پاکستان مسئلہ افغانستان کے قابل قبول اور دوستانہ حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، عطا اللہ تارڑ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے جس کے لیے دیرپا اور پائیدار حل کی ضرورت ہے، پاکستان افغانستان کے مسئلے کے قابل قبول اور دوستانہ حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، عطا اللہ تارڑ کا دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ

اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیشرفت کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے متعدد اعلیٰ سطح وفود افغانستان بھیجے، جبکہ استنبول اور دوحا میں بھی مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کی سوچ اپنانا ہوگی، افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا اور عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کی محفوظ پناہ گاہیں تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا جواب دیا گیا ہے اور دیا جائے گا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور گوادر تک تجارتی راستہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی دیرینہ خواہش ہے۔ افغانستان میں امن سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خطے میں امن سے تجارت کو فروغ اور سرمایہ کاری کو تقویت ملے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان آبادی بڑی تعداد میں نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت کا حصہ نہیں۔ افغانستان میں آبادی کے بعض طبقات کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع نہیں مل رہے جبکہ بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان عوام تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق کے مستحق ہیں۔ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے میں اپنی آواز اور اختیار ملنا چاہیے، جبکہ افغان عوام اور عبوری حکومت کے درمیان بڑا خلا موجود ہے۔

مزید پڑھیں:اداکار محمد احمد کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد عطا اللہ تارڑ کی نوجوان فنکاروں کے لیے مینٹورشپ پروگرام کی تجویز

انہوں نے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی کے لیے ’خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو‘ کے اصول کو اپنانا ہوگا، صرف امن ہی خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ افغانستان میں اتفاق رائے پیدا کرکے عوام کو اپنے مستقبل کے انتخاب کا حق دینا ہوگا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان عوام بہتر اور خوشحال مستقبل کے مستحق ہیں، جبکہ علاقائی امن اور تجارت کے فروغ کی خواہش پورے خطے میں موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp