پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف ہدایت کار سرمد کھوسٹ نے مقبول ڈرامے ’ہمسفر‘ کی ہسپانوی زبان میں ریلیز پر ردِعمل دیتے ہوئے فنکاروں کو رائلٹی ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
سرمد کھوسٹ نے سوشل میڈیا پر ڈرامے کی ہسپانوی زبان میں ریلیز سے متعلق اعلان شیئر کرتے ہوئے لکھا ’کاش رائلٹی کا نظام بھی موجود ہوتا‘ ان کے اس تبصرے نے ایک بار پھر پاکستانی شوبز انڈسٹری میں فنکاروں کے مالی حقوق اور ان کے کام سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مناسب حصے کی بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔

رائلٹی سے مراد وہ معاوضہ ہے جو کسی فنکار، مصنف یا تخلیق کار کو اس کے کام کی دوبارہ نشریات، فروخت یا کسی دوسرے پلیٹ فارم اور زبان میں استعمال کیے جانے پر ملتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ٹیلی ویژن کے شعبے میں رائلٹی کا نظام ماضی میں ختم ہو گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق 1990 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے بعض سینئر فنکاروں نے تنخواہوں میں اضافے کے عوض رائلٹی کا مطالبہ چھوڑ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمد کھوسٹ کی فلم ‘لالی’ سیئٹل میں تیسویر فیسٹیول کی افتتاحی فلم ہوگی
اس معاملے پر ماضی میں بھی شوبز کی نامور شخصیات آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اداکارہ ماہرہ خان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ان جیسے بڑے فنکار شاید رائلٹی کے بغیر بھی کام جاری رکھ سکتے ہیں لیکن نئے فنکاروں اور سیٹ پر کام کرنے والے عملے کے لیے مالی تحفظ انتہائی اہم ہے۔
2021 میں سینئر اداکارہ نائلہ جعفری نے بھی اپنی بیماری کے دوران فنکاروں کو رائلٹی دینے کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر فنکاروں کو ان کے کام کی مسلسل نشریات سے رائلٹی ملتی رہے تو مشکل حالات میں یہ رقم ان کے لیے مالی سہارا بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ نے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیت لیا
’ہم سفر‘ کی ہسپانوی زبان میں ریلیز نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب پاکستانی ڈرامے بین الاقوامی سطح پر نئے ناظرین تک پہنچتے ہیں تو ان کی تخلیق میں حصہ لینے والے فنکاروں اور دیگر افراد کو اس کامیابی کا مالی فائدہ کس حد تک ملتا ہے۔
فنکاروں کے مالی حقوق اور رائلٹی کا مؤثر نظام پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک اہم موضوع ہے جس پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔










