حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان درپردہ مذاکرات جاری، ناکامی پر گورنر راج بھی زیرِ غور ہے، رانا ثنا اللہ

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ 4 اکتوبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں کے درمیان ’آف دی ریکارڈ‘مذاکرات جاری ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔

جمعرات کو ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے تصدیق کی کہ پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر قیادت کے ساتھ در پردہ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کے تمام کام غیر آئینی ہیں، گورنر راج  کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، رانا ثنا اللہ

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے مجوزہ احتجاج کی کال واپس نہ لی، تو لانگ مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کرنا سراسر آئینی اور قانونی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔

گورنر راج کا آپشن اور پارلیمانی منظوری

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما نے ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بتایا کہ آئینِ پاکستان میں گورنر راج کے نفاذ کا ایک واضح طریقہ کار موجود ہے اور وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں اس سنگین آپشن کو استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ مکمل آئینی عمل اور پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں سے متعلق فیصلے کرنے کا حتمی اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے اور جب یہ حساس معاملہ ایوان میں آئے گا تو وزیراعظم شہباز شریف خود حکومتی مؤقف پوری صراحت کے ساتھ پیش کریں گے۔

پارٹی فیصلوں پر سوشل میڈیا کا غلبہ

پی ٹی آئی کی موجودہ فیصلہ سازی پر تنقید کرتے ہوئے مشیرِ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اس وقت تحریک انصاف کے معاملات کو سیاسی قیادت کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چلانے والے افراد ڈکٹیٹ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:نئے صوبوں پر بحث سیمینارز میں نہیں، پارلیمنٹ میں ہوگی، تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی قیادت مل کر معاملہ طے کریں گی، رانا ثنا اللہ

اپنی جماعت کے قائد میاں نواز شریف کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو آج بھی ان کی مکمل رہنمائی حاصل ہے۔

حکومت اور پارٹی کے تمام اہم اور بڑے فیصلوں پر قائد کی منظوری لی جاتی ہے اور جب موجودہ بحران مناسب فورم پر جائے گا، تو نواز شریف بھی اپنا دو ٹوک مؤقف دیں گے۔

 واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اس سے قبل اسلام آباد کی جانب اپنے مجوزہ لانگ مارچ کو 27 ستمبر سے ملتوی کر کے 4 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سابقہ حکمران جماعت کے مطابق اس احتجاج کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور ملک میں آئینی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

حکومتی مذاکرات اور گورنر راج کی دھمکیوں کے بعد اب 4 اکتوبر کا دن ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp