خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانا حکومت کی نااہلی ہوگی، لیاقت بلوچ

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا حکومت کی مزید نااہلی ہوگی، حکومت ایسا کرکے خود اپنی تباہی کو دعوت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا اقدام اٹھانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حق یا بنیاد موجود نہیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان واپس آگئے ہیں، انہوں نے حافظ نعیم الرحمان اور عمان صاحب کو ٹیلیفون کرکے درخواست کی تھی کہ ان کی واپسی کا انتظار کیا جائے، وہ واپس آکر اس معاملے پر مکمل بات کریں گے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم کی واپسی کے بعد کچھ وقت تو گزرے گا، لیکن توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اجلاس بلائیں گے تاکہ تمام معاملات پر بات ہوسکے۔ عوام منتظر ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات پر جو لیوی بھتہ ہے، اس کا خاتمہ ہوگا۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرے گی اور نہ لامحدود وقت تک انتظار کرے گی۔ جتنا جلد ممکن ہو، یہ حکومت کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر حکومت لیت و لعل سے کام لے گی، ٹال مٹول کرے گی یا تاخیری حربے استعمال کرے گی تو جماعت اسلامی کا حق ہوگا کہ کراچی سے راولپنڈی اور پھر ملتان پہنچنے والے سپر لانگ مارچ کا ملتان سے دوبارہ آغاز کیا جائے۔

حکومت کی جانب سے احتجاج کے لیے اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہ دینے اور راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شاید حکومت سمجھتی ہے کہ کوئی پُرتشدد احتجاج ہوگا، تاہم جماعت اسلامی کی تاریخ حکومت بھی جانتی ہے اور وزرا بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی شائستگی، مہذب طریقے اور دلیل کے ساتھ عوام کے مسائل پر احتجاج کرتی ہے اور دلیل سے بات بھی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پُرامن، آئینی، جمہوری اور سیاسی حق ہے، جماعت اسلامی کبھی تشدد کی طرف نہیں جاتی۔ پُرامن سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد سیاست کی طاقت اور جمہوریت کا حسن ہے، جبکہ تشدد سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرتا اور غیر آئینی قوتوں کو طاقتور بناتا ہے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ ممکنہ تعاون سے متعلق سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ماضی میں حکومت میں پی ٹی آئی کے ساتھ رہی ہے اور ایک موقع پر احتجاج میں بھی ساتھ دیا تھا، لیکن اس کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ اس وقت کوئی اتحاد نہیں، ہر جماعت اپنے پلیٹ فارم سے احتجاج کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے اور وہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور دعوت دینے کی بات کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان اور عمان صاحب سے ملاقات کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ باتیں تو ہو رہی ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کیا آئین کے اس اختیار کے استعمال کی حکومت کو کوئی بنیاد یا حق مل گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا کوئی حق نہیں ملا اور کوئی ایسی بنیاد بھی نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا حکومت کی مزید نالائقی ہوگی اور وہ خود اپنی تباہی کو دعوت دے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp