نظام اخلاق کا رہبر

پیر 28 ستمبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی موضوع پر تعلیم کو بہت ہی سادہ اور مختصر رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف عالم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ علم جھاڑنے کے چکر میں موضوع کو ہی ناقابل فہم بنا دیتا ہے۔ ذرا کم سہی مگر ہماری روایت میں ایسے علماء بہر حال موجود رہے ہیں جنہوں نے دینی تعلیمات کے لیے قرآن و سنت کا اسلوب ہی اختیار کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا سب سے نمایاں وصف یہی ہے کہ ان کا پورا لٹریچر نہایت سادہ اسلوب میں دین کی تعلیمات کو اردو زبان میں کھولتا ہے۔

قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید ایسے معاشرے میں نازل ہوا تھا جو علم اور فن دونوں سے فارغ تھا۔ سو اس دور کا جزیرۃ العرب تمدن اور معاشرت میں بھی اپنے زمانے کی دیگر اقوام سے بہت پیچھے تھا۔ اتنا پیچھے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کو انہیں یہ تک بھی سمجھانا پڑا کہ میرے محبوب کے حضور اپنی آواز نیچی رکھا کرو۔ حالانکہ بڑوں کے سامنے آواز نیچی رکھنا بنیادی اخلاقیات میں شامل ہے۔ ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ جاہل کو سمجھانا ایک مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو درجہ بندی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آپ اس درجہ بندی کو ہی چھیڑ دیجئے، بحران کھڑا ہوجائے گا۔ مثلا ایم فل کے استاد کو ذرا نرسری لیول کی کلاس دے کر تجربہ کر لیجئے۔ پڑھانا چھوڑیئے وہ تو ان بچوں کو سنبھال بھی نہیں پائے گا۔

سو قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کے سب سے فرسودہ سماج کو پستی سے ایسا اٹھایا کہ انسانی تاریخ کے سب سے ممتاز سماج میں بدل دیا۔ اور یہ کرشمہ قرآن و سنت نے اس حکمت عملی سے رونما کیا کہ تعلیم کو نہایت سادہ رکھا۔ مثلا ذرا رسول اللہ ﷺ کا یہ مختصر ترین ارشاد گرامی دیکھیے

“وہ شخص کامل مسلمان نہیں ہوسکتا جو اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو”

(بخاری و مسلم)

یہ ارشاد گرامی اس قدر سادہ ہے کہ ذہن سنتے ہی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شاید اشیا کی بات ہورہی ہے۔ مثلاً اپنے لیے کرنل بناسپتی پسند کرتے ہو دوسرے کے لیے بھی اسی کوالٹی کا چاول خریدو۔ مگر فی الحقیقت یہ ارشاد گرامی انسانی نفسیات کے ایک بہت بڑے تضاد کے خاتمے کا نہایت آسان طریقہ فراہم کر رہا ہے۔

ہمارا سب سے بڑا نفسیاتی تضاد یہ ہے کہ ہم اپنے لیے تو احترام چاہتے ہیں، مگر دوسرے کو احترام دیتے ہوئے ہمیں موت آتی ہے۔ ہم اپنے لیے تو یہ پسند کرتے ہیں کہ ہماری بات نہ کاٹی جائے، مگر دوسرے کو بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ اپنی کسی کامیابی پر داد و تحسین کے طالب رہتے ہیں، مگر دوسرے کے کمال کو سراہنے سے گریز کرتے ہیں۔ اپنی غلطی کے لیے وضاحت دینا پسند کرتے ہیں، مگر دوسرے کی غلطی پر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اپنے معاملے میں نیت کو حوالہ بنا لیتے ہیں، مگر کوئی اور اپنی نیت کا حوالہ دے تو فوراً یاد آجاتا ہے کہ دلوں کا حال تو صرف اللہ سبحانہ و تعالی جانتے ہیں۔ اپنی کمزوری کے لیے حالات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، مگر دوسرے کی کمزوری کو کردار کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ خود طنز کریں تو مزاح، مگر دوسرا کرے تو بدتمیزی۔

یہ بس چند مثالیں ہیں، ورنہ صورتحال اتنی خراب ہے کہ اس تضاد نے ہمارے پورے نظام اخلاق کا کسی آسیب کی طرح احاطہ کر رکھا ہے۔ خود ہم نے گڑھے کھودنے والے اوزار اٹھا رکھے ہیں، مگر دوسرے سے توقع یہی لگا کر بیٹھے ہیں کہ وہ ہمارے لیے موٹروے اور قالین بچھائے۔ اور اس طرح سوچتے وقت یہ بالکل ہی بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا میں عمل اور رد عمل کا بھی ایک اصول چل رہا ہے۔ منفی عمل کی کوکھ سے مثبت ردعمل جنم نہیں لیتا۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر انسان یہ دو الگ الگ پیمانے بناتا ہی کیوں ہے؟ اس تضاد کی جڑ میں سبب کیا موجود ہے؟ کیا ایسا وہ جان بوجھ کر کرتا ہے یا کسی بشری کمزور کے تحت ایسا ہوجاتا ہے؟ سبب اس تضاد کا یہ ہے کہ انسان اپنے عمل کو نیت سے دیکھتا ہے، اور دوسرے کے عمل کو نتیجے سے۔ مثلا ہم دیر سے پہنچے تو معلوم تھا کہ تاخیر قصدا کی یا یہ غیر اختیاری طور پر ہوگئی؟ لیکن دوسرے کا ہمیں صرف عمل نظر آرہا ہوتا ہے، اس کے پیچھے موجود سبب سے ہم لاعلم ہوتے ہیں۔ اور حسن ظن تو ہم رکھتے نہیں سو اگلا اگر حقیقی عذر بھی بیان کر رہا ہو تو ہم اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ ارشاد اسی کا حل پیش کرتا ہے۔ اگر غور کیجیے تو وہ ارشاد گرامی ہم سے یہ تقاضا نہیں کر رہا کہ دوسرے کو اچھا سمجھیے، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ دو طرح کے پیمانے استعمال کرنے سے گریز کیجیے اور خود سے یہ سوال پوچھیے کہ اگر یہی معاملہ میرے ساتھ ہوتا تو میں دوسرے سے کیا چاہتا؟ اگر جواب یہی ہے کہ آپ اپنے ساتھ رعایت چاہتے تو پھر دوسرے کے لیے بھی یہی پسند کیجیے اور اسے رعایت دیجیے۔ اس یک سطری حدیث کا کمال یہ ہے کہ یہ ہم سے دوسرے کو سمجھنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ اپنے تجربے کو معیار بنانے کا کہتی ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کو روز اپنے ہی اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ “مجھے کیا کرنا چاہیے؟” خود کچھ سمجھ نہ آئے تو مشاورت شروع کردیتے ہیں۔ ہمارا بحران یہ ہے کہ ہم اس سوال کو اپنے اعمال کی جزیات میں کھڑا کرتے ہیں۔ کسی خاص صورتحال کے بعد یا عمل سے قبل ہم خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے؟ اگر یہی سوال ہم جزیات سے نکال کر اپنے پورے لائحہ عمل کا کمپاس بنا لیں تو زندگی کا پورا نظام سدھر سکتا ہے۔ جب ہم اس سوال کو جزیات میں اٹھاتے ہیں تو ہم بھلائی اور برائی دونوں امکانات کو برقرار رکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور خود سے گویا یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ صرف بھلائی نہیں بانٹی جائے گی، موقع و محل دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ ریوڑیاں بانٹنی ہیں یا مرچیں ؟

لیکن اگر یہی سوال بڑی سطح پر لاکر یوں کھڑا کر لیا جائے کہ ہمیں دوسروں سے کس طرح پیش آنا چاہیے؟ تو یہاں رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ ارشاد گرامی یہ جواب دیتا ہے کہ ہر ہر قدم پر جو اپنے لیے پسند کرو، وہی دوسرے کے لیے بھی پسند کرو۔

یہ دوسرا سوال اگر واقعی زندگی کا مستقل سوال بن جائے تو ہر موقع پر اخلاقیات کا نیا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہی کم ہوجاتی ہے۔ یوں ایک سطر کا وہ ارشاد گرامی درحقیقت ہمارے پورے نظام اخلاق کا رہبر بن جاتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp