قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکراتی عمل، پیشرفت اور اس میں آنے والے تعطل کی تفصیلات ایوان کے سامنے رکھ دیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر اور دیگر ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر چیمبر میں سرکاری وفد اور ساتھ واقع ریسٹنگ روم میں اپوزیشن اراکین موجود تھے اور تمام فریقین بہتری کی امید لگائے بیٹھے تھے کہ بات چیت کامیابی کے ساتھ حتمی مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ تاہم، علامہ ناصر عباس، راجہ پرويز اشرف اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے آئندہ کی نشست پر اتفاق نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے حکومت مذاکرات کے لیے تیار لیکن عمران خان کو صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا شوق ہے، خواجہ آصف
انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان سے کہا ’ہماری ہمیشہ یہی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ مذاکرات کا راستہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ تمام فریقین کا یہی رسپانس تھا کہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ لیکن آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اگرچہ اپوزیشن رہنما کے فیصلے محدود تھے، تاہم جمہوریت کا حسن مسلسل تبادلۂ خیال میں ہی مضمر ہے۔‘

انہوں نے ایوان کے اندر حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کے نام کے نیچے بیٹھے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مقدس ایوان میں صرف سچائی پر مبنی بات ہونی چاہیے۔

جیل میں سہولیات سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے واضح کیا کہ قیدیوں کی دیکھ بھال، خوراک، ادویات اور ملاقاتوں کی مکمل فہرستیں اور حقائق موجود ہیں، لہٰذا بے بنیاد الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے کوئی سمجھوتا کرنے پر ہی خیبرپختونخوا حکومت سے مذاکرات ہونگے، رانا ثنااللہ
اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے مذاکراتی عمل میں تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سیاسی فریقین افہام و تفہیم اور پارلیمانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے درپیش چیلنجز کا حل تلاش کریں گے۔











