پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں اسٹامپ اور دیگر قانونی دستاویزات لکھنے کا پرانا نظام ختم کرکے نیا طریقہ کار نافذ کردیا ہے۔ اب زمین یا جائیداد سے متعلق قانونی دستاویزات تیار کرنے کے لیے متعلقہ شخص کی رجسٹریشن لازمی ہوگی اور صرف رجسٹرڈ ارضی معاونین ہی یہ کام کرسکیں گے۔ نئے نظام کا اطلاق پیر سے ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی شناختی دستاویزات بنانے والوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، کتنے افسران گرفتار ہوئے؟
نئے طریقہ کار کے تحت وہ افراد جو ارضی معاونین کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں پہلے اپنی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے آن لائن سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے گھر بیٹھے رجسٹریشن کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔ رجسٹریشن مکمل نہ کرنے والے افراد قانونی دستاویزات تیار کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
حکام نے نئے نظام کے تحت رجسٹرڈ ارضی معاونین کے لیے ماہانہ فیس کے مختلف پیکیجز بھی متعارف کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ نئے رجسٹرڈ دستاویز نویسوں کے لیے جدید بائیومیٹرک مشین رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان مشینوں کے ذریعے متعلقہ افراد کی شناخت کی تصدیق کی جاسکے گی۔
لاہور میں صرف 138 رجسٹرڈ ارضی معاونین
حکام کے مطابق لاہور میں اس وقت صرف 138 ارضی معاونین رجسٹرڈ ہیں۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد قانونی دستاویزات لکھنے کا کام صرف یہی رجسٹرڈ افراد اور دیگر اہل رجسٹرڈ ارضی معاونین کرسکیں گے۔ جو افراد رجسٹریشن نہیں کرائیں گے، وہ اس کام کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
نئے نظام کا مقصد کیا ہے؟
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد زمین اور جائیداد سے متعلق معاملات میں شفافیت لانا، شہریوں کی املاک کے حقوق کا تحفظ کرنا اور قانونی دستاویزات کی تیاری کے عمل کو جدید بنانا ہے۔ آن لائن رجسٹریشن اور بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اس شعبے کو باقاعدہ ضابطے کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف: جائیداد پر اسٹامپ ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کا فیصلہ
نئے نظام کے تحت زمین کے ریکارڈ اور قانونی دستاویزات سے متعلق امور انجام دینے والے افراد کی رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی موجود ہوگا، جس سے شہریوں کو متعلقہ خدمات فراہم کرنے والے رجسٹرڈ افراد کی شناخت میں مدد مل سکے گی۔
پنجاب بھر میں اس نظام کے نفاذ کے ساتھ دستاویز نویسی کا روایتی طریقہ کار ختم کرکے رجسٹریشن اور جدید ڈیجیٹل سہولتوں پر مبنی نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔











