سینیئر صحافی طارق آفاق نے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کمیشن، کرپشن اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عبدالہادی عرف پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی سابق حکومت دہشتگردوں کی سہولت کار تھی، ناقابل تردید شواہد سامنے لائیں گے، عطااللہ تارڑ
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طارق آفاق نے دعویٰ کیا کہ عبدالہادی پتنگ غیر فعال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مبینہ فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معاملات میں ان کا اثرورسوخ تھا۔
طارق آفاق کیا کہنا تھا کہ بعض بڑے ترقیاتی منصوبوں سے منسلک گاڑیاں عبدالہادی عرف پتنگ کے پاس موجود تھیں جبکہ سرکاری منصوبوں میں کمیشن وصولی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی اور چھاپوں کے بعد پتنگ ملک سے چلے گئے۔
ترقیاتی منصوبوں سے کمیشن لینے کا الزام
طارق آفاق کے مطابق خیبرپختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے بڑے منصوبوں میں مبینہ طور پر کمیشن وصول کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض منصوبوں سے 10 فیصد تک رقم وصول کی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے بڑے منصوبوں سمیت مختلف ترقیاتی اسکیموں میں اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اس لیے ان منصوبوں میں شفافیت اور فنڈز کے استعمال کی تحقیقات ضروری ہیں۔
طارق آفاق نے کہا کہ بعض بڑے منصوبوں سے منسلک گاڑیاں جن میں 6 ٹویوٹا فارچیونر اور چھ ٹویوٹا ہائی لکس شامل تھیں عبدالہادی عرف پتنگ کے پاس موجود تھیں۔ انہوں نے دیگر متعلقہ افراد کے پاس بھی سرکاری منصوبوں سے منسلک گاڑیوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا۔
چھاپے کے بعد ملک سے فرار ہونے کا دعویٰ
طارق آفاق نے بتایا کہ بعض متعلقہ دفاتر پر چھاپوں کے دوران اہم دستاویزات اور ایک لیپ ٹاپ برآمد کیا گیا، جبکہ ایک شخص کئی روز تک غائب بھی رہا۔
ان کے مطابق ان واقعات کے بعد عبدالہادی عرف پتنگ بھی ملک سے چلے گئے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کی بیرونِ ملک روانگی کے لیے مبینہ طور پر جعلی سفری دستاویزات استعمال کی گئیں۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ متعلقہ حکام انہیں واپس لانے کے لیے انٹرپول کے ذریعے کارروائی کر سکتے ہیں۔
کنسلٹنسی کمپنی کے منصوبوں پر بھی سوالات
طارق آفاق نے پشاور کی ایک کنسلٹنسی کمپنی کری ایٹو انجینیئرنگ کنسلٹنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی ویب سائٹ پر 8 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اگر خیبرپختونخوا میں اس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی ہے تو اس کے اثرات صوبے کی ترقی اور عوامی سہولتوں میں نمایاں ہونے چاہییں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ترقیاتی منصوبوں پر بھاری اخراجات کے باوجود صوبے میں مطلوبہ تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی۔
پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں پر تنقید
سینیئر صحافی نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دور اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے بجائے مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیوں کو فروغ دیا گیا۔
انہوں نے پشاور بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)، بلین ٹری سونامی اور صحت انصاف کارڈ جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے اخراجات اور کارکردگی کی جانچ پڑتال پر زور دیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ بی آر ٹی منصوبے کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو مبینہ بدعنوانی کے شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے صحت انصاف کارڈ کے حوالے سے بھی الزام لگایا کہ بعض اسپتالوں میں مریضوں کے نام پر رقوم نکالی گئیں اور کچھ ایسے اسپتالوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا جو مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
طارق آفاق نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض معمول کے علاج اور آپریشنز کو بھی صحت انصاف کارڈ کے تحت ظاہر کرکے رقوم وصول کی گئیں۔
عمران خان سے سخت سوال پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں داخلے پر پابندی
گفتگو کے دوران طارق آفاق نے اپنے صحافتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کے دور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے سابق وزیراعظم سے ریاستی وسائل کے مبینہ ذاتی استعمال کے بارے میں سوال کیا تھا۔
ان کے مطابق انہوں نے عمران خان سے پوچھا تھا کہ ریاستِ مدینہ کی مثال دینے والے کسی خلیفہ کی ایسی مثال دی جا سکتی ہے جس نے سرکاری وسائل ذاتی استعمال میں لائے ہوں جبکہ ان کے بقول عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی سوالات اٹھتے رہے تھے۔
طارق آفاق نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سیاسی تبدیلیوں کے پسِ پردہ مبینہ قوتوں سے متعلق سوال کیا تھا۔ ان کے بقول ان سوالات کے بعد ان کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ محمود خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے میں مداخلت کی اور ان کی صحافتی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔
صوبے میں تعلیم اور عوامی فلاح پر بھی سوالات
طارق آفاق نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکومتوں کو اپنی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کے نتائج کا جواب دینا چاہیے۔
گفتگو میں پشاور کے رنگ روڈ پر پیش آنے والے ایک واقعے اور اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں حکومتی ترجیحات پر بھی سوال اٹھائے گئے۔
صحافی کے مطابق صوبے کی حقیقی ترقی کا اندازہ بڑے منصوبوں کے اعلانات یا اخراجات سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ ان کے ثمرات عام شہریوں تک کس حد تک پہنچے ہیں۔









