ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل

ہفتہ 24 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں ڈیپ سیک اور منی میکس نے اپنے اے آئی ماڈلز کی عالمی سطح پر تعیناتی اور اوپن سورسنگ کے لیے رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے متعلقہ منظوری بھی حاصل کر لی ہے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے ضروری ضابطہ جاتی تقاضے پورے کر لیے ہیں، جس سے ان کی بیرونِ ملک تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی اے آئی ریسرچ کمپنی ’ڈیپ سیک‘ کے استعمال پر پابندی، وجہ کیا بنی؟

دریں اثنا، جمعے کے روز سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’یو یوان تان تیان‘ کی ایک الگ پوسٹ میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک انٹرنیٹ صارفین نے چین کے دیگر اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلز تیار کرنے والوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اسی طرز پر پیش رفت کریں۔

رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے مجوزہ برآمدی پابندیوں کا دائرہ ان اے آئی ماڈلز کی بیرونِ ملک تعیناتی تک پھیلایا گیا ہے جن میں محدود یا حساس ٹیکنالوجی شامل ہے۔

بیجنگ کا یہ اقدام واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی مقابلے کے تناظر میں قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھے جانے والے ٹولز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی محدود کرنے کی تازہ کوشش ہے۔

چین نے 16 اکتوبر کو اے آئی سے متعلق برآمدی کنٹرول کے نئے مجوزہ ضوابط متعارف کرائے تھے، جن میں 23 مختلف ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

ان میں اے آئی ماڈلز، ایجنٹس اور کمپیوٹنگ کلسٹرز بھی شامل ہیں، ان اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تکنیکی مقابلے کے دوران قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: چین نے ’ڈیپ سیک‘ کے بعد ’مینس‘ نامی حیران کن اے آئی ایجنٹ تیار کرلیا

تاہم، چینی وزارتِ تجارت کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے متعلق زیادہ تر ٹیکنالوجیز کی برآمد جاری رہے گی، اوپن سورس ٹیکنالوجی کی برآمدات اور بیرونِ ملک اپنے کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی چینی کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل بھی آسان بنایا جائے گا۔

وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ نئے ضابطہ جاتی فریم ورک میں اے آئی ماڈلز کے تکنیکی پیمانوں اور کمپیوٹنگ صلاحیت کے حجم کے حوالے سے حدود مقرر کی گئی ہیں، تاہم بیشتر اے آئی ٹیکنالوجیز بدستور برآمد کی جا سکیں گی۔

بالخصوص اوپن سورس منصوبوں اور بیرونِ ملک کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی کمپنیوں کے لیے آسان لائسنسنگ نظام برقرار رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میکسیکو  کی چیف الیکشن کمشنر بدعنوانی کے الزامات پر مستعفی

فرانس: طلبا نے حکومتی تجاویز مسترد کردیں، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کی اسکرین ٹوٹنے لگی، کمپنی کا متبادل فون دینے کا اعلان

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں