ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 سال سے کم عمر افراد میں بھی دل کی شریانوں میں چربی اور کولیسٹرول جمع ہونے کی بیماری موجود ہوسکتی ہے، حالانکہ انہیں بظاہر دل کی کوئی بیماری نہیں ہوتی۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ڈنمارک اور اسپین کے محققین نے 18 سے 70 سال کی عمر کے 16 ہزار 800 سے زائد ایسے افراد کا جدید طبی آلات کے ذریعے معائنہ کیا جنہیں دل کی بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔
تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر 57.1 فیصد افراد کی شریانوں میں چربی اور دیگر مادے جمع ہونے کے آثار پائے گئے۔ 18 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً ہر 13 میں سے ایک شخص اس بیماری کا شکار تھا، جبکہ 60 سے 70 سال کی عمر کے افراد میں یہ شرح تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گئی۔
Silent heart threat found in adults under 30 with no known cardiovascular disease https://t.co/4WGn3v9OkW pic.twitter.com/uOinFFFX8u
— New York Post (@nypost) October 4, 2026
شریانوں میں چربی اور کولیسٹرول جمع ہونے سے خون کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ عمل اکثر کئی سال تک بغیر کسی واضح علامت کے جاری رہتا ہے اور بعد میں دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مردوں میں شریانوں میں چربی جمع ہونے کا عمل خواتین کے مقابلے میں 5 سے 10 سال پہلے شروع ہوسکتا ہے، جبکہ خواتین میں 40 سے 60 سال کی عمر کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق عام طور پر دل کی بیماری کے خطرے کا اندازہ عمر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح سے لگایا جاتا ہے، لیکن ان پیمانوں سے بعض ایسے افراد کی بیماری کا پتا نہیں چلتا جن کی شریانوں میں پہلے ہی چربی جمع ہوچکی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:6 غذائیں دل کی بیماریوں کے خطرہ کو کم کر دیتی ہیں، نئی تحقیق
محققین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی ابتدائی مرحلے میں شناخت سے بچاؤ کے اقدامات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے کہ ایسے افراد کی اسکریننگ سے دل کے دورے اور فالج کے واقعات میں کمی آتی ہے یا نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ 30 سال سے کم عمر ہر شخص شریانوں کا معائنہ کرائے۔ ان کے مطابق تمباکو نوشی سے پرہیز، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور متوازن غذا دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار











