معروف صحافی عنبر شمسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ سیاسی بے یقینی بھی مسلسل برقرار ہے۔ ملک کئی برس سے انتقام کے چکر میں پھنسا ہوا ہے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔
وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عنبر شمسی نے پاکستان میں صحافت کے بدلتے ہوئے رجحانات، خواتین صحافیوں کو درپیش مشکلات، یوٹیوب صحافت، دہشتگردی، سیاسی کشیدگی اور عوام کے سیاست سے تعلق سمیت مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
صحافت میں رفتار بڑھی، تحقیق کے لیے وقت کم ہو گیا
صحافت میں اپنے 20 سے 25 سالہ سفر کا ذکر کرتے ہوئے عنبر شمسی نے کہا کہ جب انہوں نے صحافت شروع کی تو اس وقت رپورٹنگ، انٹرویو، تصدیق اور خبر کی تدوین کے لیے زیادہ وقت میسر ہوتا تھا۔
ان کے مطابق وہ ابتدا میں پرنٹ میڈیا کے لیے کام کرتی تھیں، جہاں خبر اگلے روز شائع ہوتی تھی، جبکہ ہفت روزہ جریدے کے لیے کام کرتے ہوئے مواد کی اشاعت ایک ہفتے بعد ہوتی تھی، اس لیے صحافیوں کے پاس انٹرویو، تصدیق، رپورٹنگ اور تدوین کے لیے مناسب وقت موجود ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب صورتِ حال مختلف ہے، خبر فوری طور پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پہنچانے کا دباؤ ہوتا ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
عنبر شمسی کے مطابق اس کے باوجود تحقیقاتی صحافت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بعض ڈیجیٹل ادارے تحقیقاتی صحافت کو ویڈیو، تحریری اور آن لائن شکل میں شائع کر رہے ہیں، جبکہ بعض بڑے ادارے اب بھی پرنٹ صحافت جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ’ڈان’ بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ حال ہی میں صحافیوں کی ایک تربیت کروا رہی تھیں، جس میں شریک تمام افراد تحقیقاتی صحافت سے وابستہ تھے اور ان کے پاس تحقیقاتی تحریریں بھی تھیں۔ ان صحافیوں کو کام کے لیے وقت اور وسائل دیے جا رہے تھے، تاہم ان میں سے زیادہ تر اپنی تحریریں چھوٹے ڈیجیٹل اداروں پر شائع کرنا چاہتے تھے اور بہت سے افراد آزاد صحافت کے طور پر کام کر رہے تھے۔
عنبر شمسی نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کی رسائی اور اسے کرنے کے لیے دستیاب وقت پہلے جیسا نہیں رہا۔
ڈیجیٹل میڈیا میں براہِ راست ردعمل ایک بڑا فائدہ
صحافت کے اثرات میں آنے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے عنبر شمسی نے کہا کہ ایک زمانے میں ’ڈان‘ یا کسی دوسرے بڑے پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی خبر یا مضمون کئی دنوں تک زیرِ بحث رہتا تھا، جبکہ ٹیلی ویژن آنے کے بعد بریکنگ نیوز کے دور میں صحافت کی نوعیت میں مزید تبدیلی آئی۔
انہوں نے کہا کہ پرنٹ صحافت کے دور میں براہِ راست ردعمل کم ملتا تھا، جو ایک نقصان تھا۔ ہیرالڈ میگزین میں کام کے دوران قارئین کی جانب سے ایڈیٹر کو خطوط موصول ہوتے تھے۔
عنبر شمسی نے کہا کہ جب کسی مضمون پر قارئین اپنا ردِعمل تحریری شکل میں بھیجتے تھے اور وہ خط اخبار یا رسالے کے ذریعے ان تک پہنچتا تھا تو اس سے خوشی ہوتی تھی، تاہم ڈیجیٹل صحافت میں قارئین سے براہِ راست رابطہ اور ردِعمل ملنا ایک خوبصورت پہلو ہے۔
ان کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا میں قارئین براہِ راست رائے دیتے ہیں اور غلطیوں کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔
خواتین صحافیوں کے لیے مواقع بھی بڑھے، مشکلات بھی برقرار
خواتین صحافیوں کے لیے گزشتہ 15 سے 20 برس کے دوران مواقع میں آنے والی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے عنبر شمسی نے کہا کہ جب انہوں نے صحافت شروع کی تو اس شعبے میں خواتین کی تعداد بہت کم تھی اور زیادہ تر خواتین میگزین اور ڈیسک پر کام کرتی تھیں، جبکہ خواتین رپورٹرز بہت کم دکھائی دیتی تھیں۔
ان کے مطابق تقریباً 10 سال پہلے خواتین رپورٹرز کی تعداد بڑھنے لگی اور کچھ خواتین سنجیدہ سیاسی پروگراموں کی میزبانی بھی کرنے لگیں۔ بعض خواتین نے بیورو کی سربراہی بھی کی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ کووِڈ کے دور میں جب بڑی تعداد میں صحافیوں کی ملازمتیں ختم ہوئیں تو خواتین صحافی بھی اس سے متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق کسی ادارے میں ملازمت ختم کرنے کے معاملے میں خواتین کو اکثر اس مفروضے کی بنیاد پر پہلے فارغ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پیشے کے حوالے سے اتنی سنجیدہ نہیں، انہیں ملازمت کی اتنی ضرورت نہیں یا وہ خاندان کی کفالت نہیں کر رہیں۔
عنبر شمسی نے کہا کہ ملازمت سے فارغ ہونے والی بہت سی خواتین نے اس کے باوجود صحافت نہیں چھوڑی بلکہ فیلڈ میں جا کر رپورٹنگ کی اور مختلف موضوعات پر کام جاری رکھا۔
ان کے مطابق آزاد صحافت کے مواقع بھی بڑھے ہیں اور بہت سی خواتین تحقیقاتی صحافت یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، جبکہ کچھ نے اپنے ادارے بھی شروع کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیوز روم میں کام کرنا خواتین کے لیے کئی حوالوں سے مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہاں زیادہ تر مرد ہوتے ہیں۔ خواتین کو خاندان کے دباؤ، باہر جانے، آمدورفت اور دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ صنفی تعصب، خواتین مخالف رویے اور ہراسانی بھی موجود ہے۔
یوٹیوب صحافت میں روزگار کا موقع، مگر سنسنی کا دباؤ
یوٹیوب صحافت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر عنبر شمسی نے کہا کہ وہ روایتی صحافت سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلسل جدت کو روکنے کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ٹیلی ویژن چینلز شروع ہوئے تھے تو پرنٹ سے وابستہ روایتی صحافیوں نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا اور اسے صحافت کے بجائے سنسنی قرار دیا تھا، تاہم آج ٹیلی ویژن سے بھی زیادہ سنسنی یوٹیوب پر نظر آتی ہے۔
عنبر شمسی نے کہا کہ بعض اوقات ایسے مواد کو زیادہ ناظرین ملتے ہیں جس میں سنسنی شامل ہو۔ ان کے مطابق اگر کسی مواد میں سنسنی نہ ہو تو اس کی مقبولیت متاثر ہو سکتی ہے اور ناظرین بھی اکثر سنسنی خیز مواد دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ کام کے دوران ان کی ٹیم نے مختلف تجربات کیے اور کوشش کی کہ سنسنی کے بغیر اچھی صحافت کی جائے، تاہم ہر پلیٹ فارم پر ناظرین کی پسند کو بھی مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔
عنبر شمسی نے کہا کہ اس لیے بعض اوقات تھوڑا بہت ’مصالحہ‘ شامل کرنا پڑتا ہے، تاہم ان کی کوشش ہوتی تھی کہ تھم نیل ایسا نہ ہو جو جھوٹ پر مبنی یا کلک بیٹ ہو۔
ان کے مطابق یوٹیوب نے بے روزگار ہونے والے صحافیوں کو کم از کم یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں اور اپنا ادارہ یا پلیٹ فارم چلا سکیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوب صحافی بھی دراصل اپنا کاروبار چلا رہے ہوتے ہیں اور انہیں بھی معلوم ہوتا ہے کہ ناظرین کیا دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر بھی ناظرین حاصل ہوتے ہیں، جبکہ اکیلے کام کرنے والے صحافیوں کے لیے معلومات کی تصدیق کا عمل بھی ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال میں ذمہ داری صرف صحافی کی نہیں بلکہ ناظرین کی بھی ہے۔ اگر ناظرین سنجیدہ اور معیاری صحافت دیکھیں گے تو صحافی بھی ایسا مواد بنائیں گے، لیکن اگر ناظرین سنسنی دیکھیں گے تو اسی نوعیت کا مواد زیادہ تیار ہوگا۔
پاکستان ہمیشہ ’نازک موڑ‘ پر رہا ہے
پاکستان کی موجودہ صورتِ حال پر عنبر شمسی نے کہا کہ گزشتہ 25 برس سے وہ صحافت کر رہی ہیں اور اس دوران پاکستان کو مسلسل ’نازک موڑ‘ پر قرار دیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے صحافت شروع کی تو نائن الیون کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد کراچی میں دہشتگردی کے واقعات، غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات، کے ایف سی پر حملے اور ہنگامہ آرائی سمیت مختلف واقعات پیش آئے۔
ان کے مطابق بعد ازاں وہ اسلام آباد منتقل ہوئیں تو پرویز مشرف کا دور، وکلا تحریک، لال مسجد کا واقعہ اور اسلام آباد میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھنے میں آئے۔
عنبر شمسی نے 2013 کے عام انتخابات کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً روزانہ پانچ، چھوٹے یا بڑے، دہشتگردی کے واقعات پیش آتے تھے۔ بعض اوقات ایک دھماکے کی اطلاع ملنے کے بعد دوسرا دھماکا ہو جاتا تھا اور صحافیوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ کس واقعے کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔
دہشتگردی کا دیرپا حل تلاش نہیں کیا جا سکا
عنبر شمسی نے کہا کہ پاکستان میں ایک وقت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش نہیں کیا جا سکا اور جو حل نکالا گیا وہ عارضی ثابت ہوا۔
انہوں نے دہشتگردی کے مسئلے کو پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور خطے کی تاریخ سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد یہ تصور کیا گیا کہ شاید یہ حکومت پاکستان کے لیے دوست حکومت ثابت ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
عنبر شمسی نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں ایسے ممالک سے ملتی ہیں جہاں مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہیں اور پاکستان خود بھی بہت زیادہ وسائل رکھنے والا ملک نہیں، اس لیے دہشتگردی کے مسئلے کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف نوعیت کے گروہوں سے خطرات موجود ہیں، جن میں بلوچستان میں قوم پرست گروہ، فرقہ وارانہ عناصر اور افغانستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کی جانب سے بھی بعض خطرات سامنے آتے ہیں۔
سیاسی بے یقینی اور ’انتقام کے چکر‘ کا ذکر
پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی پر عنبر شمسی نے کہا کہ ملک کے نظام میں طاقت کا توازن موجود نہیں اور یہ سوال بھی موجود ہے کہ کس کے پاس طاقت اور وسائل ہیں، کس کو انتخاب کا حق حاصل ہے اور کون حکمرانی کرے گا۔
ان کے مطابق سیاسی نظام میں جواب دہی کے فقدان کی وجہ سے سیاسی بے یقینی برقرار رہتی ہے۔
عنبر شمسی نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ خاموش رہے گی۔ وہ ردِعمل بھی دے گی اور احتجاج بھی کرے گی، جس کے نتیجے میں اس پر مزید سختی ہو سکتی ہے اور یوں ملک ایک ہی چکر میں پھنسا رہتا ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتِ حال کو ’انتقام کے چکر‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایک فریق دوسرے سے انتقام لیتا ہے اور جب طاقت دوسرے فریق کے پاس آتی ہے تو وہ بھی بدلہ لیتا ہے۔
ان کے مطابق اگر موجودہ دور ختم بھی ہو جائے تو یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا، کیونکہ جس دوسرے فریق کو یہ احساس ہوگا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، وہ بھی ردِعمل دے گا۔
سیاسی بحران کا حل سیاست دانوں کو نکالنا ہوگا
اسلام آباد میں احتجاج اور مسلسل بندشوں کے تناظر میں سیاسی بحران کے حل کے سوال پر عنبر شمسی نے کہا کہ اس کا حل سیاست دانوں کو سوچنا ہے، صحافی صرف مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں، حل نہیں دے سکتے۔
ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بھی اور موجودہ اپوزیشن جماعتوں میں بھی بعض سنجیدہ سیاست دان مسلسل مفاہمت اور مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملک اسی طرح سیاسی کشیدگی میں پھنسا رہا تو پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا، کیونکہ ہر معاملہ سیاسی بے یقینی سے جڑا ہوا ہے۔
عوام کا سیاست سے تعلق کم ہوا ہے
عنبر شمسی نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پاکستان کے عوام اب اسی طرح قومی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں جیسے ماضی میں تھے، کیونکہ لوگوں کے اپنے مسائل بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور روزمرہ زندگی کے مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ عام آدمی کے لیے سیاسی معاملات پر توجہ دینا مشکل ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق ایک زمانے میں سیاسی کارکن متحرک ہوتے تھے، لیکن اب وہ بھی ایک طرف ہو کر بیٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔
عنبر شمسی نے کہا کہ موجودہ طرز کی سیاست سے عوام کا تعلق اس لیے بھی کم ہوا ہے کیونکہ یہ عوام کو کچھ فراہم نہیں کرتی۔
ان کے مطابق اگر سیاست عوام کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے تو اسے عوام کو نتائج اور سہولت فراہم کرنا ہوگی۔ اس وقت سیاست سڑکوں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیادہ تر لڑائی جھگڑے کی شکل اختیار کر چکی ہے، کیونکہ پارلیمان مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ جب سیاست صرف دکھاوے اور احتجاج تک محدود ہو جائے تو عوام مایوس ہوں گے۔
عنبر شمسی کے مطابق سیاست دانوں کو عوام کے لیے کام کرنا ہوگا، کیونکہ عوام کی سیاست میں دلچسپی اسی وقت بڑھے گی جب سیاست ان کی زندگی میں بہتری لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز کی سیاست ٹیلی ویژن اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے لیے تو اچھی اور تفریح کا ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن اس سے پاکستانی قوم کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔













