خیبرپختونخوا میں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے متعدد بار تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور ہر سال داخلہ مہم چلانے کے باوجود صوبے کے 34 ہزار 784 سرکاری اسکولوں میں سے 26 اضلاع کے 627 اسکول غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے 299 اسکول ایسے ہیں جہاں نہ کوئی استاد تعینات ہے اور نہ ہی کوئی طالب علم زیرِ تعلیم ہے، جبکہ بند پڑے اسکولوں میں لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: 8 لاکھ بچوں کی گنجائش، پھر خیبرپختونخوا میں نئے ماڈل اسکولوں کی ضرورت کیوں؟
’وی نیوز‘ کو دستیاب دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 34 ہزار 784 سرکاری اسکول ہیں، جن میں 59 لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ تاہم غیر فعال اسکولوں میں لڑکیوں کے 524 اور لڑکوں کے 103 اسکول شامل ہیں۔ ان میں 580 پرائمری، 31 مڈل، 10 مکتب اور 6 ہائی اسکول ہیں۔
اساتذہ کی عدم دستیابی اور صفر داخلے
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی دستاویزات کے مطابق صوبے میں 207 اسکول اساتذہ کی کمی کے باعث غیر فعال ہیں، جہاں تدریسی عملے کی عدم تعیناتی کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں ہوسکیں۔ اس کے علاوہ 16 اسکول ایسے ہیں جن کی تعمیر حال ہی میں مکمل ہوئی ہے، تاہم محکمہ تعلیم نے اب تک وہاں تدریسی عملہ تعینات نہیں کیا۔
اسی طرح 66 اسکول طلبہ کے داخلے نہ ہونے کے باعث بند ہیں، جہاں تدریسی عملہ تو موجود ہے لیکن کوئی بچہ زیرِ تعلیم نہیں۔ دوسری جانب 28 اسکول حکومت اور اراضی مالکان کے درمیان تنازعات کے باعث بند پڑے ہیں۔ ان اسکولوں میں طلبہ بھی زیرِ تعلیم تھے اور تدریسی عملہ بھی تعینات تھا، تاہم حکومت اور اسکولوں کے لیے زمین فراہم کرنے والے مالکان کے درمیان تنازعات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ جبکہ 11 اسکولوں پر غیر قانونی قبضے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
سیاسی بنیادوں پر تعمیرات؟
ذرائع کے مطابق اسکولوں کی تعمیر سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور محکمہ تعلیم بھی اس عمل میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ آبادی سے دور، فزیبلٹی کا جائزہ لیے بغیر اسکول تعمیر کیے جاتے ہیں۔
’مذکورہ اسکولوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو دور دراز پہاڑی علاقوں میں ایسی جگہوں پر تعمیر کیے گئے جہاں یا تو آبادی موجود نہیں تھی یا طلبہ کی تعداد اسکول چلانے کے لیے ناکافی تھی۔ نتیجتاً ان عمارتوں کی تعمیر پر سرکاری وسائل خرچ ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں۔‘
کن کن اضلاع میں اسکولز غیر فعال ہیں؟
غیر فعال اسکولوں کی سب سے زیادہ تعداد جنوبی وزیرستان میں ہے، جہاں 119 اسکول بند ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان میں 111، بنوں میں 89، اپر کوہستان میں 68، کرم میں 51، لوئر کوہستان میں 29 اور خیبر میں 27 اسکول غیر فعال ہیں۔
اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور اورکزئی میں 22، 22، ہنگو میں 16، دتہ خیل میں 13 اور مہمند میں 12 اسکول بند پڑے ہیں۔
مانسہرہ اور ٹانک میں 7، 7، پشاور میں 5، چارسدہ اور سوات میں 4، 4، جبکہ کوہاٹ، کولئی پالس اور شانگلہ میں 3، 3 اسکول غیر فعال ہیں۔
اسی طرح باجوڑ، لکی مروت اور نوشہرہ میں 2، 2، جبکہ کرک، مردان اور صوابی میں ایک، ایک اسکول غیر فعال ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے 18 سرکاری اسکولوں کے 54 کمرے مخدوش، 6 اسکول ناقابل استعمال قرار
غیر فعال اسکولوں میں لڑکیوں کے 524 اسکول شامل ہیں، جو بند پڑے اسکولوں کی مجموعی تعداد کا 83 فیصد سے زائد ہیں۔
مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کے مطابق تمام محکموں کے منصوبوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، بالخصوص یہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کہ 2013 سے اب تک فنڈز کہاں اور کس طرح استعمال کیے گئے ہیں۔







