مردہ گھوڑے کی زندہ کہانی

پیر 28 ستمبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگرچہ ہر گھوڑا تیز دوڑ سکتا ہے، مگر تاریخ میں وہی گھوڑا زندہ رہتا ہے جو انسانوں کے دل جیت لے۔ ’سی بسکٹ‘ بھی ایسا ہی ایک گھوڑا تھا۔ قد میں چھوٹا، جسم میں بھاری، چال میں عام، مگر حوصلے میں پہاڑ۔ اسے ناکام قرار دیا گیا، قسمت نے اسے نظر انداز کیا، مگر ایک دن وہی گھوڑا امریکی قوم کی امید بن گیا۔

اس کی جسامت ریس کے مثالی گھوڑوں سے مختلف تھی۔ مزاج میں اکھڑپن تھا اور رفتار بھی ایسی نہ تھی کہ پہلی نظر میں دیکھنے والا اس کا گرویدہ ہو جائے۔ ریس کے جغادری اسے ناکام گھوڑا قرار دے چکے تھے۔ کئی ٹرینرز اسے سست، ضدی اور بے کار سمجھتے تھے۔ اسے بار بار دوڑایا گیا، وہ بار بار ہارتا گیا اور آہستہ آہستہ شائقین اس کا نام تک بھولنے لگے۔

سی بسکٹ کا مجسمہ، نیشنل میوزیم آف ریسنگ، سراٹوگا اسپرنگز، نیویارک۔

1929 میں ’وال اسٹریٹ کریش‘ نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا تھا۔ امریکا اپنی تاریخ کی بدترین معاشی تباہی، گریٹ ڈپریشن (Great Depression) سے گزر رہا تھا۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے تھے، بینک دیوالیہ ہو رہے تھے، کسان اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور تھے اور فیکٹریوں کی چمنیوں نے دھواں اگلنا بند کردیا تھا۔ ہر طرف مایوسی، بے یقینی اور شکست خوردگی کا پہرہ تھا۔

ایسے حالات میں قوم کو کسی ایسے کردار کی ضرورت تھی جو انہیں یہ یقین دلا سکے کہ قسمت کا پہیہ ایک بار پھر گھوم سکتا ہے۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ کردار نہ کوئی سیاست دان ہوگا، نہ کوئی فوجی ہیرو اور نہ ہی کوئی صنعت کار، بلکہ ایک ایسا گھوڑا ہوگا جسے خود ریسنگ کی دنیا ناکام قرار دے چکی تھی۔

23 مئی 1933 کو امریکی ریاست کینٹکی میں پیدا ہونے والے گھوڑے کو دیکھ کر شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ ایک دن اس کا نام دنیا کی عظیم ترین ریسنگ داستانوں میں لکھا جائے گا۔ اس کا باپ ہارڈ ٹیک (Hard Tack) خود ایک نامور ریس ہارس تھا، جبکہ ماں سوئنگ آن (Swing On) بھی عمدہ نسل سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے باوجود ’سی بسکٹ‘ اپنے خاندان کے دوسرے گھوڑوں جیسا نہیں دِکھتا تھا۔

قد کاٹھ اور غیر متناسب جسامت کے باوجود وہ کھانے کا بے حد شوقین تھا۔ اتنا آلسی نظر آتا کہ اصطبل کے ملازم اسے مذاق میں ’سست ترین گھوڑا‘ کہہ دیتے۔ جب دوسرے گھوڑے مشق کے دوران دوڑتے تھے تو ’سی بسکٹ‘ اکثر آرام سے کھڑا رہتا، کبھی گھاس کھاتا رہتا، کبھی اونگھنے لگتا۔

پہلے پہل مالک نے اسے ریسنگ گھوڑا سمجھ کر قریباً ہر مقابلے میں اتارا۔ دو برس کی عمر تک وہ درجنوں ریسیں دوڑ چکا تھا، مگر کامیابیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مسلسل ناکامیوں نے اس کے اعتماد کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دلچسپی بھی ختم کر دی۔ گھوڑوں کی دنیا میں ایسے جانور جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں۔

سی بسکٹ بھی شاید انہی میں شامل ہونے والا تھا۔ مگر عظیم کہانیاں ہمیشہ اسی موڑ سے شروع ہوتی ہیں جہاں دنیا سمجھتی ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔

سی بسکٹ اور ریڈ پولارڈ

عجب اتفاق ہوا کہ جس گھوڑے کو کوئی نہیں چاہتا تھا، وہ تین ایسے انسانوں کے ہاتھ آیا جو خود بھی زندگی سے شکست کھا چکے تھے۔ پہلا شخص تھا چارلس ہاورڈ، کاروں کا کامیاب تاجر، مگر اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کے بعد اندر سے ٹوٹ چکا انسان۔ دوسرا تھا ٹام اسمتھ، خاموش طبع، روایتی طریقوں سے مختلف سوچ رکھنے والا ٹرینر، جسے اکثر لوگ خبطی سمجھتے، لیکن وہ گھوڑوں کی زبان سمجھتا تھا۔

اور تیسرا تھا ریڈ پولارڈ، ایک ایسا جوکی جس کی زندگی غربت، بھوک، حادثات اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں سے عبارت تھی۔ اگرچہ اس کی ایک آنکھ کی بینائی کمزور تھی لیکن خواب اب بھی زندہ تھے۔ یہ تینوں اور سی بسکٹ، گویا شکست خوردہ کرداروں کی ایک ایسی ٹیم تھی، جس سے کسی کو کوئی امید نہیں تھی۔

1937 میں ’سی بسکٹ‘ کی زندگی کا نقشہ بدلنے لگا۔ ٹام اسمتھ نے اس پر وہ توجہ دی جو شاید اس سے پہلے کسی نے نہیں دی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہر گھوڑا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض کو سخت تربیت درکار ہوتی ہے، بعض کو محبت، اور بعض کو صرف یہ احساس کہ ان پر یقین کیا جا رہا ہے۔ ’سی بسکٹ‘ بھی انہی میں سے ایک تھا۔ اسے تھکا دینے والی مشقوں کے بجائے آرام ملا، بہتر خوراک ملی، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا ٹرینر ملا جو اس کی کمزوریوں کے بجائے اس کی صلاحیتوں کو دیکھتا تھا۔

سی بسکٹ اور چارلس ہاورڈ کی یادگار تصویر

ریڈ پولارڈ بھی عام جوکی نہیں تھا۔ وہ خود زندگی کی ٹھوکریں کھا چکا تھا، اس لیے وہ ’سی بسکٹ‘ کی خاموش زبان سمجھ سکتا تھا۔ دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ پولارڈ اکثر کہا کرتا تھا ’میں اسے دوڑاتا نہیں تھا، صرف اس کے ساتھ دوڑتا تھا۔‘

چند ہی مہینوں میں وہی گھوڑا، جسے ناکارہ سمجھا گیا، ایک کے بعد ایک ریس جیتنے لگا۔ پہلے لوگ حیران ہوئے۔ پھر انگشت بہ دنداں اور پھر دیوانے ہو گئے۔ 1937 کے اختتام تک وہ امریکا کا سب سے زیادہ انعامی رقم جیتنے والا ریس ہارس بن چکا تھا۔ اخبارات کے پہلے صفحات پر اس کی تصاویر شائع ہونے لگیں، ریڈیو پر اس کی دوڑ کا آنکھوں دیکھا حال سنایا جاتا، اور لوگ میلوں دور سے صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے آتے۔

’سی بسکٹ‘ اب صرف گھوڑا نہیں رہا تھا۔ وہ امید کی علامت بن چکا تھا۔ اس زمانے میں اگر کسی مقابلے کا سب کو شدت سے انتظار تھا تو وہ تھا ’سی بسکٹ‘ بمقابلہ وار ایڈمرل (War Admiral)۔ وار ایڈمرل اس دور کا بے تاج بادشاہ تھا۔ 1937 کا ٹرپل کراؤن جیتنے والا، برق رفتار، اور ماہرین کے نزدیک دنیا کا بہترین ریس ہارس۔ دوسری طرف ’سی بسکٹ‘ تھا۔ کوتاہ قد، غیر روایتی انداز میں دوڑنے والا، وہ گھوڑا جسے چند برس قبل کوئی خریدنے کو بھی تیار نہیں تھا۔

یکم نومبر 1938 کو پملیکو ریس کورس میں ہزاروں تماشائی موجود تھے، جبکہ ریڈیو پر اندازاً چار کروڑ سے زیادہ امریکی یہ مقابلہ سن رہے تھے۔ یہ وہ مقابلہ تھا جسے ’صدی کی ریس‘ کہا گیا۔ ریس شروع ہوئی۔ سب کی توقع تھی کہ وار ایڈمرل ابتدا ہی میں سب کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ مگر حیرت انگیز طور پر ’سی بسکٹ‘ نے آغاز ہی میں رفتار بڑھا دی۔ دونوں گھوڑے کچھ دیر تک شانہ بشانہ دوڑتے رہے۔

پھر ایک لمحہ آیا جب جوکی جارج وولف نے ’سی بسکٹ‘ کو ہلکی سی جنبش دی۔ ’سی بسکٹ‘ نے اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔ چند سیکنڈ بعد وار ایڈمرل پیچھے رہ گیا۔ اور فِنش لائن عبور کرتے وقت پوری دنیا نے دیکھا کہ وہی ’ناکام گھوڑا‘ تاریخ کے عظیم ترین چیمپیئن کو شکست دے چکا تھا۔ اگلے دن اخبارات کی سرخیاں صرف ایک نام سے بھری ہوئی تھیں۔ ’ سی بسکٹ نے معجزہ کر دکھایا۔‘

یہ صرف ایک فتح نہیں تھی۔ یہ ان لاکھوں امریکیوں کے لیے بھی ایک جذباتی لمحہ تھا جو معاشی بحران سے لڑ رہے تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ اگر ایک نظر انداز کیا گیا گھوڑا اپنی قسمت بدل سکتا ہے تو شاید زندگی انہیں بھی ایک اور موقع دے سکتی ہے۔

1938 میں پیملِکو ریس کورس میں وار ایڈمرل کو شکست دینے کے بعد سی بسکٹ جوکی جارج وولف اور ٹام اسمتھ کے ہمراہ۔

ادھر قسمت نے ’سی بسکٹ‘ کا امتحان ابھی ختم نہیں کیا تھا۔ 1939 میں ایک ریس کے دوران وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ اس کی ایک ٹانگ شدید متاثر ہوئی اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اب یہ گھوڑا دوبارہ ریس نہیں دوڑ سکے گا۔ قریباً اسی عرصے میں ریڈ پولارڈ بھی ایک خوفناک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا۔

یوں گھوڑا بھی لنگڑا رہا تھا اور اس کا محبوب جوکی بھی۔ دونوں اپنی اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔ دنیا سمجھ رہی تھی کہ یہ داستان یہیں ختم ہو گئی۔ مگر ٹام اسمتھ نے ہار نہیں مانی۔ اس نے ’سی بسکٹ‘ کو دوبارہ چلنا سکھایا، پھر دوڑنا، اور پھر سے خواب دیکھنا۔ ادھر ریڈ پولارڈ بھی مہینوں اسپتال اور بحالی کے مراحل سے گزرنے کے بعد دوبارہ زین پر بیٹھنے کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔

گویا قسمت نے دونوں دوستوں سے بیک وقت ایک ہی سوال پوچھا تھا کہ کیا تم میدان میں واپس آ سکتے ہو؟ اور دونوں نے اپنے عمل سے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔

1940 کا سانتا اینیٹا ہینڈیکپ (Santa Anita Handicap) آیا، وہی ریس جسے ’سی بسکٹ‘ پہلے دو مرتبہ معمولی فرق سے ہار چکا تھا۔ یہی وہ مقابلہ تھا جسے اس زمانے میں گھڑدوڑ کا سب سے بڑا امتحان سمجھا جاتا تھا۔ اس روز اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائی صرف ایک ریس دیکھنے نہیں، بلکہ ایک خواب کی تعبیر کے گواہ بننے آئے تھے۔

ریس شروع ہوئی۔ ابتدا میں ’سی بسکٹ‘ حسبِ معمول پیچھے رہا۔ پھر آخری موڑ آیا۔ ریڈ پولارڈ نے لگام ڈھیلی کی۔ جیسے ’سی بسکٹ‘ برسوں سے اسی لمحے کا انتظار کر رہا ہو، وہ برق رفتاری سے آگے بڑھا، ایک ایک حریف کو پیچھے چھوڑتا گیا اور فِنش لائن سب سے پہلے عبور کر گیا۔ پورا اسٹیڈیم کھڑا ہو گیا۔ کئی تماشائیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ’سی بسکٹ‘ واپس آچکا تھا۔

سی بسکٹ کی فتح پر اخبارات کی شہ سرخیاں

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سی بسکٹ نے اپنی زندگی میں 89 ریسوں میں حصہ لیا، 33 جیتیں، 15 میں دوسرے اور 13 میں تیسرے نمبر پر رہا۔ اس زمانے میں اس نے 4 لاکھ 37 ہزار ڈالر سے زیادہ انعامی رقم جیتی، جو اس دور کے لحاظ سے غیر معمولی تھی۔ آج بھی امریکی کھیلوں کی تاریخ میں جب امید، ثابت قدمی اور واپسی کی بات ہوتی ہے تو ’سی بسکٹ‘ کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ’سی بسکٹ‘ کو کسی خاموش اصطبل میں فراموش نہیں کیا گیا۔ لوگ ہر روز اسے دیکھنے آتے تھے۔ بچے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرتے، بوڑھے اس کے ساتھ تصویریں بنواتے، اور بہت سے لوگ اپنے بچوں کو بتایا کرتے کہ یہی وہ گھوڑا ہے جس نے مشکل وقت میں پورے امریکا کو حوصلہ دیا تھا۔

17 مئی 1947 کو ’سی بسکٹ‘ اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اس کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ 1949 میں اس کی زندگی پر پہلی فلم بنی۔ بعد ازاں معروف مصنفہ لورا ہلن برانڈ نے اس کی سوانح (Seabiscuit: An American Legend) لکھی جو عالمی بیسٹ سیلر ثابت ہوئی۔ اسی کتاب پر 2003 میں ہالی ووڈ نے فلم (Seabiscuit) بنائی، جسے سات اکیڈمی ایوارڈز (آسکر) کے لیے نامزد کیا گیا۔

آج ’سی بسکٹ‘ کو گزرے قریباً آٹھ دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر اس کی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وہ کسی ریس ٹریک پر نہیں دوڑ رہا، بلکہ ہر اس انسان کے دل میں دوڑ رہا ہے جسے کبھی کمزور سمجھا گیا، ہر اس نوجوان کے خواب میں زندہ ہے جسے ناکام قرار دے دیا گیا، اور ہر اس قوم کی امید میں سانس لے رہا ہے جو مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

ریڈ پولارڈ اور سی بسکٹ

شاید یہی ’سی بسکٹ‘ کی اصل فتح تھی۔ اس نے صرف ریسیں نہیں جیتیں، اس نے انسانوں کے دل جیتے اور انہیں یہ یقین دیا کہ ابتدائی شکست، مقدر کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ ’سی بسکٹ‘ آج بھی دوڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ تاریخ کے صفحات پر، لوگوں کی یادوں میں اور ان دلوں میں جہاں شکست کے بعد بھی امید زندہ رہتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp