پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

جمعہ 16 اکتوبر 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعرات کی صبح پشاور کی دیر کالونی میں بھی ویسی ہی تھی جیسی ہمارے ہر محلے کی ہوتی ہے۔ ماؤں نے جلدی جلدی بچوں کو ناشتہ کرایا ہوگا،  بال سنوارے، جوتوں کے تسمے باندھے، بستہ ٹھیک کیا۔کسی بچے کو ڈانٹ بھی پڑی ہوگی کہ دیر ہو رہی ہے۔ کالونی میں واقع الخیر اسکول کی کلاسز شروع ہوچکی تھیں، پونے نو بجے اچانک تین منزلہ سکول کی چھت بیٹھ گئی۔ اوپر کی منزل نیچے والی پر آ گری اور سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ کئی گھنٹے بعد جب آخری بچہ نکالا گیا تو چونتیس معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر دنیا سے جا چکے تھے۔ درجنوں بچے زخمی ہوئے ۔

   ان بچوں کی عمریں سات سے تیرہ برس کے درمیان تھیں۔ یہ وہ عمر ہے جب بچہ گھر آتے ہی بستہ پھینک کر بتاتا ہے کہ آج ٹیچر نے کیا کہا، کس دوست سے لڑائی ہوئی، کل کون سا ٹیسٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔ دیر کالونی کے ان بدنصیب گھروں میں اب یہ باتیں کبھی نہیں ہوں گی۔ ماں باپ نے بڑے ارمانوں سے، اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں پڑھنے بھیجا تھا، واپس ان کی لاشیں آئیں۔ وہ بے چارے تو جیتے جی مر گئے۔ جس باپ نے صبح بچے کو اسکول کے دروازے پر چھوڑا اور شام کو اسی کا جنازہ کندھے پر اٹھایا، اس کا دکھ لفظوں میں بیان ہی نہیں ہوسکتا۔

  شدید دکھ کی کیفیت ہے مگر ایک سوال بھی مسلسل کچوکے لگا رہا ہے کہ کیا یہ واقعی محض ایک حادثہ ہے ؟

عمارت گری یا نظام؟

   پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور اس پر اضافی تعمیر کر کے چھت پر بوجھ بڑھا دیا گیا تھا۔ اوپر کی منزل پر کام چل رہا تھا، رات کی بارش نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ یعنی خستہ عمارت، اس پر نئی منزل اٹھانے کا کام، اور نیچے ایک سو دس سے زیادہ بچے کلاسوں میں بیٹھے ہوئے۔

   اسکول کا مالک اور پرنسپل گرفتار ہو چکے۔ انہیں سزا ضرور ملنی چاہیے، جو شخص پیسے کے لالچ میں بچوں کے سروں پر موت لٹکا دے اس سے کوئی ہمدردی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر بات مالک کی گرفتاری پر ختم ہو گئی تو یہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کے مترادف ہوگا۔ اصل کہانی تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

رجسٹریشن مل گئی، معائنہ نہیں ہوا

 سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اسکول اسی برس مارچ میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا۔ عمارت خستہ تھی، پھر بھی رجسٹریشن دے دی گئی۔ تکنیکی معائنہ سرے سے ہوا ہی نہیں۔

  اب ذرا سنیے کہ اس اتھارٹی کے سربراہ جاوید اقبال کیا فرماتے ہیں۔ ان کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے والی ٹیم ہی موجود نہیں۔ کلاس روم اور دوسرے انتظامی معیار پورے ہوئے تو اسکول رجسٹرڈ کر لیا۔ خستہ عمارت پر جرمانہ کرنے کا اختیار ہے، مگر اسکول بند کرنے کا نہیں۔

  ہم ایسی خبروں سے سرسری گزر جاتے ہیں، چند لمحے رک کر اس پر غور کریں۔  ایک ادارہ جس کا کام ہی نجی اسکولوں کی نگرانی ہے، اس کے پاس یہ دیکھنے کا بندوبست ہی نہیں کہ جس چھت کے نیچے بچے بیٹھیں گے وہ کھڑی بھی رہے گی یا نہیں؟ اگر کوئی افسر دیواروں میں دراڑیں دیکھ بھی لے تو زیادہ سے زیادہ چالان کاٹ سکتا ہے۔ اسکول کھلا رہے گا، بچے آتے رہیں گے۔ یہ ریگولیٹری اتھارٹی ہے یا رسید کاٹنے والا دفتر؟ مالک کے لیے جرمانہ بھر کر کام چلاتے رہنا مرمت سے کہیں سستا ہے۔

     یہ اتھارٹی کسی اور نے نہیں، خود تحریک انصاف کی حکومت نے دو ہزار سترہ میں قانون بنا کر قائم کی تھی۔ دفتر کھل گئے، افسر بھرتی ہو گئے، رجسٹریشن کی فیسیں آنے لگیں، مگر اسے وہ اختیار اور طاقت ہی نہیں دی گئی جس سے وہ سزا دے سکے ۔ نو برس گزر گئے، کسی کو قانون کا یہ سقم نظر نہ آیا۔

 تیرہ برسوں کا حساب کون دے گا؟

    تحریک انصاف دو ہزار تیرہ سے پختونخوا میں حکمران رہی ۔ یاد کیجیے، عمران خان اور ان کے ساتھی ہمیشہ سے یہ کہتے رہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کرپٹ جماعتیں ہیں، یہ سسٹم نہیں بنا سکتیں۔ ہم آئیں گے تو ادارے مضبوط ہوں گے، میرٹ آئے گا۔ تعلیمی ایمرجنسی کے نعرے لگے، پختونخوا کو ماڈل صوبہ بنانے کے دعوے ہوئے۔سونامی کے نعرے بھی لگے۔

   تو بھائی لوگو، سوال سیدھا سادا ہے۔ تیرہ برسوں میں پختونخوا میں کون سا سسٹم بنا؟ کیا وہاں تعلیم اتنی بہتر ہوئی کہ باقی صوبے رشک کریں؟ کیا سرکاری اسکول ایسے ہو گئے کہ غریب آدمی کو گلی محلے کے سستے نجی اسکول میں بچہ بھیجنے کی مجبوری نہ رہی؟ جواب ہم سب جانتے ہیں۔ پشاور کی دیر کالونی کے بیشتر بچے کم آمدنی والے گھرانوں سے تھے۔ سرکاری اسکول ڈھنگ کے ہوتے تو یہ لوگ ایک خستہ عمارت میں اپنے جگر کے ٹکڑے کیوں بھیجتے؟

   یہ ماننا چاہیے کہ تحریک انصاف کی پہلی حکومت میں دو ہزار تیرہ سے اٹھارہ تک بعض شعبوں میں واقعی کام ہوا۔ پھر جیسے گاڑی رک گئی۔ پچھلے دو برسوں میں صوبائی حکومت کی تمام تر توانائی وفاق سے لڑائی، اسلام آباد پر چڑھائیوں اور جلسے جلوسوں پر لگتی رہی۔ پچھلے وزیراعلیٰ کا خاصا وقت قافلے لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے میں گزرا، اور پھر سہیل آفریدی کی بھی یہی خوبی گنوائی گئی کہ وہ زیادہ جارحانہ احتجاجی تحریک چلا سکیں گے۔

   میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی صوبے کا وزیراعلیٰ اس بنیاد پر چنا جائے کہ وہ احتجاج کتنا اچھا کر سکتا ہے، نہ کہ حکومت کتنی اچھی چلا سکتا ہے، تو سسٹم کا بیڑا غرق ہونا ہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا اصل کام فائلیں پڑھنا اور محکموں سے حساب لینا ہے۔ جب صوبے کا سربراہ ہر وقت کنٹینر کی سیاست میں الجھا ہو تو نیچے کے افسر بھی سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔

 پنجاب میں بھی سسٹم بہتر کرنا ہوگا

    یہ کہنا البتہ ناانصافی ہوگی کہ یہ صرف پختونخوا کا مسئلہ ہے۔ پنجاب میں صرف اسی برس کا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ مئی میں ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول میں نرسری کلاس کی چھت گری، چار بچے جاں بحق ہوئے۔ وہاں بھی تعمیراتی کام چل رہا تھا۔

   تیس جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک گھر کے اندر چلنے والے ٹیوشن سنٹر کی چھت بیٹھ گئی، اوپر کی منزل زیر تعمیر تھی، چودہ بچے جاں بحق ہوئے ۔ وزیراعلیٰ نے اسے ٹیسٹ کیس قرار دیا، تعلیمی عمارتوں کے ہنگامی سروے کا اعلان ہوا۔ صرف دو دن بعد لاہور ہی کے باغبانپورہ میں ایک نجی اسکول کی چھت گر گئی جہاں توسیع کا کام ہو رہا تھا اور سمر کیمپ لگا ہوا تھا۔ آٹھ برس کا ابوبکر جان سے گیا۔

  ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے۔ کمزور عمارت، اوپر نئی تعمیر، اور نیچے بچے بٹھا دیے گئے۔ ہر بار وہی نوٹس، وہی انکوائری کمیٹی، وہی گرفتاری، اور چند ہفتے بعد خبر کہیں گم۔ کاہنہ کے بچوں کا حادثہ ابھی لوگ نہیں بھولے کہ گزشتہ روز پشاور میں اس سے دوگنا بچے چلے گئے۔

    کیا پشاور کے حکام نے لاہور کا سانحہ نہیں دیکھا تھا؟ اب پختونخوا میں ضلعی کمیٹیاں بنی ہیں جو تین دن میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی رپورٹ دیں گی۔ اچھی بات ہے، مگر یہ کام چونتیس جنازوں سے پہلے کیوں نہ ہوا؟ اور تین دن میں ہزاروں اسکولوں کی چھتیں، دیواریں اور بنیادیں کیسے جانچی جائیں گی؟ خدشہ یہی ہے کہ یہ بھی کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔

 دنیا نے سانحوں سے کیسے سیکھا؟

انیس سو چھیاسٹھ میں ویلز کے گاؤں ایبرفان میں کوئلے کی کان کے فضلے کا پہاڑ بارشوں کے بعد پھسل کر ایک پرائمری اسکول پر آ گرا۔ ایک سو سولہ بچے مارے گئے۔ برطانیہ نے ذمہ داری قومی کوئلہ بورڈ پر ڈالی اور چند برسوں میں قانون بنا دیا کہ ایسے ڈھیروں کی باقاعدہ جانچ ہوگی۔ تب سے ریگولر ایسی جانچ ہو رہی ہے اور کسی کو معاف نہیں کیا جاتا۔

   ہمارے ہاں تو ایک سانحہ دوسرے کا انتظار کرتا ہے۔ کبھی کراچی میں رہائشی عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے، کبھی کسی پارک میں جھولا گر جاتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ مہینوں سے مینٹیننس ہی نہیں ہوئی، کبھی سکول کی چھت۔ ہر بار تعزیتی بیان آتے ہیں اور پھر سب بھول جاتے ہیں۔

سسٹم کیسے بنے؟

      وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اکا دکا حادثے نہیں، ایک ٹوٹے پھوٹے خستہ نظام کی نشانیاں ہیں۔ ایک بار سنجیدگی سے فول پروف سسٹم بنا لیا جائے تو برسوں چلتا رہے گا۔ چند تجاویز ہیں:

1 : یہ کہ کسی اسکول، اکیڈمی، ٹیوشن سنٹر یا مدرسے کی رجسٹریشن اس وقت تک نہ ہو جب تک مستند سٹرکچرل انجینئر کا تحریری سرٹیفکیٹ نہ ہو کہ عمارت محفوظ ہے۔ یہ ہر دو سال بعد تازہ ہو، اور دستخط کرنے والا انجینئر قانونی طور پر جواب دہ ہو۔ قانون اتنا سخت ہو کہ اگر انجینئر نے بغیر چیک کیے دستخط کیے ہوں تو پھر ساری زندگی جیل میں سڑتا پھرے۔

  2 : ریگولیٹری اتھارٹیز کو خطرناک عمارت فوری سیل کرنے کا اختیار دیا جائے اور ان میں انجینئروں کی ٹیمیں رکھی جائیں، یا محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ مشترکہ نظام بنے۔ جو اتھارٹی ایک خطرناک اسکول بند نہیں کر سکتی اسے اتھارٹی کہنا مذاق ہے۔

 3: جس عمارت میں بچے پڑھ رہے ہوں وہاں کلاسوں کے دوران تعمیر پر مکمل پابندی ہو۔ پشاور، کاہنہ، باغبانپورہ اور ڈیرہ غازی خان، ہر جگہ بچوں کی موجودگی میں تعمیر یا مرمت جاری تھی۔

  4: ذمہ داری صرف مالک تک محدود نہ رہے۔ جس افسر نے معائنے کے بغیر رجسٹریشن دی، جس بلڈنگ کنٹرول والے نے غیر قانونی منزل بنتے دیکھ کر آنکھیں بند رکھیں، ان پر بھی مقدمہ چلے۔ جب تک دو چار افسر جیل نہیں جائیں گے، فائلوں پر دستخط کرنے والے سنجیدہ نہیں ہوں گے۔

 5: رجسٹرڈ اداروں کی عمارتوں کے معائنے کا ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر عام ہو تاکہ والدین خود دیکھ سکیں کہ جہاں بچہ بھیج رہے ہیں وہ عمارت آخری بار کب جانچی گئی۔ یہی اصول پارکوں کے جھولوں پر بھی لاگو ہو۔

    دیر کالونی کے وہ چونتیس بچے اب واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے بستے، ادھوری کاپیاں اور یونیفارم گھروں میں پڑے رہ جائیں گے۔ اگر اس بار بھی ہم نے کچھ نہ سیکھا تو اگلی خبر کسی اور شہر سے آئے گی اور اللہ نہ کرے ہم پھر یہی کالم لکھ رہے ہوں گے۔

  اللہ تعالیٰ ان معصوموں کو جنت کے پھول بنائے، ان کی استانی کی مغفرت فرمائے، اور غم زدہ والدین کو یہ صدمہ سہنے کی ہمت دے۔ زخمی بچوں کو جلد صحت ملے، اور ہمارے حکمرانوں کو اتنی توفیق ضرور ملے کہ یہ اس نوعیت کا آخری سانحہ ثابت ہو۔ آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp