افغانستان میں دہشتگردوں کے 2 ٹھکانوں پر فضائی حملے، 22 فتنۃ الہندوستان ہلاک

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق آپریشن ’غضب لِلحق‘ اور دہشتگردوں، ان کے نیٹ ورکس اور معاونین کے خاتمے کے عزم کے تحت افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں ’فتنۃ الخوارج‘ اور ’فتنۃ الہندوستان‘ کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت فضائی کارروائیاں کی گئیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان بہترین کام کررہا ہے، وہاں عظیم وزیراعظم اور جنرل ہیں، ٹرمپ کا آپریشن غضب للحق پر ردعمل

وزارت اطلاعات کے مطابق قابل اعتماد انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں 2 مقامات پر ’فتنۃ الخوارج‘، ’فتنۃ الہندوستان‘ اور ان سے منسلک عناصر کے دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو درست نشانہ بنایا گیا، کارروائی میں متعدد دہشتگرد مارے گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں 22 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی کوشش کی ہے، تاہم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

افغانستان کا دہشتگردی کا مرکز بنے رہنا باعث تشویش ہے اور پاکستان کو درپیش دہشتگردی کا خطرہ افغانستان سے ہے، اسی تناظر میں دہشتگردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صلاحیتوں کے ہم ہی نہیں امریکا بھی معترف ہے، وزیراعظم شہبازشریف

بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی غیر متعلقہ نقصان نہ ہو۔

وزارت اطلاعات کے مطابق ’عزم استحکام‘ کے وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ’غضب لِلحق‘ کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp