کریں گے تو کہیں سامنے والا ناراض نہ ہو جائے یا اسے پرائیویسی میں مداخلت نہ سمجھا جائے۔

تاہم ڈاکٹر مریم سوال اٹھاتی ہیں کہ صرف پڑوسی ہی نہیں، ان افراد کے اپنے خاندان، والدین اور عزیز و اقارب کہاں تھے؟ کیا کئی دن تک کسی نے ایک فون کال کرکے خیریت دریافت کرنے کی زحمت بھی نہیں کی؟

ان کے مطابق انسان چار دائروں، یعنی خاندان، ملازمت، کمیونٹی اور معاشرے کے اثرات میں زندگی گزارتا ہے۔ جب یہ تمام روابط کمزور یا منقطع ہو جائیں تو انسان شدید تنہائی اور سماجی علیحدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی: سہولت یا تنہائی کا سبب؟

معاشرتی دوریوں کا ذمہ دار اکثر ٹیکنالوجی کو ٹھہرایا جاتا ہے، تاہم ڈاکٹر مریم کے مطابق ٹیکنالوجی نے صرف اس تبدیلی کی رفتار کو تیز کیا ہے۔ آج کا انسان مجازی دنیا میں تو دوسروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں تنہائی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا پر کوئی شخص اپنی پریشانی یا دکھ کا اظہار کرے تو اس کی پوسٹ پر سیکڑوں تبصرے آ جاتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں بعض اوقات گھر والے بھی اس کی خیریت دریافت نہیں کر پاتے۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق ٹیکنالوجی کا استعمال بذاتِ خود برا نہیں، لیکن جب یہ انسانی موجودگی اور حقیقی تعلقات کا متبادل بن جائے تو اس کے نتائج نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تربیت اور حل، گھر کی پالیسی اور دو طرفہ رابطہ

معاشرے کو اس زوال سے بچانے اور نئی نسل کو مثبت سمت دینے کے لیے ڈاکٹر مریم غازی نے چند اہم تجاویز پیش کی ہیں۔

ان کے مطابق ہر گھر میں کچھ غیر تحریری خاندانی اصول ہونے چاہییں، مثلاً کھانے کی میز پر گھر کے تمام افراد کا ایک ساتھ بیٹھنا اور اس دوران ٹی وی یا موبائل فون کا استعمال مکمل طور پر بند رکھنا۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کی میز پر ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا مداخلت نہیں بلکہ فکرمندی اور محبت کی علامت ہے۔

بچوں کے لیے ٹیکنالوجی کی حد بندی

ان کے مطابق بچوں کو اس وقت تک مکمل طور پر موبائل نہ دیا جائے جب تک ان میں برے اور بھلے کی تمیز نہ آ جائے۔ والدین ‘فیملی لنک’ جیسی ایپلی کیشنز کے ذریعے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود اور مانیٹر کریں۔

مکالمہ اور حرفِ آخر

ڈاکٹر مریم غازی کے مطابق بچوں کے ساتھ دوستانہ اور دو طرفہ گفتگو کے ذریعے قواعد طے کریں۔ اگر والدین کسی بات پر ناں کہہ دیں تو بچے کی ضد یا زاری پر اسے ہاں میں نہ بدلیں، کیونکہ اس سے والدین کا اعتماد اور دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہنا وقت کی ضرورت ہے، لیکن اپنے رشتوں، پیاروں اور پڑوسیوں سے منہ موڑنا معاشرتی زوال کی علامت ہے۔

ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پرائیویسی اور بے حسی کے درمیان کے فرق کو سمجھیں، اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں تاکہ وہ آنے والے کل میں ایک احساس رکھنے والے اور ذمہ دار معاشرے کے معمار بن سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp