مولانا، معدنیات اور ایمر جنسی

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست کا ایک معتبر نام ہے اور مولانا جب کسی قومی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اسے کھڑے کھڑے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رائے چاہے مولانا ہی کی کیوں نہ ہو، اسے دلیل اور دستیاب حقائق کی بنیاد پر پرکھ لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

ایمر جنسی اور گورنر راج کے بعد مولانا نے جو پوزیشن لی ہے، اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک سیاسی اور دوسرا تزویراتی۔ سیاسی معاملہ آج کی تحریر کا موضوع نہیں ہے۔ آج ہم معاملے کے تزویراتی پہلو کا جائزہ لیں گے۔

مولانا نے قیمتی معدنیات کو موضوع سخن بناتے ہوئے جو باتیں کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو ایمرجنسی لگائی ہے اس کا مقصد معدنیات پر قبضہ ہے، امریکیوں کے ساتھ سودے کیے جا رہے ہیں، انہیں ہمارے وسائل کا مالک بنایا جا رہا ہے، خطے میں غیر ملکی طاقت (امریکا) کو لایا جا رہا ہے جس پر چین اور روس کو بھی تحفظات ہیں۔

اب پہلا سوال یہ ہے کہ امریکیوں کے ساتھ کون سا ایسا معاہدہ ہوا ہے جس کی یہ تعبیر کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے وسائل کا مالک امریکا کو بنایا جا رہا ہے؟ کیا ابھی تک پاکستان نے کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کیا بھی ہے؟ اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہے تو کیا مولانا نے اس معاہدے کا متن پڑھا ہے؟ کیا مولانا بتا سکتے ہیں کہ ایسی کون سی شرط کس معاہدے میں ہے جو پاکستان کے مفادات سے متصادم ہے؟ یہ معاہدہ کب ہوا، اس کی تفصیلات کیا ہیں؟

یہ سوالات اس وقت زیادہ اہم ہو جاتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی تک تو پاکستان اپنے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ابھی کسی کے ساتھ معاہدہ ہوا ہی نہیں ہے۔ پاکستان کے سامنے سارے آپشنز کھلے ہیں۔ نہ کوئی وسائل فروشی ہوئی ہے نہ پاکستان کے وسائل کسی کو دیے گئے ہیں۔ ایسے میں ایک چیز کے بارے میں مولانا جیسا ذمہ دار آدمی بھی یہ کہہ دے سودے ہو چکے ہیں تو پھر ان سے سارے احترام کے ساتھ یہ تو پوچھا جانا چاہیے کہ کون سے سودے ہو چکے ہیں؟ کب ہوئے ہیں، اور کیا تفصیل ہے؟

مولانا کی یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی معاہدے سے چین اور روس کو تحفظات ہیں۔ یہ بات مولانا کو کس نے بتائی ہے کہ چین اور روس کو تحفظات ہیں۔ کیا یہ بات ان کے سفارت خانے، ان کے متعلقہ حکام بتائیں گے کہ ہمارے تحفظات ہیں یا مولانا بتائیں گے کہ ان ممالک کو کس قسم کے تحفظات ہیں؟ مولانا سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ پاکستان اپنے معاملے میں کوئی معاہدہ کر بھی رہا ہو تو کیا اس پر لازم ہے کہ وہ روس وغیرہ کے تحفظات کو بھی دیکھے؟ کیا خود روس اور چین نے امریکا سے بھاری بھر کم معاشی معاہدے نہیں کر رکھے؟

ایک سانس میں مولانا کہہ رہے ہیں کہ غیر ملکی طاقت (امریکا) کو یہاں لایا جا رہا ہے اور دوسری سانس میں وہ دو غیر ملکی طاقتوں کے مبینہ تحفظات کی ترجمانی فرما رہے ہیں۔ کیا روس اور چین بھی غیر ملکی طاقتیں ہی نہیں ہیں یا ان کے پاس کے پی اور پنجاب کا ڈومیسائل ہے؟

اگر کسی غیر ملکی طاقت (امریکا) کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے پر مولانا کو اعتراض ہے تو کیا دیگر غیر ملکی طاقتوں کے تحفظات کے بارے میں اتنی حساسیت پر بھی سوال نہیں اٹھتا۔

چین تو ہمارا دوست ہے اس کے تحفظات اگر ہیں تو سر آنکھوں پر لیکن مولانا رہنمائی فرمائیں گے کہ یہ روس کے تحفظات کب سے اتنے اہم ہو گئے؟ کیا روس بھی اپنی پالیسیاں بنانے سے پہلے پوچھتا ہے کہ پاکستان بھائی جان ہم یہ کررہے ہیں تمہارے اس پر کوئی تحفظات تو نہیں؟ کیا مولانا کے خیال میں پاکستان ایک خود مختار ملک کے طور پر فیصلے نہیں کر سکتا اور حتیٰ کہ معدنیات کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اسے دائیں بائیں سے پوچھ لینا چاہیے کہ کسی ملک کو اعتراض تو نہیں؟

مولانا ایک بزرگ رہنما ہیں، اگر ان کے کوئی تحفظات ہیں تو انہیں بیان کرنے چاہییں۔ وہ اگر حکومت کی کسی پالیسی سے ناراض ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن ان کے پاس روس اور چین کی ترجمانی کا کوئی منصب نہیں ہے۔ نہ ہی انہیں یہ زیبا ہے کہ وہ قیمتی معدنیات کے سودے کیے ہیں جیسا بیانیہ پیش کر دیں حالانکہ ابھی معدنیات کے حوالے سے پاکستان نے کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہی نہیں ہے۔

فرض کرتے ہیں پاکستان یہ معاہدہ امریکا کے ساتھ ہی کر لیتا ہے۔ امریکا کے پاس ٹیکنالوجی ہے وسائل ہیں، فرض کریں اس سے اچھا متبادل نہیں ملتا اور پاکستان اسی کے ساتھ معاملہ کر لیتا ہے۔ سوال یہ ہے اس میں کیا غلط ہے۔ پاکستان کو اپنا مفاد دیکھنا ہے، کسی اور کے تحفظات نہیں۔ پاکستان دنیا کے ہر ملک کے ساتھ معاملہ اور معاہدہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ بالکل جیسے دوسرے ملک یہ حق رکھتے ہیں اور کوئی پاکستان سے یہ نہیں پوچھتا کہ تمہارے کوئی تحفظات تو نہیں۔

سیاست میں دھوپ چھاؤں آتی رہتی ہے، اختلافات بھی ہوتے ہیں، ان کا اظہار بھی ہونا چاہیے لیکن معدنیات جیسا معاملہ اس انداز سے زیر بحث نہیں آنا چاہیے۔ مولانا کے کچھ تحفظات ہیں تو اس سے اچھے اور بہتر انداز سے بیان ہو سکتے ہیں۔

دہشتگردی کا مسئلہ بھی ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار بھی ممکن نہیں۔ خود مولانا یہ کہہ چکے ہیں کہ رات ہوتے ہی حکومتی رٹ ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ایمرجنسی کے سیاسی پہلو پر تو بات ہو سکتی ہے لیکن یہ کہنا کہ اس ایمرجنسسی کا مقصد معنیاتی ذخائر پر قبضہ ہے، ایک ایسا رویہ ہے جو دلیل کی قوت سے بے نیاز ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp