کیا انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھ گئی؟ نوٹیفکیشن سے متعلق ایف بی آر کی وضاحت جاری

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 15 اکتوبر تک توسیع کے وائرل نوٹیفکیشن کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 30 ستمبر ہی آخری تاریخ ہے۔

ایف بی آر نے باضابطہ جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی طے شدہ تاریخ میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سپر ٹیکس کیسز: ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے کل تک کی مہلت

بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) کے لیے 30 ستمبر کو ہی حتمی تاریخ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

گمراہ کن نوٹیفکیشن کی تفصیلات

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی دستاویز پر 30 ستمبر 2026 کی تاریخ درج تھی اور اسے ’سرکلر نمبر 4 آف 2026-27 آئی آر آپریشنز‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔

اس نوٹیفکیشن میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214A کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ تجارتی تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواست پر تاریخ میں 15 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

گزشتہ برس کے نوٹیفکیشن سے مماثلت

ایف بی آر کے مطابق یہ سرکلر اس لیے اصل محسوس ہوا کیونکہ گزشتہ برس ٹیکس سال 2025 کے موقع پر جب 15 اکتوبر تک کی باضابطہ توسیع کی گئی تھی، تو اسی قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

عناصر نے اسی پرانی تحریر کا سہارا لے کر ٹیکس دہندگان میں مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

آئرس سسٹم کے ذریعے فوری جمع کرانے کی ہدایت

ایف بی آر نے تمام ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹشنرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکس سے متعلق تمام اعلانات کی تصدیق کے لیے صرف اور صرف بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ہی استعمال کریں۔

مزید پڑھیں:انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹیکس وصولی میں شارٹ فال کا سامنا کیوں؟

بورڈ نے تاکید کی ہے کہ جن افراد نے ابھی تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے، وہ 15 اکتوبر کی افواہ کا انتظار نہ کریں اور فوری طور پر ’آئرس‘سسٹم کے ذریعے اپنے فائلنگ کے مرحلے کو مکمل کریں۔

تاخیر کی صورت میں جرمانوں کا انتباہ

بورڈ کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے داخل کرنے والوں کو قانون کی دفعہ 182 کے تحت مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ تاخیر سے فائل کرنے والے افراد کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (اے ٹی ایل) میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے فاضل سرچارج ادا کرنا ہوگا جس سے ان کا اے ٹی ایل اسٹیٹس متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ پر سوشل میڈیا پر جعلی نوٹیفکیشنز گردش کرنے کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔

ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (اے ٹی ایل) میں نام برقرار رکھنا شہریوں کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور بینکنگ ٹرانزیکشنز پر کم سے کم ٹیکس کٹوتی کی سہولت حاصل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp