ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کام سے تھک کر چھٹی مانگنے والے مظفرگڑھ کے رہائشی 15 سالہ محمد وسیم کو آرام تو نہ مل سکا، تاہم ٹھیکیدار نے اسے بے دردی سے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر موت کی نیند سلا دیا۔
مقتول کی لاش کی حالت اس قدر خراب تھی کہ اہل خانہ اس کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے اور رات کی تاریکی میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کردی گئی۔
مظفرگڑھ کے نواحی علاقے مونڈکا کی بستی دولت پور کا رہائشی محمد وسیم بچپن میں ہی والد کے انتقال کے باعث یتیم ہوگیا تھا۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد اس کے نانا غلام شبیر نے محمد وسیم اور اس کے چھوٹے بھائی سجاد حسین کو ملتان کے ایک یتیم خانے میں چھوڑ دیا تھا۔
15 سالہ محمد وسیم نے اپنی والدہ، چھوٹے بھائی اور بہن کی کفالت کے لیے کم عمری میں ہی محنت مزدوری شروع کردی تھی، تاہم گزشتہ روز ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس کے ساتھ ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
مبینہ طور پر ٹھیکیدار توقیر نذیر نے دن بھر کی مشقت سے تھک جانے کے بعد کام سے چھٹی مانگنے والے محمد وسیم کو آرام کرنے کی اجازت دینے کے بجائے اپنی گاڑی کے نیچے کچل ڈالا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔
اس دل دہلا دینے والے واقعے نے ظلم و بربریت کی ایک ایسی داستان رقم کردی جسے فراموش کرنا آسان نہیں۔
مقتول محمد وسیم کی لاش کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث رشتہ داروں نے رات کی تاریکی میں ہی نماز جنازہ ادا کرکے اس کی تدفین کردی۔ اہل خانہ کو اپنے پیارے کا آخری دیدار کرنا بھی نصیب نہ ہوسکا۔
اس المناک واقعے کے بعد محمد وسیم کی والدہ، چھوٹے بہن بھائی اور دیگر اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں اور ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مزید جانیے کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔








