ستمبر میں مہنگائی کی شرح کم، خوراک سستی، مگر بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے مطابق غذائی اجناس کی قیمتوں میں سست روی کے باعث ستمبر 2026 میں ملک میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح گھٹ کر 10.3 فیصد پر آ گئی ہے، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔

ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں یہ کمی اگست کے برعکس ہے جہاں جولائی کی 9.2 فیصد کے مقابلے میں سالانہ شرح بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی تھی۔

ستمبر میں مہنگائی میں کمی کا اثر دیہی علاقوں میں زیادہ نمایاں رہا جہاں شرح 12.2 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 10.4 فیصد سے معمولی گھٹ کر 10.1 فیصد درج کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں مہنگائی کی شرح اگست 2026 میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی

تاہم سالانہ شرح میں کمی کے باوجود ماہانہ بنیادوں پر اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران عمومی قیمتوں میں 1.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی اشیا کی قیمتوں پر دباؤ اب بھی موجود ہے۔

غذائی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی، لیکن نان فوڈ آئٹمز مہنگے

پی بی ایس ڈیٹا کے مطابق ستمبر کے دوران مہنگائی میں کمی کی بنیادی وجہ خوراک کی قیمتوں میں سست روی رہی۔ شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی اگست کے 12.1 فیصد سے گھٹ کر 8.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 13.2 فیصد سے کم ہو کر 7.7 فیصد پر آگئی۔

اس کے برعکس، غیر غذائی (نان فوڈ) اشیا کی قیمتیں مخالف سمت میں گئیں۔ شہری علاقوں میں غیر غذائی مہنگائی 9.4 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 11.3 فیصد سے بڑھ کر 13.1 فیصد ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ بجلی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔

بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے چارجز میں 15.28 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں موٹر فیول کی قیمتوں میں 10.76 فیصد اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں ماہانہ 5.75 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 27.43 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس کے شعبے میں ستمبر کے دوران 3.05 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 12.39 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ستمبر 2026 کے دوران کون سی اشیا مہنگی اور سستی ہوئیں؟

ماہانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں پیاز 39.38 فیصد، چنے کی دال 2.42 فیصد، اور گندم کا آٹا 1.72 فیصد شامل ہیں۔ جبکہ غیر غذائی اشیا میں ایل پی جی 7.58 فیصد، میڈیکل ٹیسٹ 1.64 فیصد اور ڈاکٹروں کی فیس 1.41 فیصد مہنگی ہوئی۔

مزید پڑھیں:جولائی اور اگست میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی

دوسری جانب، ماہانہ بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 27.87 فیصد، مرغی 7.57 فیصد، مونگ دال 3.41 فیصد، انڈے 2.92 فیصد اور تازہ پھل 2.56 فیصد سستے ہوئے۔

سالانہ بنیادوں پر اگر جائزہ لیا جائے تو پیاز 136.70 فیصد اور ایل پی جی 53.98 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ آلو 34.47 فیصد اور چینی 21.82 فیصد سستی ہوئی۔

وزارتِ خزانہ کی پیشگوئی اور معاشی تناظر

وزارتِ خزانہ نے اپنے ستمبر 2026 کے معاشی آؤٹ لک میں پہلے ہی توقع ظاہر کی تھی کہ اس مہینے مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہے گی۔

وزارت نے خبردار کیا تھا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کے باعث ملکی سطح پر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات غیر غذائی شعبے میں صاف نظر آ رہے ہیں۔

کور انفلیشن، جس میں خوراک اور توانائی کے غیر مستحکم اجزا شامل نہیں ہوتے، اس میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔

شہری کور انفلیشن اگست کے 8.8 فیصد کے مقابلے میں 8.6 فیصد اور دیہی کور انفلیشن 8.5 فیصد کے مقابلے میں 8.1 فیصد رہی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ستمبر 2025 میں سالانہ مہنگائی کی شرح صرف 5.8 فیصد تھی، جبکہ رواں سال ستمبر 2026 میں یہ 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp