امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسی میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں یکم اکتوبر سے نافذ کردی گئی ہیں۔
جن کے تحت غیر ملکی شہریوں کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے کے ساتھ بعض گرین کارڈ کیٹیگریز میں پیش رفت، صحت کی سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے سخت شرائط اور ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی اضافی جانچ شامل ہے۔
نئے وفاقی مالی سال کے آغاز پر امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزا منسوخی کی وجوہات میں ویزا شرائط کی خلاف ورزی، جرائم، دھوکا دہی، امیگریشن نظام کے مبینہ غلط استعمال اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ہر ویزا فیصلہ قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ویزوں کی منسوخی وسیع تر جانچ پڑتال اور نگرانی کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق تقریباً 2,300 ویزے نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ کے معاملات میں منسوخ کیے گئے، جن میں حاملہ غیر ملکی خواتین امریکی سرزمین پر بچے کی پیدائش کے مقصد سے سفر کرتی ہیں۔
State Department has revoked over 250K visas in mass immigration vetting crackdown under Trump admin https://t.co/IS9mDTnUr4 pic.twitter.com/8FI49y7nZ2
— New York Post (@nypost) September 30, 2026
اس کے علاوہ بولیویا، کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو سے تعلق رکھنے والے 27 موجودہ یا سابق حکام اور ان کے اہل خانہ کے ویزے بھی مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے باعث منسوخ کیے گئے۔
انتظامیہ ایسے تقریباً 2 لاکھ افراد کے بزنس اور ٹورسٹ ویزے بھی منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جو بی ون یا بی 2 ویزوں پر امریکا داخل ہوئے اور بعد ازاں پناہ کی درخواستیں دیں۔
امریکی حکام نے بعض ایسی درخواستوں کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پناہ کا نظام حقیقی طور پر ظلم و ستم کا سامنا کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے ہے۔
گرین کارڈ درخواست گزاروں کے لیے تبدیلیاں
یکم اکتوبر سے نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ کے سالانہ کوٹے بھی دوبارہ فعال ہوگئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اکتوبر 2026 کے ویزا بلیٹن کے مطابق بعض روزگار پر مبنی کیٹیگریز میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم کچھ دیگر کیٹیگریز میں تاریخیں پیچھے بھی گئی ہیں۔
بھارتی درخواست گزاروں کے لیے ای بی ون کی فائنل ایکشن تاریخ یکم فروری 2023، ای بی 2 کے لیے یکم نومبر 2013 اور ای بی 3 کے لیے یکم جنوری 2014 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز پر سالانہ ویزا حدود دوبارہ مقرر ہونے سے بعض درخواست گزاروں کو ویزا جاری کیے جانے کا امکان پیدا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا کی اضافی جانچ
یکم اکتوبر سے امریکی محکمہ خارجہ نے بعض مزید نان امیگرنٹ ویزا کیٹیگریز کے درخواست گزاروں کے لیے سوشل میڈیا جانچ کا دائرہ بھی بڑھا دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے لیے I ویزا جبکہ کینیڈین اور میکسیکن پیشہ ور افراد اور ان کے اہل خانہ کے ٹی این اور ٹی ڈی ویزوں کے درخواست گزار بھی اس جانچ میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ویزا مسترد ہونے پر خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کرلی
متعلقہ درخواست گزاروں کو اپنے سوشل میڈیا پروفائلز جائزے کے لیے قابل رسائی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب بعض غیر شہریوں کے لیے میڈیک ایڈ اور چپ جیسے سرکاری صحت پروگراموں تک رسائی کے قواعد بھی سخت کیے گئے ہیں۔
امریکی امیگریشن ماہرین کے مطابق نئی تبدیلیوں کے اثرات ہر فرد کی ویزا کیٹیگری، امیگریشن حیثیت، ملک اور درخواست کی ترجیحی تاریخ کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔














