بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے دی گئی، تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی حکومت انہیں پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھگونت مان نے جمعے کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران بتایا کہ کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً پنجابی شاعر بابا بشیر حسین ناظمی نے انہیں لاہور آنے کی دعوت دی ہے اور میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب بھارتی حکومت انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے دورے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت کیسے دے گی؟
🚨🇮🇳 The Chief Minister of Indian Punjab has been invited to the World Punjabi Conference in Lahore on November 27. He joked that the Modi regime doesn’t even let him visit France and Japan, so how would Modi and RSS regime let him enter Pakistan?
The Speaker of the Indian… pic.twitter.com/bOrdmVs0Rq
— Powindah 💀 (@intel_view) October 24, 2026
بھگونت مان نے کہا کہ دونوں پنجابوں کی ثقافت مشترک ہے اور وہاں کے شاعر بھی لاہور جائیں گے، اس لیے وہ خود بھی کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو پاکستان جانے کی اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی ارکان اسمبلی کے ساتھ لے جائیں۔
اس پر بھگونت مان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسپیکر، حکومتی ارکان اور اپوزیشن سمیت تمام ارکان اسمبلی کرتارپور صاحب جائیں اور وہاں حاضری دیں، بشرطیکہ کرتارپور راہداری کھول دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بشن سنگھ بیدی: اسپن کا سردار، زندگی کی بازی گیا ہار
واضح رہے کہ لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس 27 سے 29 نومبر تک منعقد ہوگی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کانفرنس کا اہتمام پنجابی پرچار آرگنائزیشن، پنجابی لہراور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں نو ممالک سے مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔ بھگونت مان کی کانفرنس میں شرکت کا انحصار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہوگا۔










