پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں ایک جانب دو بڑی سیاسی جماعتیں احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت اور مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز موجود ہیں۔
اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں کے باعث معمول کی ٹریفک اور شہریوں کی آمدورفت بھی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے گئے اور سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے دیا
اس سیاسی کشیدگی کے دوران جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف دونوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر 20 ستمبر کو ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بڑے قافلے کی صورت میں 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں 20 لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔
صورتحال اس وقت مزید اہم ہوگئی جب اسلام آباد کی طرف آنے والے احتجاجی قافلوں کے باعث وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور بعض موٹرویز اور شاہراہوں کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔
حکومت کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے احتجاج کو جاری رکھنے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے اعلانات کیے۔
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر
اسی دوران جماعت اسلامی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ بنا رہا۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کے 6 ادوار بھی ہوئے، تاہم فوری طور پر حتمی اتفاقِ رائے سامنے نہیں آ سکا۔
جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں احتجاجی سرگرمیاں آگے بڑھیں۔ تاہم جب مارچ ملتان پہنچا تو وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وطن واپسی کے بعد وہ جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور پیٹرولیم لیوی سمیت ان کے مطالبات پر بات چیت کریں گے۔
اس رابطے کے بعد جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا، تاہم احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد مذاکرات میں مطلوبہ پیشرفت نہ ہوئی تو اسلام آباد مارچ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس کی بنیادی ترجیح پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔
پی ٹی آئی کا احتجاج بھی مؤخر
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اسلام آباد کی جانب اپنے احتجاجی مارچ کو مؤخر کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ابتدائی طور پر 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ مختلف شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے گئے جبکہ دوسرے صوبوں سے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی۔
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود براہِ راست وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل کی فوری طور پر واضح صورت سامنے نہیں آئی۔ تاہم پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بعض مواقع پر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ دورۂ امریکا مکمل کرنے کے بعد لندن پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کا دو روز تک قیام متوقع ہے۔ اس دوران ان کا طبی معائنہ بھی متوقع ہے، جس کے بعد وزیراعظم وطن واپس روانہ ہوں گے۔
وزیراعظم کی وطن واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کے سیاسی محاذ پر احتجاجی سیاست، اپوزیشن سے رابطوں اور آئینی تقرریوں سمیت متعدد اہم معاملات زیرِ بحث ہیں۔
چنانچہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد ان کی سیاسی مصروفیات بھی خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
ان میں ایک اہم معاملہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کی تعیناتی کا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پہلے ہی اس معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھ چکے ہیں جبکہ وزیراعظم کی جانب سے بھی انہیں جواب اور ملاقات کی پیشکش کی جا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے محمود خان اچکزئی کو ایک بار پھر خط لکھ کر ملاقات اور الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں سمیت متعلقہ امور پر بات چیت کی دعوت دی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے بعض ارکان کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد نئی تقرریوں کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت آئینی عمل کا حصہ ہے، اس لیے وزیراعظم اور محمود اچکزئی کی متوقع ملاقات کو اس حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
کیا حکومت اور پی ٹی آئی میں بھی رابطہ بڑھے گا؟
وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا کوئی راستہ کھلتا ہے؟ فی الحال وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا کوئی حتمی شیڈول سامنے نہیں آیا، تاہم اپوزیشن کے مختلف حلقوں کی جانب سے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔
محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے درمیان بھی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر رابطے اور مشاورت ہوتی رہی ہے۔
ایسی صورتحال میں وزیراعظم اور محمود اچکزئی کی ملاقات محض الیکشن کمیشن کی تعیناتی تک محدود رہتی ہے یا اس کے ذریعے وسیع تر سیاسی رابطوں کا کوئی راستہ نکلتا ہے، یہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد سامنے آنے والی سیاسی پیشرفت پر منحصر ہوگا۔
جماعت اسلامی بھی وزیراعظم سے ملاقات کی منتظر
جماعت اسلامی بھی وزیراعظم کی وطن واپسی کی منتظر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران وطن واپسی پر ملاقات اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بات چیت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسی یقین دہانی کے بعد جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ مؤخر کیا، تاہم احتجاجی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں کیں۔
چنانچہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ایک طرف محمود خان اچکزئی کے ساتھ ملاقات اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا معاملہ اہم ہوگا، دوسری جانب جماعت اسلامی کے ساتھ پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات بھی سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے مؤخر کیے گئے احتجاج اور حکومت کے ساتھ ممکنہ سیاسی رابطے بھی توجہ کا مرکز رہیں گے۔
یوں وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حکومت کو بیک وقت آئینی تقرریوں، اپوزیشن سے سیاسی رابطوں، پی ٹی آئی کے احتجاج اور جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی سے متعلق مطالبات سمیت کئی اہم معاملات کا سامنا ہے۔ اب وزیراعظم کی واپسی کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت ان معاملات کو کس ترتیب سے آگے بڑھاتی ہے اور کیا سیاسی رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل میں کوئی نئی پیشرفت سامنے آتی ہے۔













