بھارت میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تربیت کے لیے مزدوروں کی روزمرہ سرگرمیوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
حجام، درزی اور گھریلو کام کرنے والے افراد اپنے سر پر کیمرے نصب کرکے کام کرتے ہیں، جس کی ویڈیوز ٹیکنالوجی کمپنیوں کو روبوٹس کی تربیت کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔
بنگلورو میں 22 سالہ محمد عاصم گزشتہ 4 برس سے بال کاٹنے اور داڑھی بنانے کا کام کر رہے ہیں، اب وہ روزانہ 5 سے 6 گھنٹے سر پر کیمرا باندھ کر اپنے کام کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سمٹ میں روبوٹ ڈاگ تنازع، بھارت کی تحقیق اور جدت پر سوالیہ نشان
کیمرے میں صرف ان کے ہاتھوں اور انگلیوں کی حرکات دکھائی دیتی ہیں، جبکہ گاہکوں کے چہرے دھندلا دیے جاتے ہیں۔
عاصم کے مطابق، اس کام سے انہیں اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بننے پر بھی خوش ہیں۔
这是印度 AI 手部动作工厂的视频,他们正在教AI,怎么替代自己的工作
同是牛马,感觉还挺悲凉的🥺🥺🥺
工人戴着摄像头工作
记录手上的动作,数据用来训练机器人
工人很担心,自己认真做的动作,训练机器,未来替代自己
但是,为了保住现在的工作和工资,又必须这么做 pic.twitter.com/Bre3EFDhhi
— 老谭 | AI · Crypto (@laotan) October 19, 2026
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ استرے سے بال تراشنے کی مہارت کسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
یہ ویڈیوز مختلف کمپنیاں جمع کرکے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے اداروں کو فروخت کرتی ہیں، ان کا مقصد ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنا ہے جو حقیقی دنیا میں روبوٹس کو انسانی انداز میں کام کرنے کے قابل بنا سکے۔
راشدان ٹیکنالوجیز کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ساحل بیگ کے مطابق، ان کی کمپنی صنعتی کاموں، زراعت، گھریلو سرگرمیوں، سلائی، کڑھائی اور دیگر ہنر سے متعلق ڈیٹا جمع کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: فیکٹریوں میں انسانوں کے بعد روبوٹس کا راج، دنیا بھر میں تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی
کمپنی 8 سے 10 گھنٹے کی ریکارڈنگ کے لیے 5 سے 10 ڈالر ادا کرتی ہے۔ تاہم، اب بعض صارفین ایک کے بجائے 4 سے 6 کیمرے نصب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے لیے کارکنوں کو زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
ہیومن لیبز کے بانی منیش اگروال کا کہنا ہے کہ روبوٹس کو حقیقی ماحول میں کام سکھانے کے لیے صرف کمپیوٹر پر تیار کردہ فرضی ماحول کافی نہیں، انہیں یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کتنی قوت سے پکڑنا ہے، مشین کیسے چلانی ہے اور مختلف جسمانی حرکات کیسے انجام دینی ہیں۔
’اس مقصد کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں گھنٹوں کی ویڈیوز جمع کرکے ان کی درجہ بندی اور جانچ کی جاتی ہے۔‘
The Indian workers training AI robots to take their jobs.
Paid to have a camera strapped to their foreheads, a growing army of thousands of AI system trainers in the world's most populous country are teaching machines how to move like humans in the real world – from folding… pic.twitter.com/Y7L6belJoc
— AFP News Agency (@AFP) June 11, 2026
دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہی ڈیٹا مستقبل میں بعض ملازمتوں کو خودکار بنانے اور انسانی کارکنوں کی جگہ روبوٹس لانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروفیسر بینو پال کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے لیے مؤثر حکومتی ضابطے اور انسانی نگرانی ضروری ہیں۔
بنگلورو میں کپڑوں کی سلائی اور کٹائی کرنے والے محمد ارمان کے لیے یہ کام اضافی آمدنی کا ذریعہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ بہار میں ان کے خاندان کو بھیجی جانے والی رقم اہم ہے، اس لیے وہ اپنا معمول کا کام کرتے ہوئے کیمرا پہننے کے بدلے ملنے والے اضافی معاوضے کو قبول کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’میں نے دنیا کی سب سے خوبصورت روبوٹ سے شادی کرلی‘، اے آئی روبوٹ کا اعلان
اسی طرح سائنس کی استاد جولی عارفور گھر کے کاموں کی ویڈیوز بنا کر فی گھنٹہ 2 سے 3 ڈالر کماتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، بھارت کو صرف ویڈیوز فراہم کرنے تک محدود رہنے کے بجائے ڈیٹا کی جانچ، تیاری اور معیار مقرر کرنے جیسے زیادہ قدر والے شعبوں میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔
یوں یہ صنعت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مستقبل کی ملازمتوں اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہی ہے۔









