روبوٹس کو کام سکھانے کے لیے بھارتی مزدوروں کی ویڈیوز، روزگار کا نیا موقع یا مستقبل کا خطرہ؟

ہفتہ 24 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تربیت کے لیے مزدوروں کی روزمرہ سرگرمیوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

حجام، درزی اور گھریلو کام کرنے والے افراد اپنے سر پر کیمرے نصب کرکے کام کرتے ہیں، جس کی ویڈیوز ٹیکنالوجی کمپنیوں کو روبوٹس کی تربیت کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔

بنگلورو میں 22 سالہ محمد عاصم گزشتہ 4 برس سے بال کاٹنے اور داڑھی بنانے کا کام کر رہے ہیں، اب وہ روزانہ 5 سے 6 گھنٹے سر پر کیمرا باندھ کر اپنے کام کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی سمٹ میں روبوٹ ڈاگ تنازع، بھارت کی تحقیق اور جدت پر سوالیہ نشان

کیمرے میں صرف ان کے ہاتھوں اور انگلیوں کی حرکات دکھائی دیتی ہیں، جبکہ گاہکوں کے چہرے دھندلا دیے جاتے ہیں۔

عاصم کے مطابق، اس کام سے انہیں اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بننے پر بھی خوش ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ استرے سے بال تراشنے کی مہارت کسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

یہ ویڈیوز مختلف کمپنیاں جمع کرکے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے اداروں کو فروخت کرتی ہیں، ان کا مقصد ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنا ہے جو حقیقی دنیا میں روبوٹس کو انسانی انداز میں کام کرنے کے قابل بنا سکے۔

راشدان ٹیکنالوجیز کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ساحل بیگ کے مطابق، ان کی کمپنی صنعتی کاموں، زراعت، گھریلو سرگرمیوں، سلائی، کڑھائی اور دیگر ہنر سے متعلق ڈیٹا جمع کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: فیکٹریوں میں انسانوں کے بعد روبوٹس کا راج، دنیا بھر میں تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی

کمپنی 8 سے 10 گھنٹے کی ریکارڈنگ کے لیے 5 سے 10 ڈالر ادا کرتی ہے۔ تاہم، اب بعض صارفین ایک کے بجائے 4 سے 6 کیمرے نصب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے لیے کارکنوں کو زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

ہیومن لیبز کے بانی منیش اگروال کا کہنا ہے کہ روبوٹس کو حقیقی ماحول میں کام سکھانے کے لیے صرف کمپیوٹر پر تیار کردہ فرضی ماحول کافی نہیں، انہیں یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کتنی قوت سے پکڑنا ہے، مشین کیسے چلانی ہے اور مختلف جسمانی حرکات کیسے انجام دینی ہیں۔

’اس مقصد کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں گھنٹوں کی ویڈیوز جمع کرکے ان کی درجہ بندی اور جانچ کی جاتی ہے۔‘

دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہی ڈیٹا مستقبل میں بعض ملازمتوں کو خودکار بنانے اور انسانی کارکنوں کی جگہ روبوٹس لانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔

ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروفیسر بینو پال کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے لیے مؤثر حکومتی ضابطے اور انسانی نگرانی ضروری ہیں۔

بنگلورو میں کپڑوں کی سلائی اور کٹائی کرنے والے محمد ارمان کے لیے یہ کام اضافی آمدنی کا ذریعہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ بہار میں ان کے خاندان کو بھیجی جانے والی رقم اہم ہے، اس لیے وہ اپنا معمول کا کام کرتے ہوئے کیمرا پہننے کے بدلے ملنے والے اضافی معاوضے کو قبول کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’میں نے دنیا کی سب سے خوبصورت روبوٹ سے شادی کرلی‘، اے آئی روبوٹ کا اعلان

اسی طرح سائنس کی استاد جولی عارفور گھر کے کاموں کی ویڈیوز بنا کر فی گھنٹہ 2 سے 3 ڈالر کماتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، بھارت کو صرف ویڈیوز فراہم کرنے تک محدود رہنے کے بجائے ڈیٹا کی جانچ، تیاری اور معیار مقرر کرنے جیسے زیادہ قدر والے شعبوں میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔

یوں یہ صنعت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مستقبل کی ملازمتوں اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی بدحالی بے نقاب، 627 اسکول غیرفعال، 11 پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں