امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر کلمسن میں مڈٹرم انتخابات کی مہم کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کے دوران بدنظمی اور ہاتھا پائی کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا خطاب کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کلمسن یونیورسٹی کے ‘ٹی ایڈ گیریسن ایرینا’ میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ریلی سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ہال میں موجود کئی مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت مزید کم، ڈیموکریٹس کی حمایت دوگنا ہوگئی
خطاب کے دوران اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب ہال میں موجود ٹرمپ کے ایک حامی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہٹائے جانے والے مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ایک حامی نے مظاہرین میں سے ایک شخص کو مکا دے مارا۔ اس بدمزگی کے بعد سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر تحرک میں آئے اور حملہ آور کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا۔
President Trump praised a rallygoer in South Carolina for apparently throwing a punch at a protester during Wednesday’s rally.
“Who’s the guy who threw the punch?” Trump asked into the crowd. “You reminded me of Evander ‘the Real Deal’ Holyfield,” who attended the rally. https://t.co/T9Wx4Trkw9
— CBS News (@CBSNews) October 22, 2026
واقعے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیج سے منظر کا جائزہ لیتے ہوئے اپنا خطاب روک دیا۔ ٹرمپ نے اسٹیج سے گھونسا مارنے والے اپنے حامی کی تعریف کرتے ہوئے طنزاً کہا ’یہ زبردست تھا، مجھے یہ پسند آیا۔‘
انہوں نے شرکاء کی خیریت دریافت کی اور پولیس کو ہدایت کی کہ مظاہرین کو باہر منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے ’ٹرمپ ایک درندہ صفت انسان ہیں‘، شیر کے حملے کا مذاق اڑانے پر امریکی صدر پر سخت تنقید
واضح رہے کہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے پیش نظر امریکی سیاست میں زبردست جوش و خروش اور سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ کی کئی انتخابی ریلیوں میں مخالفین اور حامیوں کے درمیان اسی نوعیت کے تصادم اور شدید نعرے بازی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔










