سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکا میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا، مذہبی منافرت اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمان کمیونٹی کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بیٹی چیلسی کلنٹن نے محض 15 سال کی عمر میں مقدس کتاب ‘قرآن مجید’ کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالالسید کی حمایت اور امریکی سیاست میں ‘ہم بمقابلہ وہ’ کی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا ’میں اس بات سے تنگ آ چکا ہوں کہ لوگ محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر مسلمانوں کی تذلیل اور تحقیر کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے اسلام قبول کرنے والی امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کی قرآن کی خوبصورت تلاوت، ویڈیو وائرل
بل کلنٹن نے اپنے جذباتی خطاب میں بتایا کہ جب ان کی بیٹی چیلسی 15 سال کی تھیں تو انہوں نے پورا قرآن پڑھنے کے بعد قرآن کا نسخہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا ’ڈیڈی! آپ بھی اسے پڑھیں۔‘
سابق صدر نے قرآن پاک کی اس آیہ مبارکہ کا حوالہ دیا جس میں انسانوں کی مختلف اقوام اور قبائل میں تقسیم کا مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جاننا، سمجھنا اور ایک دوسرے سے سیکھنا بتایا گیا ہے۔
🇺🇸 Bill Clinton says he’s had enough of the Muslim hate…
“I’m tired of people denigrating Muslims for being Muslims.
The Quran says, and I first heard this from my daughter, who read the Quran from start to finish when she was 15 years old, and she said, ‘Read this.’
Allah put the different people on the earth not that they might despise one another, but that they might come to know one another and learn from one another.
There are bad actors in every faith because we’re all flawed human beings.
But the religious wars, the culture wars, I’m just tired.”
Writer: Michael https://t.co/KIwrzbK38w
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 21, 2026
کلنٹن نے زور دے کر کہا کہ ہر مذہب اور عقیدے میں برے عناصر موجود ہوتے ہیں کیونکہ انسان خود بالذات خامیوں کا پتلا ہے۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں جاری مذہبی اور ثقافتی جنگوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور اس کے پیروکاروں کو نشانہ بنانے والی سوچ کو رد کیا جانا چاہیے اور تمام مذاہب کا احترام و آزادی بلا تفریق یقینی بنائی جانی چاہیے۔
سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مذہبی و ثقافتی تنوع کو محاذ آرائی یا تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی فہم و تفہیم، ہم آہنگی اور تعصبات سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے روسی صدر پیوٹن کی قرآن مجید کو بوسہ دینے اور دل کے ساتھ لگائے رکھنے کی ویڈیو وائرل
تجزیہ کاروں کے مطابق بل کلنٹن کا یہ بیان مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا، مذہبی امتیاز اور رواداری کی بدلتی ہوئی قدروں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے اور بین المذاہب مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔










