کیا پاکستان تحریک انصاف نے خود عمران خان کو مائنس کر دیا ہے؟

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں یہ اہم سوال ایک بار پھر زیر بحث ہے کہ پارٹی میں حتمی فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہے اور بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کی پابندی کا دعویٰ عملی طور پر کس حد تک برقرار ہے؟۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دیے گئے اختیار کے حوالے سے پارٹی قیادت کے سابقہ مؤقف اور علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی کردار دینے کی اطلاعات نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی آپریشن، 3 آپشن دے دیے گئے، پی ٹی آئی میں پھوٹ، بحریہ ٹاؤن میں انوسٹرز کا سرمایہ ڈوب گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے لیے اختیار کی منتقلی کا کوئی نیا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کی منظوری کس نے دی؟ کیا یہ عمران خان کی ہدایت پر ہوا، کیا بانی پی ٹی آئی نے اپنے سابقہ فیصلے میں تبدیلی کی یا پارٹی کی موجودہ قیادت نے خود نئی حکمت عملی اختیار کی؟

عمران خان کے فیصلے کو حتمی قرار دینے کا مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سیاسی و پارلیمانی معاملات میں اہم ذمہ داری دینے کا فیصلہ عمران خان کا تھا۔

اسی طرح مذاکرات کے معاملے میں بھی ان دونوں رہنماؤں کو اختیار دینے کے حوالے سے پارٹی قیادت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔

اس مؤقف کے مطابق مذاکرات کا اختیار کسی دوسرے رہنما کو منتقل کرنا یا موجودہ ذمہ داران کو ہٹانا محض پارٹی کے اندرونی مشورے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے لیے عمران خان کی منظوری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 20 اکتوبر 2026 کو بھی محمود خان اچکزئی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اچکزئی پر مکمل اعتماد ہے اور پارٹی بانی کے فیصلے کے مطابق آگے بڑھے گی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجا کے نام کھلا خط، معافی کا مطالبہ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو مذاکرات کے حوالے سے اختیار دیا ہے۔

پھر مذاکراتی ٹاسک میں تبدیلی کا سوال کیوں؟

اب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو اب یہ سوال اہم ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے اختیار کے متبادل کے طور پر علی امین گنڈاپور کو سامنے لایا جا رہا ہے؟

اگر مذاکرات کی قیادت اور حتمی فیصلوں کا اختیار بھی منتقل کر دیا گیا ہے تو پھر یہ وضاحت ضروری ہو گی کہ ایسا کس کی منظوری سے کیا گیا؟۔

گنڈاپور کے روابط اور مذاکراتی حکمت عملی

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور کے اب بھی محسن نقوی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے ہیں اور ایسے روابط کے ذریعے مذاکرات کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں تو گنڈاپور کو اضافی ذمہ داری دینا ایک عملی سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال اور وفاق کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پی ٹی آئی کے لیے حکومت اور مقتدر حلقوں سے رابطے اہم ہو سکتے ہیں، لیکن مذاکرات کے لیے ایک واضح کمانڈ اسٹرکچر نہ ہونے سے پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جگہ ابہام پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

کیا پارٹی قیادت عمران خان کے فیصلوں سے آگے بڑھ رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پورے معاملے کا حساس پہلو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ بانی چیئرمین کی ہدایات کے برعکس کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک علی امین گنڈاپور کو سونپ دیا

بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنماؤں کے سابقہ بیانات میں بھی عمران خان کی منظوری اور فیصلوں کی پابندی کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

اگر اب مذاکراتی اختیار کی منتقلی کا کوئی باضابطہ فیصلہ ہوا ہے تو پارٹی کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا یہ تبدیلی عمران خان کی ہدایت کے تحت کی گئی ہے یا موجودہ قیادت نے حالات کے مطابق خود فیصلہ کیا ہے۔

کیا عمران خان کو مائنس کرنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کے لیے یہ تاثر سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے کہ پارٹی قیادت ایک طرف عمران خان کے فیصلوں کو حتمی قرار دیتی ہے، لیکن دوسری طرف ان فیصلوں کی تشریح یا ان میں تبدیلی کے حوالے سے واضح مؤقف سامنے نہیں آتا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی نے بھی گزشتہ روز کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے باعث پارٹی میں احتجاج اور دیگر فیصلے بیرسٹر گوہر،  سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، سہیل آفریدی، شفیع جان اور دیگر لوگ کرتے تھے تاہم اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ مستقبل کا کوئی بھی فیصلہ پارلیمانی پارٹی میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کی بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات کیوں ہیں؟

پی ٹی آئی رہنما ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ تمام فیصلے عمران خان کرتے ہیں اور ان کے فیصلے کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود تبدیل کر سکتے ہیں، عمران خان کو مائنس نہیں کیا جا سکتا، اب اچانک علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو کیا اس طرح پی ٹی آئی نے خود ہی عمران خان کو مائنس کر دیا ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ڈکیت زخمی

مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ، کینیڈین پبلشر نے معروف ناول نگار سے تعلق ختم کرلیا

سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند

قطر سے ایل این جی کا دوسرا جہاز پاکستان پہنچ گیا، گیس سپلائی میں کچھ بہتری کی امید

خیبر پختونخوا میں ڈپٹی کمشنرز کو کون سا نیا خصوصی اختیار دیدیا گیا؟

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟