پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو میں وزیراعظم بننے کے لیے پوٹینشل موجود ہے۔
وی نیوز سے خصوسی گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر خان نے کہا کہ بلاول بھٹو وہ شخصیت ہیں جن کا ابھی بھی پارلیمان پر یقین برقرار ہے اور انہوں نے سال 2018 کے بعد بہت سیکھا ہے۔ ان کی ہر تقریر اور گفتگو پہلے سے بہتر ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو سے اپنی ایک حالیہ ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خرم دستگیر خان نے کہا کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد دنیا میں پاکستان کا موقف اجاگر کرنے کے لیے بلاول بھٹو کی سربراہی میں جانے والے سفارتی وفد میں بھی وہ شامل تھے اور اس سفر کے دوران انہوں نے کافی وقت ساتھ گزارا جس کی وجہ سے دونوں میں قربت بڑھی۔
یہ بھی پڑھیے وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر
انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک بلاول بھٹو کا بہت اعلٰی مقام ہے۔ تاہم جب تک صوبہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جڑیں پیدا نہیں ہو جاتیں بلاول بھٹو وزیراعظم بنتے دکھائی نہیں دیتے۔ سیاست بڑی بے رحم ہے کیوں کہ جمہوریت میں لوگوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ جہاں وہ بلاول کو اعلٰی مقام پر دیکھتے ہیں وہاں صوبہ سندھ میں ان کی حکومت کی کارکردگی کو وہ اعلٰی مقام پر نہیں دیکھتے۔
نئے صوبوں کا قیام نہیں ان کے قیام کا طریقہ اہم ہے
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہ بنانے کی بات میں کوئی منطق نہیں کیوں کہ سندھ اگر وہاں رہنے والوں کی دھرتی ماں ہے تو پنجاب میری بھی دھرتی ماں ہے لیکن سوال یہ نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیاں بہتر کرنی ہیں یا نہیں؟
خرم دستگیر خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو مضبوط نہیں کر سکیں۔ اور حالات یہ ہیں کہ صوبوں کے اندر بھی مختلف علاقوں کے درمیان گہرا فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگریز کا چھوڑا ہوا نو آبادیاتی نظام آج کے پاکستانیوں کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ریاست کے پٹواری سے لے کر صوبے تک پاکستان کے عوام کو بہتر نظام دینا ہے۔ عوام کو سرکار سے عزت نہیں مل رہی اور کرپشن کا کینسر پھیلا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے وی ایکسکلیوسیو:ووٹ کو عزت دو کے لیے حکومتوں کی قربانی دینی ہوگی، خرم دستگیر
خرم دستگیر نے کہا کہ 79 سالوں میں پاکستان میں گورننس کے بہت تجربات ہوئے ہیں، لیکن شہریوں کو ہسپتالوں اور تھانوں میں سہولیات نہیں مل رہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹ یا صوبوں کا قیام اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ ان کو بنایا کس طریقے سے جاتا ہے، کیونکہ پاکستان کے عوام کو گورننس میں بہتری محسوس ہونی چاہیئے۔
نظام کی خرابی کو نظام کی درستگی ہی ٹھیک کر سکتی ہے۔
خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام حکومت صوبائی حکومت کے انگوٹھے کے نیچے ہوتا ہے اور سال 2018 میں پی ٹی آئی نے ہزاروں بلدیاتی نمائندوں کو محض ایک دستخط کے زریعے معطل کر دیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے عملی طور پر غیر موثر ہو گئے ہیں کیونکہ وہ فنڈز کے لیے صوبائی حکومتوں کے محتاج ہیں جن کی مرضی ہے کہ وہ انہیں 10 ہزار روپے دیں یا 10 ارب روپے۔ اور مقامی سطح کے بیشتر کاموں کے لیے اتھارٹیز کے قیام کے بعد اب ویسے بھی ان کا اختیار پیدائش اور موت کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے تک رہ گیا ہے یا شہروں میں چھوٹے موٹے مرمتی کام کرنے کا۔
انہوں نے کہا کہ نظام کی خرابی کو نظام کی درستگی ہی ٹھیک کر سکتی ہے۔










