نیویارک میں پاکستان کی آواز

منگل 29 ستمبر 2026
author image

محمد اشرف صدا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی اکیاسی ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا خطاب ایک انتہائی متوازن، باوقار، مدبرانہ اور اصولی خطاب تھا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا اور قوم و مسلم امہ کے دل کی آواز کو دنیا کے سب سے بڑے فورم پر انتہائی موثر انداز میں پیش کیا۔  یہ اِن کا جنرل اسمبلی سے چوتھا خطاب تھا جس میں انہوں نے انتہائی نازک عالمی حالات میں پاکستان کے ایک ذمہ دار، امن پسند اور اصولوں پر قائم ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو محاذ آرائی پر، تعاون کو جبر پر اور امن کو جنگ پر ترجیح دی ہے اور آج بھی پاکستان کا یہی پیغام ہے کہ دنیا کو تصادم کے بجائے مکالمے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز تلاوت قران پاک کے بعد ایک انتہائی حساس اور اہم اسلامی نکتے سے کیا، جس نے پوری امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کی۔ انہوں نے  سعودی عرب اور مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر حملہ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے کبھی بھی عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ریاست کے خلاف نہیں، بلکہ خطے میں اجتماعی دفاع، استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ہے۔ اس اعلان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی تصور کرتا ہے۔

علاقائی کشیدگی کے حوالے سے وزیر اعظم نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ جب خطے میں میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی گھن گرج تھی تو پاکستان نے موثر ترین سفارت کاری کے زریعے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے جمع کر کے امن اور مذاکرات کی راہ ہموار کی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مفاہمت کی یادداشت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم و تاریخی  قدم تھی۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کی شہ رگیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان آبی گزرگاہوں کو خوشحالی کا پیغام دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ جنگ کے خطرات کا مرکز بننا دنیا کے مفاد میں ہے۔

کشمیر کے مسئلے پر وزیر اعظم نے انتہائی جرات،  اور قومی امنگوں کے مطابق بات کی۔ انہوں نے دو ٹوک  کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کو اس کے اپنے وعدوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی کئی نسلیں اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کی منتظر ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور وہاں کی قانونی و آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی۔

وزیر اعظم نے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اپنی مکمل اتھارٹی کے ساتھ یقین دلایا کہ پاکستان ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول تک ان کی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا یہ تاریخی جملہ کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔

پانی کے انتہائی اہم مسئلے پر بھی وزیر اعظم نے بھارت کو  دوٹوک اور واضح پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، دریاؤں کو قوموں کو سیراب کرنا چاہیے نہ کہ تقسیم کرنا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بدستور قانونی اور قابل عمل ہے۔ وزیر اعظم نے انتہائی واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔

فلسطین کے مسئلے پر وزیر اعظم کا خطاب انسانیت کے ضمیر کی آواز تھا۔ انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت اور معصوم بچوں کی شہادتوں کا انتہائی دردناک انداز میں ذکر کیا۔ انہوں نے فلسطینی بچی ہند رجب اور بافہ عقیلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس دن اسے اسکول کے پہلے دن کی خوشی منانی تھی وہ اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔ انہوں نے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا واحد منصفانہ حل 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں اور افغان حکام کو اسے روکنے کے لیے قابل تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے افغان خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی پر عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن بار بار اس کے ہولناک نتائج بھگتتا ہے۔

پوری قوم وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو اس تاریخی، جرات مندانہ، باوقار اور قومی غیرت سے بھرپور خطاب پر دل کی گہرائیوں سے زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

انہوں نے جس بہادری، حکمت اور بصیرت کے ساتھ کشمیر، فلسطین، افغانستان، حرمین شریفین کی حرمت اور پانی جیسے انتہائی حساس قومی سلامتی کے امور پر پاکستان کا دوٹوک موقف دنیا کے سامنے رکھا وہ قابل فخر ہے۔

ہم وزیر اعظم ، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزارت خارجہ کی پوری ٹیم کو بھی اس شاندار سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے دن رات محنت کر کے پاکستان کا مقدمہ انتہائی موثر انداز میں تیار کیا۔ وزیر اعظم نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک مدبر، دور اندیش اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والے حقیقی قومی رہنما ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp