دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 28 ستمبر کو ریبیز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس مہلک اور قابلِ علاج بیماری سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ تاہم سندھ بھر بالخصوص کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سگ گزیدگی (کتے کے کاٹنے) کے واقعات میں اضافہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
سندھ کے مختلف اضلاع بشمول حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر اور نوابشاہ کے علاوہ صوبائی دارالحکومت کراچی کے سول اسپتال، جناح اسپتال اور دیگر طبی مراکزمیں روزانہ کی بنیاد پر کتے کے کاٹنے کے درجنوں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، جن میں بچوں اور برزگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ریبیز سے بچاؤ کے مرکز کے سربراہ آفتاب گوہر کا مؤقف
ریبیز سے بچاؤ کے مرکز کے سربراہ آفتاب گوہر نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریبیز 100 فیصد مہلک لیکن قابلِ بچاؤ بیماری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد متاثرہ زخم کو 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھویا جائے اور وقت پر اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کی مکمل خوراکیں لی جائیں تو انسان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ تاخیر یا مقامی ٹوٹکوں کا استعمال مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
آفتاب گوہر نے مزید کہاکہ سندھ کے تمام اہم مراکزِ صحت پر ریبیز ویکسین اور اینٹی ریبیز امیونوگلوبولین (RIG) کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ کسی بھی مریض کو علاج میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محض ویکسینیشن کافی نہیں، بلکہ ریبیز کے خاتمے کے لیے آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے (Trap-Neuter-Vaccinate-Return) اور ان کی باقاعدہ ویکسینیشن کی مہمات کو صوبائی سطح پر مربوط انداز میں چلانے کی سخت ضرورت ہے۔
عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر
آفتاب گوہر کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ جگہ کو فوری طور پر صابن اور صاف پانی سے کم از کم 15 منٹ تک اچھی طرح دھونا چاہیے۔ زخم پر مرچیں، کوئی تیز یا جلن پیدا کرنے والی چیز یا ٹونا ٹوٹکا ہرگز نہ لگائیں اور نہ ہی زخم کو کس کر باندھیں۔ متاثرہ شخص کو بغیر کسی تاخیر کے قریبی سرکاری یا منظور شدہ ریبیز مرکز پہنچنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بروقت ویکسینیشن کروائی جا سکے۔
عالمی سطح پر سال 2030 تک کتوں سے پھیلنے والے ریبیز کے مکمل خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کے لیے سندھ حکومت، بلدیاتی اداروں اور صحت کے شعبے کو مشترکہ بنیادوں پر ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔













